قرآن شریف میں میں ہے:اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)ترجَمۂ کنزُالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا ما کان وما یکون کا بیان اُنہیں سکھایا۔(پ 27،رحمٰن:1 تا 4)

(1) سید اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: إِنَّ الْعُلْمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ. إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوْا دِيْنَارًا، وَلَا دِرْهَمًا۔ترجمہ: بے شک علماء، انبیاء کرام f کے وارث ہیں۔ انبیاء کرام fنے وارثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے اپنی میراثِ علم چھوڑی۔

(2) حضرت سہل بن عبداللہ تُستری رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص مجالسِ انبیاء کو دیکھنا چاہتا ہے وہ مجالس علما کو دیکھ لیا کریں۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ ترجمۂ کنزالایمان: اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔(پ 28، مجادلہ : 11)

(3) سرکار اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے کہ علماء حق زمین میں ان ستاروں کی طرح ہیں جن کے ذریعے بحر و بر کے اندھیروں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ جب ستارے غروب ہو جائیں تو یقیناً ان ستاروں سے رہنمائی حاصل کرنے والے بھٹک جائیں گے۔( علماءحق نے ہوگی تو عوام گمراہ ہو جائیں گے)۔

(4) نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا جن میں سے ایک عابد اور دوسرا عالم تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: عابد پر عالم کی فضیلت اس طرح ہے جس طرح میری فضیلت تم میں سے ایک ادنیٰ پر ہے۔

(5) نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :بے شک اللہ پاک اس کے فرشتے تمام زمین اور آسمان والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلیاں اپنے پانی میں بھی اس شخص کے لئے ،جو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ رحمت طلب کرتی ہے۔( اسے امام ترمذی اور دارمی نے روایت کرتے ہیں)