مکہ وہ مقدس شہر ہے جسے رحمۃ للعالمین ﷺ کا وطن اور آپ کی ولادت گاہ ہونے کا شرف حاصل ہے، یہیں سے اسلام کی آواز بلند ہوئی اور یہی اسلامی تعلیمات کا پہلا مرکز ہے اور مدینہ جہاں خود حضور ﷺکی تربت اطہر اور روضۂ انور ہے جس پر کروڑوں مسلمانوں کی جانیں قربان ہیں۔ جس کے راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں اس میں نہ دجال آئے نہ طاعون ان مقدس مقامات کی زیارت و طواف کعبہ اور روضۂ رسول پر حاضر ہو کر دست بستہ صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کی سعادت پانا بہت خوش نصیبی کی بات ہے لہٰذا جس خوش نصیب کو بھی یہ سعادت نصیب ہوتو اسے چاہئے کہ وہ ہر قسم کی خرافات و فضولیات سے بچتے ہوئے اس سعادت سے بہرہ ور ہونے کے لئے ذیل میں دئیے گئے آداب کو مدنظر رکھے۔

حرم مکہ کےآداب:

(1)جب حرم مکہ کے پاس پہنچیں تو شرم عصیاں سے نگاہیں اورسر جھکائے خشوع و خضوع سے حرم میں داخل ہوں۔ (2)اگر ممکن ہو تو حرم میں داخل ہونے سے پہلے غسل بھی کرلیں۔ (3)حرم پاک میں لبّیک و دعا کی کثرت رکھیں۔ (4)مکۃ المکرّمہ میں ہر دم رحمتوں کی بارشیں برستی ہیں۔ وہاں کی ایک نیکی لاکھ نیکیوں کے برابر ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ وہاں کا ایک گناہ بھی لاکھ کے برابر ہے۔ افسوس! کہ وہاں بدنگاہی، داڑھی منڈانا، غیبت، چغلی، جھوٹ، وعدہ خلافی، مسلمان کی دل آزاری، غصّہ و تلخ کلامی وغیرہا جیسے جرائم کرتے وقت اکثر لوگوں کویہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم جہنّم کا سامان کر رہے ہیں۔

مسجدالحرام کے آداب:

جب خانۂ کعبہ پر پہلی نظر پڑے تو ٹھہر کرسچےدل سے اپنے اور تمام عزیزوں، دوستوں، تمام مسلمانوں کے لئے مغفرت و عافیت اور بلا حساب داخلۂ جنّت کی دعا کرے کہ یہ عظیم اجابت و قبول کا وقت ہے۔ امیراہل سنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: چاہیں تو یہ دعا مانگ لیجئے کہ یااللہ میں جب بھی کوئی جائز دعا مانگا کروں اور اس میں بہتری ہو تو وہ قبول ہوا کرے ۔ علامہ شامی قدس سرّہ السّامی نے فقہائے کرام رحمہم اللہ السّلام کے حوالے سے لکھا ہے: کعبۃ اللہ پر پہلی نظر پڑتے وقت جنت میں بے حساب داخلے کی دعا مانگی جائے اور درود شریف پڑھاجائے۔ (ردالمحتار، 3 / 575، رفیق الحرمین، ص91)

وہاں چونکہ بہت لوگ ہوتے ہیں اس لئے استلام کرنے یا مقام ابراہیم پر یا حطیم پاک میں نوافل ادا کرنے کے لئے لوگوں کو دھکے دینے سے گریز کریں اگر بآسانی یہ سعادتیں میسر ہو جائیں تو صحیح، ورنہ ان کے حصول کے لئے کسی مسلمان کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں۔

جب تک مکّہ میں رہیں خوب نفلی طواف کیجئے اورنفلی روزے رکھ کر فی روزہ لاکھ روزوں کا ثواب لوٹیے۔

مسجد نبوی شریف کی احتیاطیں:

مدینۂ منوّرہ پہنچ کر اپنی حاجتوں اور کھانے پینے کی ضرورتوں سے فارغ ہوکر تازہ وضو یا غسل کرکے دھلا ہوا یا نیا لباس زیب تن کیجئے، سرمہ اور خوشبو لگائیےاور روتے ہوئے مسجد میں داخل ہوکرسنہری جالیوں کے روبرو مواجھہ شریف میں(یعنی چہرۂ مبارک کے سامنے) حاضر ہوکر دونوں ہاتھ نماز کی طرح باندھ کر چار ہاتھ (یعنی تقریباً دو گز) دور کھڑے ہوجائیے اور بارگاہ رسالت میں خوب صلوٰۃ و سلام پیش کیجئے، پھر حضرت ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام پیش کیجئے۔

