حرم سے کیا مراد ہے؟حرم سے مراد خانہ کعبہ کے ارد گرد کئی کلومیٹر پھیلا ہوا علاقہ ہے جہاں باقاعدہ نشانات وغیرہ لگا کر اسے ممتاز کردیا گیا ہے۔ جو لوگ حج و عمرہ کرنے جاتے ہیں انہیں عموما اس کی پہچان ہوجاتی ہے کیونکہ وہاں جاکر جب لوگوں کا عمرہ کرنے کا ارادہ ہوتا ہے تو عمرہ کرنے کے لئے حدود حرم سے باہر جاکر احرام باندھ کر آنا ہوتا ہے۔ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: یہ امت ہمیشہ خیر کے ساتھ رہے گی جب تک اس حرمت کی پوری تعظیم کرتی رہے گی اور جب لوگ اسے ضائع کر دیں گے ہلاک ہو جائیں گے۔

اللہ کا مقدس گھر مکہ پاک ہے جس کی بہت زیادہ تعظیم و توقیر کی جاتی ہے اور ہرشخص پر اس کی تعظیم کرنا اور اسکے حقوق ادا کرنا لازم ہے حرم مکہ کے بھی کچھ حقوق ہیں اور دین اسلام میں ان کے حقوق ادا کرنے کو کہا گیا ہے اور دینا سلام میں ان افعال سے بچنے کا بھی درس ملتا ہے جس سے حرم مکہ کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور حرم مکہ کے چند حقوق درج ذیل ہیں۔

(1) قتل نہ کرنا: خانہ کعبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پورے حرم کی حدود کو امن والا بنا دیا، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص قتل و جرم کرکے حدود حرم میں داخل ہوجائے تو وہاں نہ اس کو قتل کیا جائے گا اورنہ اس پر حد قائم کی جائے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہاگر میں اپنے والد خطاب کے قاتل کو بھی حرم شریف میں پاؤں تو اس کو ہاتھ نہ لگاؤں یہاں تک کہ وہ وہاں سے باہر آئے۔ (تفسیر مدارک، ص 714)

(2) گھاس نہ اکھیڑنا: حرم کی حد کے اندر تر گھاس اکھیڑنا، خودرو پیڑ کاٹنا، وہاں کے وحشی جانور کو تکلیف دینا حرام ہے۔ (ابن ماجہ، 3/519، حدیث: 311)

(3) ادب کرنا: مکہ معظمہ میں جنگلی کبوتر بکثرت ہیں ہر مکان میں رہتے ہیں، خبردار ہرگز ہرگز نہ اڑائے، نہ ڈرائے، نہ کوئی ایذا پہنچائے بعض ادھر ادھر کے لوگ جو مکہ میں بسے کبوتروں کا ادب نہیں کرتے، ان کی ریس نہ کرے مگر برا انہیں بھی نہ کہے کہ جب وہاں کے جانور کا ادب ہے۔ (بہار شریعت، 1/1086)

(4) خشوع و خضوع سے داخل ہونا: جب حرم مکہ کے متصل پہنچے سر جھکائے آنکھیں شرم گناہ سے نیچی کیے خشوع و خضوع سے داخل ہو اور ہوسکے تو پیادہ ننگے پاؤں اور لبیک و دعا کی کثرت رکھنا اور بہتر یہ کہ دن میں نہا کر داخل ہو، حیض و نفاس والی عورت کو بھی نہانا مستحب ہے۔ (مسلم، ص 706، حدیث: 3153)

(5) مکہ میں داخل ہونا: جب مکہ معظمہ میں پہنچ جائے تو سب سے پہلے مسجد الحرام میں جائے۔ کھانے پینے، کپڑے بدلنے، مکان کرایہ لینے وغیرہ دوسرے کاموں میں مشغول نہ ہو، ہاں اگر عذر ہو مثلاً سامان کو چھوڑتا ہے تو ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو محفوظ جگہ رکھوانے یا اور کسی ضروری کام میں مشغول ہوا تو حرج نہیں اور اگر چند شخص ہوں تو بعض اسباب اتر وانے میں مشغول ہوں اور بعض مسجدالحرام شریف کو چلے جائیں۔

اللہ ہمیں حرم مکہ اور اس سے نسبت رکھنے والی تمام چیزوں کا ادب کرنے اور بار بار کعبہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی باادب حاضری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبین