باادب بانصیب

Wed, 23 Sep , 2020
1 year ago

انسانی زندگی کے شب و روز کے اعمال مثلاً رہن سہن، میل جول اور لین دین کے عمدہ اصول و ضوابط کو آداب کہا جاتا ہے۔

ان آداب کی پابندی سے ہی انسان تہذیب یافتہ اور شائستہ لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ قراٰنِ مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السَّلام اور جادوگروں کا واقعہ بیان کیا گیا۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ(۱۱۵)

تَرجَمۂ کنزُالایمان:بولے اے موسیٰ یا تو آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں۔([1])

تفسیرِ صِراطُ الجنان میں ہے کہ جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کا یہ ادب کیا کہ آپ کو مقدّم کیا اور آپ کی اجازت کے بغیر اپنے عمل میں مشغول نہ ہوئے، اس ادب کا عوض انہیں یہ ملا کہ اللہ پاک نے انہیں ایمان و ہدایت کی دولت سے سرفراز فرما دیا۔([2])

٭تمام نبیوں کے سرور، حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے اَنس! بڑوں کا ادب و احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنّت میں میری رفاقت پالو گے۔([3])

٭مشہور فقہی امام، عاشقِ رسول حضرتِ سَیّدُنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے 17برس کى عمر سے ہی دَرسِ حدیث دینا شروع کردیا تھاحالانکہ 17سال کی عمر میں تقریباً جوانى کا آغاز ہی ہوتا ہے۔ جب حدىثِ پاک سنانى ہوتى تو پہلے غسل کرتے، چوکى یعنی مسند بچھائى جاتى اور آپ عمدہ لباس پہن کر خوشبو لگا کر نہایت عاجزى کے ساتھ اپنے مُبارَک کمرے سے باہر تشرىف لا کر اس چوکی پر بااَدب بىٹھتے۔ دَرسِ حدىث کے دَوران کبھى پہلو نہ بدلتے جىسے ہم لوگ بیٹھے بیٹھے کبھی ٹانگ اونچى کرتے ہیں اور کبھی نىچے تو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ دَرسِ حدىث کے دَوران کبھى پہلو نہ بدلتے تھے۔ جب تک اس مجلس مىں اَحادىثِ مُبارَکہ پڑھى جاتىں تو انگىٹھى مىں عُود اور لوبان سلگتا رہتا، خوشبو آتی رہتى۔([4])

٭اسی طرح ہمارے اسلافِ کرام بھی ادب کو اپنی زندگی کا حصہ بنا چکے تھے۔ ”اَلخَیراتُ الحِسان“ میں ہے: حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ زندگی بھر اپنے استاذِ محترم سیِّدُنا امام حمّاد رحمۃ اللہ علیہ کے مکانِ عَظَمت نشان کی طرف پاؤں پھیلا کر نہیں لیٹے حالانکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مکانِ عالی شان اور استاذِ محترم رحمۃ اللہ علیہ کے مکانِ عظیمُ الشّان کے درمِیان تقریباً سات گلیاں پڑتی تھیں۔([5])

کسی دانا کا قول ہے:مَا وَصَلَ مَنْ وَصَلَ اِلَّا بِالْحُرْمَۃِ یعنی جس نے جو کچھ پایا اَدب واحترام کرنے کےسبب ہی پایا ۔([6])

ادب وہ انمول چیز ہے کہ جس کی تعلیم خود ربِّ کائنات نے اپنے مدنی حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ارشاد فرمائی چُنانچہ نبیِّ اکرم، نورِ مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اَدَّبَنِيْ رَبـِّيْ فَاَحْسَنَ تَاْدِيْبِـيْ یعنی مجھے میرے ربّ نے ادب سکھایا اور بہت اچّھا ادب سکھایا۔([7])

مشہور کہاوت ہے کہ”با ادب با نصیب“ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ دِل و جان سے اللہ پاک کے ولیوں کا ادب بجالائے کیونکہ ادب انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابیاں اور عزّت و شہرت دلواتا ہے۔

بنتِ عبدالجبار بلوچ عطاریہ مدنیہ

(جامعۃ ُالمدینہ فیض ِمکہ کراچی)



([1])پ 9،الاعراف: 115

([2])صراط الجنان،3/404

([3])شعب الایمان، 7/458، حدیث: 10981

([4])الروض الفائق، ص 213 ، الشفا،2/45، بستان المحدثین،ص19

([5])الخیرات الحسان،ص 82

([6])راہِ علم مترجم،ص29

([7])جامع صغیر، ص25،حدیث: 310