پیارے پیارے اسلامی بھائیو !  اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(پ 22،فاطر:28)

علمائے دین عوام الناس کے لئے علم دین کا سرچشمہ ہوتے ہیں جن سے علوم دین کے پیاسے اپنی علم کی پیاس بجھاتے ہیں۔ آئیے علمائے دین کی شان میں پانچ فرامینِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سنتے ہیں:۔

حدیث (1) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: قىامت کے دن علما کى دَواتوں کى سىاہى اور شہىدوں کا خون تولا جائے گا رُوشنائی (سیاہی) ان کى دواتوں کى شہىدوں کے خون پر غالب آئے گى۔( جامع بیان العلم و فضلہ، ص48، حدیث : 139)

حدیث (2) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے۔(ترمذی،4/311،حدیث:2690)

حدیث (3) رحمت عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: علما کی مثال یہ ہے کہ جیسے آسمان میں ستارے جن سے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ کا پتہ چلتا ہے اور اگر ستارے مٹ جائے تو راستہ والے بھٹک جائیں گے۔(مسند امام احمد،4/314،حدیث:126)

حدیث (4) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ویسی ہے جیسی میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر، اس کے بعد پھر ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک اور اس کے فرشتے اور تمام آسمان و زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور یہاں تک کہ مچھلی اس کی بھلائی کے خواہاں ہیں، جو لوگوں کو اچھی چیز کی تعلیم دیتا ہے ۔(جامع ترمذی،4/313، حدیث:2694)

حدیث (5) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اچھا شخص وہ عالم دین ہے کہ اگر اس کی طرف احتیاج لائی جائے تو نفع پہنچاتا ہے اور اس سے بے پرواہی کی جائے تو وہ اپنے کو بے پرواہ رکھتا ہے۔(مشکاۃ المصابیح،1/115،حدیث:251)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں علماء کرام کا ادب و احترام کرنا چاہیے اور ہمیں بھی عالم دین بن کر ان فضائل کو حاصل کرنا چاہیے کیونکہ یہی وہ چیز ہے کہ اس سے انسانی زندگی کامیاب وخوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے آخرت سدھرتی ہے۔