مىٹھے مىٹھے اسلامى بھائىو!

کسى کى اصلاح کرنا نہاىت ہى عمدہ کام ہے لىکن اصلاح کرتے وقت اس بات کا ضرور خىال رکھا جائے کہ اگلے شخص کى عزت نفس مجروح نہ ہو کىونکہ

ہے فلاں و کامرانى نرمى و آسانى مىں

ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانى مىں

آئىے! ہم اس سوال ( اصلاح کرنے کا انداز کىسا ہونا چاہىے) کو سىرت مصطفى صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جھلک مىں ملاحظہ کرتے ہىں،

چنانچہ حضرت سىدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہىں کہ اىک مرتبہ ہم نور کے پىکر تمام نبىوں کے سرور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ مسجد مىں موجود تھے کہ اىک اعرابى ( ىعنى دىہاتى ) آىا اور مسجد مىں کھڑے ہو کر پىشاب کرنا شروع کردىا۔جناب رسالت مآب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اصحاب نے اسے پکارا ،ٹھہرو ٹھہرو۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرماىا کہ اسے نہ روکو چھوڑ دو،صحابہ کرام علیہمُ الرِّضوان خاموش ہوگئےحتى کہ اس نے پىشاب کرلىا۔ پھر مبلغ اعظم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے بلا کر ( نرمى و شفقت) سے فرماىا، ىہ مساجد پىشاب اور گندگى کے لىے نہىں ىہ تو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر نماز اور تلاوت قرآن کے لىے ہے۔پھر آپ نےکسى کو پانى لانے کا حکم دىا اوروہ پانى کا ڈول اس ( ىعنى پىشاب کى جگہ) پر بہا دىا۔

(صحىح مسلم ص ۱۶۴، حدىث ۲۸۵ ، ماخوز از نىکى کى دعوت )

مفسر شہىر حکىم الامت مفتى احمد ىا ر خان نعىمى اس حدىث پاک کى شرح کرتے ہوئے آخر مىں فرماتے ہىں کہ اس مىں مبلغىن کو طرىقہ تبلىغ کى تعلىم ہے، کہ تبلىغ اخلاق اور نرمى سے ہونى چاہے۔

پىارے اسلامى بھائىو! دىکھا آپ نے کہ اصلاح کرنے کا انداز کىسا ہونا چاہىے۔ ىقىنا اصلاح کرنے کا انداز اىسا ہونا چاہىے کہ جس سے اگلا بندہ سمجھ بھى جائے اور اس کى عزت نفس بھى محفوظ رہے اور ہم سے بدظن بھى نہ ہو اللہ پاک ہمىں اچھے انداز مىں اصلاح کرنے کى توفىق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم