اللہ پاک کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں علمائے کرام کی نعمت سے نوازا ۔ ان علمائے کرام کے صدقے سے ہمیں کفر و شرک سے محفوظ رکھا۔ انہی کے ذریعے دنیائے اسلام کو عروج بخشا۔ ان علمائے کرام کے ذریعے ہی ہمیں راہ راست دکھایا اور ان کی شان کو خوب بلند و بالا فرمایا۔

علما کے فضائل پر چند فرامینِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پیش خدمت ہے:۔

(1) العلماء وارث الانبیاء ترجمہ: علما انبیاء کے وارث ہے اور انبیاء کرام وراثت میں مال نہیں، علم چھوڑ گئیں۔

(2) ترمذی نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر ہوا ایک عابد دوسرا عالم آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ کَفَضْلِيْ عَلى اَدْنَاکُمْ ترجمہ : بزرگی عالم کی عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے کمتر پر۔

(3) بیہقی روایت کرتے ہیں کہ ایک مقام پر اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں: کیامیں تمہیں سب سے زیادہ جود وکرم والے کے بارے میں آگاہ نہ کردوں ؟ اﷲتعالی سب سے زیادہ کریم ہے اور میں اولاد آدم میں سب سے بڑا سخی ہوں اورمیرے بعدوہ شخص ہے جس کو علم عطا کیا گیا ہو اور اس نے اپنے علم کو پھیلایا قیامت کے دن اس کو ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا۔

(4) امام ذہبی نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: قیامت کے دن علما کی دواتوں کی سیاہی اور شہیدوں کا خون تولا جائے گا روشنائی ان کی دوا تو کے شہیدوں کے خون پر غالب آ جائے گی اور معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص طلب علم میں سفر کرتا ہے فرشتے اپنے بازؤں سے اس پر سایہ کرتے ہیں اور مچھلیاں دریا میں اور آسمان و زمین اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔

دیکھا آپ نے اللہ پاک نے علما کو بے شمار فضائل سے نوازا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان علماء کرام کی بارگاہ میں حاضری دیتے رہیں۔ اپنے آپ کو اور اپنے احباب کو ان کے فیضان سے مالا مال کریں۔ عالم کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔

(5) امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ نے روایت کیا کہ عالم کو ایک نظر دیکھنا سال بھر کی نماز اور روزہ سے بہتر ہے۔ (منہاج العابدین)

اے میرے پیاروں آپ سے عرض ہے کہ علمائے کرام کی عزت کرے اور ہو سکے تو اپنی اولاد کو بھی علم دین کے حصول کے لئے بھیجے۔ آپ کا یہ عمل ہو سکتا ہے آپ کی بخشش کا سامان بنے اور عین ممکن ہے کہ انہی کے صدقے ہمیں اور آپ کو جنت میں داخل فرما دے۔ احیاء العلوم میں مرفوعاً روایت ہیں کہ خدائے پاک قیامت کے دن عابدوں اور مجاہدوں کو حکم دے گا بہشت ( جنت) میں جاؤ۔ علما عرض کریں گے: الٰہی انہوں نے ہمارے بتلانے سے عبادت کی اور جہاد کیا ۔حکم ہوگا تم میرے نزدیک بعض فرشتوں کے مانند ہو شفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہو۔ پس علما پہلے شفاعت کریں گے پھر بہشت ( جنت) میں جاویں گے۔

اللہ پاک ہمیں بھی اپنے دین کی سمجھ اپنے دین کا علم عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کی شفاعت کے سبب جنت میں داخل فرمائے۔ برائے کرم اپنی اولاد کو عالم بنائے اور انہیں اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔

آخر میں اللہ پاک سے یہی دعا ہے کہ ہمیں علما کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم