19 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

سالانہ معمول کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب غلاف کعبہ تبدیل کردیاگیا۔ خانہ کعبہ کو غسل دینے اور غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب کا آغاز نمازِعشا کی ادائیگی کے بعد ہواجو نماز فجر تک جاری رہی۔ غلافِ کعبہ کی تبدیلی کا کام بار ش کے دوران بھی جاری رہا۔

عرب خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق پرانا غلاف اتار کر نیا غلاف کعبے پر چڑھایا گیا، یہ کام کئی اداروں کے تعاون سے انجام دیا گیا ہے۔ غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے دوران تما م احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔

اس سے قبل غلاف کعبہ کو قافلے کی شکل میں اسپیشل ٹرک کے ذریعے کسوۃ کمپلیکس سے منتقل کیا گیا۔ غلاف کعبہ کی حفاظت اور کسی بھی قسم کے نقصان سے حفاظت کے لیے ٹرک کے اندرونی حصے میں خاص مادے کا لیپ کیا گیا تھا۔

اسپیشل ٹرک کے ہمراہ تکنیکی ٹیم اورموبائل ورکشاپ بھی موجود تھی۔ کسوۃ کمپلیکس کے ہیڈ کوارٹر سے مسجد الحرام تک غلاف کعبہ کے کاریگر اور ہنرمند جبکہ غلافِ کعبہ کمیٹی کے ارکان کاررواں کے ساتھ چل رہے تھے۔ غلاف کعبہ مسجدالحرام پہنچایا گیا جہاں غلاف کعبہ کی تبدیلی میں ہرسال کی طرح ایک سو ساٹھ ماہر کارکنان نے حصہ لیا۔

غلاف کعبہ کی تیاری کے مراحل:

نئے غلاف کی تیاری میں 670 کلو گرام خالص ریشم،120 کلو گرام خالص سونے اور100 کلو گرام چاندی کے دھاگے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سونے کے دھاگوں سے قرآنی آیات کی کڑھائی ہوتی ہے۔ ریشم خصوصی طور پر ا ٹلی سے درآمد کیا جاتا ہے جبکہ سونے اور چاندی کا پانی چڑھے دھاگے جرمنی سے منگوائے جاتے ہیں۔ غلاف کعبہ کی تیاری پر ایک اندازے کے مطابق 22 ملین ریال سے زائد لاگت آتی ہے۔ کسوۃ کمپلیکس میں 200 سے زیادہ ماہرین غلافِ کعبہ کی تیاری میں حصہ لیتے ہیں۔

نیا غلاف کعبہ چار برابر پٹیوں اور ستار الباب پر مشتمل ہے۔ خانہ کعبہ کے چاروں اطراف کی پٹیوں کو الگ الگ تیار کیا جاتا ہے۔ تبدیلی کے عمل کے دوران سب سے پہلےحطیم کی طرف سے غلاف کعبہ کو کھولا جاتا اس کی جگہ نیا غلاف ڈالا جاتا ہے۔ غلاف کعبہ کو اوپر سے نیچے کی طرف پھیلایا جاتا ہے۔

’ اللہ اکبر‘ کے الفاظ پر مشتمل پانچ شمعیں حجر اسود کے اوپر باب کعبہ کے بیرونی پردے پر لگائی جاتی ہیں۔ آخری مرحلے میں کعبہ کے دروازے کا پردہ تبدیل کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب عرب شریف میں مناسکِ حج کا آغاز ہو گیا ہے۔ عازمینِ حج کے قافلے مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچ گئے ہیں۔

مناسک حج کی ادائیگی کے لیے محدود پیمانے پر ایک ہزار عازمینِ حج منی پہنچے ہیں۔ فرض نمازوں کے علاوہ نفلی عبادات بھی کی جارہی ہیں۔

وزارتِ صحت کی جانب سے پچاس عازمین حج کو ایک ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی سہولت دی گئی ہے۔

عازمین رات منیٰ میں گزارنے کے بعد فجر کی نماز ادا کرکے میدان عرفات روانہ ہونگے جہاں وہ حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے۔

منی روانگی سے قبل احرام باندھے عازمین نے مسجد الحرام میں نوافل ادا کیے اور حرم میں سماجی فاصلہ اختیار کرتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