سنہری جالی مبارک کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچئے کہ یہ خلاف ادب ہے۔

ادھر ادھر ہرگز نہ دیکھئے۔ دعا بھی مواجہہ شریف ہی کی طرف رخ کئے مانگئے۔ بعض لوگ وہاں دعا مانگنے کے لئے کعبے کی طرف منہ کرنے کو کہتے ہیں، ان کی باتوں میں آکر ہرگز ہرگز سنہری جالیوں کی طرف آقا ﷺ کو یعنی کعبے کے کعبے کو پیٹھ مت کیجئے۔ یہاں آواز اونچی ہرگزنہ کیجئے۔ صلوٰۃ وسلام کے صیغے اور دعائیں زبانی یاد کر لینا مناسب ہے، کتاب سے دیکھ کر وہاں پڑھنا عجیب سا لگتا ہے۔ مدینۂ منورہ میں روزہ نصیب ہو خصوصاً گرمی میں تو کیا کہناکہ اس پر وعدۂ شفاعت ہے۔ مدینے میں ہر نیکی ایک کی پچاس ہزار لکھی جاتی ہیں۔ لہٰذا نماز و تلاوت اور ذکر و درود میں ہی اپنا وقت گزارئیے۔ قرآن مجید کا کم سے کم ایک ختم مکّۂ مکرمہ اور ایک مدینۂ طیبہ میں کرلیجیئے۔

زیارات حرمین طیبین کی احتیاطیں:

فرمان مصطفےٰ ﷺ ہے: اپنی مسجدوں کو (ناسمجھ) بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو۔ (ابن ماجہ، 1 / 415، حدیث: 750ملخصاً) مساجد میں شور کرنا گناہ ہے اور ایسے بچوں کو لانا بھی گناہ ہے جن کے بارے میں یہ غالب گمان ہو کہ پیشاب وغیرہ کردیں گے یا شور مچائیں گے، لہٰذا زائرین سے عرض ہے کہ حدیث میں بیان کردہ شرعی حکم پر عمل کرتے ہوئے چھوٹے بچوں کو ہر گز مسجدین کریمین (یعنی مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں نہ لائیں۔

مسجد حرام و مسجد نبوی میں موبائل کے بےجا استعمال، بے مقصد سیلفیاں لینے یا فضول گوئی میں مگن ہونے کے بجائے وہاں خود کو ہر دنیاوی تعلق سے علیحدہ کر کے بیت اللہ شریف اور گنبد خضرا کی زیارت، خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت اور ذکرو دعا وغیرہ میں مشغول رہیں کہ پھر نہ جانے یہ سعادتیں میسر ہوں نہ ہوں۔ وہاں کئی مقامات مقدّسہ ہیں کہ جن کی زیارت سے روح ایمان کو جلا ملتی ہے، لیکن کچھ محروم لوگ یہ زیارتیں کرنے کے بجائے شاپنگ سینٹرز یا تفریحی مقامات کی زینت بن جاتے ہیں، کم از کم وہاں حتّی الامکان ان فضولیات سے بچنے کی کوشش کریں۔ مکے مدینے کی زیارتیں کرتے وقت کسی سے بحث مباحثہ یا دھکم پیل سے گریز کریں اور جس قدر سہولت کے ساتھ میسر ہو اسی پر اکتفا کریں۔ مکے مدینے کی گلیوں میں جہاں کوڑے دان رکھے ہیں انہیں استعمال کیجئے۔ اس کے علاوہ عام راستوں اور گلیوں میں تھوکنے یا کچرا وغیرہ پھینکنے سے بچیں کہ ان گلیوں کو ہمارے پیارے آقا ﷺ سے نسبت ہے۔ جنّت البقیع و جنّت المعلیٰ کے کئی مزارات شہید کر دئیے گئے ہیں اور اندر داخل ہونے کی صورت میں کسی عاشق رسول کے مزار پر پاؤں پڑ سکتا ہے جبکہ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ عام مسلمان کی قبرپر بھی پاؤں رکھنا ناجائز ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، 5 / 349ملخصاً) لہٰذا ان دونوں متبرک مقامات پر باہر ہی سے سلام عرض کیجئے۔

اللہ پاک تمام مسلمانوں کو حرمین شریفین کی باادب حاضریاں نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین