Under the supervision of Dawat-e-Islami, a Madani Mashwarah of
responsible Islamic sisters was held in Milan Division, Italy on 2nd
February 2021 via Skype. Division Nigran Islamic sister analysed the
Kaarkardagi
(performance) of
the attendees
(Islamic sisters), did
their Tarbiyyah and provided them the essential points on improving the Madani
activities and the weekly performances. Moreover, she gave them Ahdaaf (targets) to do their best for annual donations.
جو
چیزیں نماز میں واجب مانی گئی ہیں، ان میں سے جب کوئی واجب بُھولے سے رہ جائے تو
اس کی تلافی کے لیےسجدہ سہو واجب ہے۔
سجدہ سہو واجب ہونے کی صورتیں درج ذیل ہیں:
1۔جان
بوجھ کر واجب چھوڑ دیا یا سہواً واجب چھوٹ گیا اور سجدہ سہو نہ کیا تو دونوں
صورتوں میں نماز کا دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔
2۔فرض
ونفل دونوں کا ایک حُکم ہے، یعنی نوافل میں بھی واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب
ہے۔
3۔تعدیلِ
ارکان (یعنی رکوع، سجود، قومہ، جلسہ میں کم از کم ایک بار "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار ٹھہر نا)
بھول گئے تو سجدہ سہو واجب ہے۔
4۔وتر
کی نماز میں شک ہوا کہ دوسری ہے یا تیسری تو اِس آخری رکعت میں دعائے قُنوت پڑھ
کر، قعدہ کے بعد ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں بھی دعائے قُنوت پڑھے اور سجدہ سہو
کرے۔
5۔
ایک نماز میں چند واجب ترک ہوئے ، تو وہی دو سجدے کافی ہیں۔
6۔التحیات
پڑھنے کی مقدار قعدہ اخیرہ کر چکی تھی اور کھڑی ہو گئی، تو جب تک اس رکعت کا سجدہ
نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دے، اس حالت میں سجدہ سہو سے پہلے
التحیات نہ پڑھے۔
7۔
قعدہ اولیٰ میں التحیات کے بعد اتنا پڑھا، "اللھم صلی علی محمد" تو سجدہ سہو واجب
ہے، اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھابلکہ ا س وجہ سے کہ تیسری رکعت کے قیام میں
دیر لگی، اگر اِتنی دیر خاموش رہتی تب بھی سجدہ سہو واجب ہوتا۔
8۔فرض
کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی کسی رکعت میں سورۃ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت
سے پہلے ہی دوبارہ الحمد
پڑھ لی یا پہلے سورت پڑھی اور بعد میں الحمد
پڑھی تو ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔
9۔
قعدہ ا خیرہ بھُول گئی ، تو جب تک اس رکعت
کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرے۔
10۔یونہی
واجباتِ نماز میں رَدوبدل کر دیا یا ان میں ترتیب چُھوٹ گئی، تو ان سب صورتوں میں
سجدہ سہو واجب ہے۔(سُنْی بہشتی زیور)
The course
‘Blessings of Zakat’ held in La Salut (Barcelona Division, Spain)
Under the
supervision of ‘Majlis short courses for Islamic sisters’, a course, namely
‘Blessings of Zakat’ was held in La Salut (Barcelona Division, Spain) in previous days.
Approximately, 16 Islamic sisters had the privilege of attending this spiritual
course.
In the course,
the attendees
(Islamic sisters) were
explained about the different methods of collecting donations. Moreover, in
order to avoid Shara’i mistakes, responsible Islamic sisters took the test from
the books, ‘Chanday kay Baray Main Sawal Jawab’ and ‘Chanda karnay ki Shara’i
Ahtiyaatein’.
1۔واجباتِ نماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے
سے رہ جائے تو سجدہ سہو واجب ہے ۔
(درمختار ،جلد 2، ص
600)
2۔اگر سجدہ سہو واجب ہونے کے باوجود نہ کیا
تو نماز لوٹانا واجب ہے۔(ایضاً)
3۔جان بُوجھ کر واجب ترک کیاتو سجدہ سہو کافی
نہیں بلکہ نماز دوبارہ لوٹانا واجب ہے۔(ایضاً)
4۔کوئی ایسا واجب ترک ہوا جو واجباتِ نماز سے
نہیں بلکہ اس کا وُجوب اَمرِ خارج سے ہوتو سجدہ سہو واجب نہیں، مثلاً خلافِ ترتیب
قرآن پڑھنا ترکِ واجب ہے، مگر اس کا تعلق واجباتِ نماز سے نہیں، بلکہ واجباتِ
تلاوت سے ہے، لہذا سجدہ سہو نہیں (البتہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہو تو اس سے توبہ
کرے)۔(درالمختار ج 2، ص 600)
5۔فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے، سجدہ
سہو سے اُس کی تلافی نہیں ہو سکتی، لہذا دوبارہ پڑھیے۔(ایضاً، غنیہ ص400)
6۔سُنتیں یا مُستحبات مثلاً ثنا،تعوذ،تسمیہ،آمین،تکبیرات، انت قالات(یعنی سجود وغیرہ میں جاتے اُٹھتے وقت کہی
جانے والی اللہ
اکبر)اور تسبیحات کے تَرک سے
سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، نماز ہو گئی، مگر دوبارہ پڑھ لینا مستحب ہے، بُھول کر
ترک کیا ہو یا جان بوجھ کر۔
(بہارِ شریعت، حصہ
4، ص8)
7۔نماز میں اگرچہ دس واجب ترک ہوئے، سہو کے دو
ہی سجدے سب کے لئے کافی ہیں۔(ردالمختار، جلد 2، ص 600،بہارِ شریعت، حصہ 4، ص 9)
8۔تعدیلِ ارکان (مثلاً رکوع کے بعد کم ازکم
ایک بار سبحان
الله کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا
ہونایا دو سجدوں کے درمیان ایک بار سبحان الله کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئی، سجدہ سہو واجب
ہے ۔(عالمگیری، جلد 1، ص 128)
9۔قُنوت یا تکبیرِ قُنوت (یعنی وِتر کی تیسری
رکعت میں دعائے قنوت پڑھنے کے لئےجو تکبیر کہی جاتی ہے وہ اگر ) بھول گئی، تو سجدہ
سہو واجب ہے۔ (ایضاً، ص128)
10۔قراءَت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین
مرتبہ سبحان
الله کہنے کا وقت گزر گیا تو
سجدہ سہو واجب ہو گیا ۔ (رد المختار، ج2، ص 688)
Under the supervision of Dawat-e-Islami, Sunnah-inspiring Ijtima’at were
held in Barcelona Division, Spain in the previous week. These areas included Paralel,
Virrei Amat, La Salut, Artigues, Trinitat, Santa Coloma, Besos, Sant Crist and
Montcada. Approximately, 284 Islamic sisters had the privilege of attending these
spiritual Ijtima’at.
The female preachers of Dawat-e-Islami delivered Bayans on the topic
‘what has the world given us?’ and motivated the attendees (Islamic
sisters) to
keep associated with the religious environment of Dawat-e-Islami for the
preparation of the Judgement Day and take part in the religious activities
practically.
سجدہ سہو واجب ہونے کی تعریف:
واجب
ترک ہوگا تو سجدہ سہو واجب ہو جائے گا۔
(1)
واجباتِ نماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے، تو سجدہ سہو واجب ہے۔
( در مختار،
ج 2، ص600، اسلامی بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 129)
(2)
جان بوجھ کر واجب ترک کیا تو سجدہ سہو کافی نہیں، بلکہ نماز دوبارہ لوٹانا واجب ہے۔
(ايضاً ، اسلامی بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 129)
(3)
تعدیلِ ارکان بھول گیا، سجدہ سہو واجب ہے۔
( عالمگیری،بہار شریعت جلد اول حصہ4، صفحہ نمبر67)
(4)تعدیلِ
ارکان مثلاً ( رکوع کے بعد کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا ہونا یا
دو سجدوں کے درمیان ایک بار سبحان اللہ
کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔( عالمگیری، ج 1، ص128،اسلامی
بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 130)
(5)قُنوت
یا تکبیرِ قُنوت( یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراءَت کے بعد قُنوت کے لیے جو تکبیر
کہی جاتی ہے ) وہ اگر بھول گئی، سجدہ سہو واجب ہے ۔
(ايضاً ص128، اسلامی بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 130)
(6)قراءَت
وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ سبحان اللہ
کہنے کا وقفہ گزر گیا، سجدہ سہو واجب ہو گیا۔ ( دار مختاری 2، ص688، اسلامی بہنوں
کی نمازحنفی، صفحہ 131)
(7)
فرض اور نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدہ سہو
واجب ہے ۔( عالمگیری، بہار شریعت ، جلد اول، حصہ4 ، صفحہ نمبر66)
(8)
عیدین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا یا زائد کہیں یا غیر ِمحل میں کہیں، ان سب
صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔( عالمگیری،بہار شریعت ، جلد اول، حصہ4 ، صفحہ نمبر70)
(9)
رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع یا کسی اپسے رُکن کو دوبارہ کیا، جو
نماز میں مُکررمشروع نہ تھا یا کسی رُکن
کو مُقدّم کیا یا مؤخر کیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔
( عالمگیری، بہار شریعت ، جلد اول، حصہ4 ، صفحہ نمبر70)
(10)
فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل وتر کی کسی رکعت میں سورۃ الحمد ایک بھی آیت رہ گئی یا سورت سے
پیشتر دو بار الحمد پڑھی یا
سورت ملانا بھول گیا یا سورہ فاتحہ پر مقدّم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا، پھر یاد
آیا اور لوٹا اور تین آیتیں پڑھ کر رکوع کیا،
تو ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔
(در مختار، عالمگیری، بہار شریعت ، جلد اول، حصہ4 ، صفحہ
نمبر66)
The course ‘Worldly
and Eternal Benefits of Smiling’ held in Manchester Region, UK
Under the supervision
of ‘Majlis short courses for Islamic sisters’, a course, namely ‘Worldly and
Eternal Benefits of Smiling’ was held in the five areas of Manchester Region,
UK in previous days. These areas included Blackburn, Preston, Nelson, Burnley
and Accrington. 52 Islamic sisters had the privilege of attending
this spiritual course.
The attendees (Islamic
sisters) were
provided the information about the worldly and eternal benefits of smiling in
the light of the Holy Quran and Hadith. Moreover, they were given the
information about the religious activities of Dawat-e-Islami and motivated to
keep associated with the religious environment of Dawat-e-Islami, attend the
weekly Ijtima’ and take part in the religious activities.
Under the supervision of Dawat-e-Islami, a Sunnah-inspiring Ijtima’
was held in Montcada Barcelona Division, Spain in the previous week via Skype. Approximately,
23 Islamic sisters had the privilege of attending this spiritual Ijtima’.
Division Nigran Islamic sister delivered a Bayan on the topic ‘what
has the world given us?’ and provided the attendees (Islamic
sisters) the
important points about the preparation of the Judgement Day in the light of the
Holy Quran and Hadith. Moreover, she gave them the mindset of keeping
associated with the religious environment of Dawat-e-Islami and taking part in
the religious activities.
یجب سجد تان بتشہد و تسلیم لترک واجب سہوا و ان تکرر، وان کان ترکہ عمد ااثم و وجب اعادۃ الصلاة لجبر نقصہا ولا یسجد فی العمد للسہو
۔
(نور
الایضاح، ص 243، باب سجودالسہو، مکتبہ المدینہ)
ترجمہ: دو سجدے التحیات اور سلام کے
ساتھ کسی واجب کو بھول کر چھوڑ دینے کے باعث
واجب ہوتے ہیں، اگر چہ مکرر ہو جائے، اور اگر اس کو جان بوجھ کر چھوڑ دے، گنہگار ہوگا اور
اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نماز کا
لوٹانا واجب ہوگا اور جان بوجھ کر (کسی واجب کو چھوڑ دینے کی شکل میں) سجدہ سہو نہیں
کرے گا۔ ( انوارالایضا ح، ص 430تا 431، دارالاشاعت)
(4)بہار
شریعت، جلد اوّل، حصہ 3 ، صفحہ 519 پر ہے:" مسئلہ55، کسی
قعدہ میں تشہد کا کوئی حصّہ بھول جائے تو سجدہ سہو واجب ہے ۔
(5)
مسئلہ56: آیتِ سجدہ پڑھی اور سجدہ میں سہواً تین آیت یا زیادہ کی تاخیر ہوئی، تو سجدہ سہو کرے۔
(6)مسئلہ57:
سورت پہلے پڑھی، اس کے بعد الحمد یا الحمد و سورت کے درمیان دیر تک یعنی تین
بار "سبحان اللہ"
کہنے کی قدر چُپ رہا، سجدہ سہو واجب ہے ۔
(7)
مسئلہ58: الحمد کا ایک
لفظ بھی رہ گیا، تو سجدہ سہو کرے۔
(8)مسئلہ59:
جو چیزیں فرض و واجب ہیں، مُقتدی پر واجب ہے کہ اِمام کے ساتھ انہیں ادا کرے، بشرطیکہ کسی واجب کا تعارض نہ پڑے اور تعارض ہو تو اسے
فوت نہ کرے، بلکہ اس کو ادا کر کے متابعت
کرے، مثلاً اِمام تشہد پڑھ کر کھڑا ہو گیا، اور مقتدی نے ابھی پورا نہیں پڑھا تو مقتدی کو واجب ہے کہ پورا کر کے کھڑا ہو اور سنت میں متابعت سنت ہے، بشرطیکہ تعارض نہ ہو اور تعارض ہو تو
اس کو ترک کرے اور امام کی متابعت کرے، مثلاً
رکوع یا سجدہ میں اس نے تین بار تسبیح نہ کہی
تھی کہ امام نے سر اُٹھا لیا، تویہ بھی اُٹھالے۔
(9)اور
آگے صفحہ نمبر520 پر ہے مسئلہ60: ایک سجدہ کسی رکعت کا بھول گیا تو جب یاد آئے کرلے، اگر چہ سلام کے بعد شرط یہ ہے کہ
کوئی فعلِ منافی صادر نہ ہوا ہواور سجدہ
سہو کرے۔
(10)
مسئلہ61: ایک رکعت میں تین سجدے کیے یا دو
رکوع یا قعدہ اُولٰی بھول گیا، تو سجدہ
سہو کرے۔
سجدہ سہو:واجباتِ نماز میں سے اگر کوئی
واجب بھُولے سے رہ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، اگر سجدہ سہو واجب ہونے کے باوجود نہ کیا تو نماز لوٹانا واجب ہے،
جان بوجھ کر واجب ترک کیا تو سجدہ سہو کافی
نہیں بلکہ نماز کا لوٹانا واجب ہے، نماز میں اگرچہ دس واجب ترک ہوئے، سہو کے دو سجدے کافی ہیں۔
سجدہ سہو واجب ہونے کی صورتیں:
(1)
نماز میں تکبیر ِتحریمہ میں لفظ اللہ اکبر کہنا واجب ہے، اگر نہ کہا تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔
(2)
تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا بھول گئی، تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔
(3)
فرض و وتر اور سنت ِ مؤکدہ میں تشہد (یعنی التحیات) کے بعد کچھ نہ
بڑھانا، اگر بھولے سے بڑھایا تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔
(4)قعدہ
اولیٰ اور قعدہ اَخیرہ میں تشہد مکمل
پڑھنا، اگر ایک لفظ بھی چھوٹا تو واجب ترک
ہو جائے گا اور سجدہ سہو واجب ہوگا۔
(5)
چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت پر قعدہ نہ کرنا واجب ہے، اگر تیسری
رکعت پر قعدہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہو جائے گا، آیتِ سجدہ پڑھی تو سجدہ تلاوت کرنا واجب ہے، اگر سجدہ تلاوت نہ کیا تو سجدہ سہو کرنا واجب ہو
گا۔
(6)
فرض اور وِتر اور سنتِ مؤکدہ کے قعدہ اولٰی میں تشہد کے بعد اگر بے خیالی میں "اللھم صلی علی محمد" یا"اللھم صلی علی سیدنا"
کہہ دیا تو سجدہ سہو واجب ہو گا اور اگر جان بوجھ کر کہا تو نماز لوٹانا واجب ہے ۔
(7)
دونوں طرف سلام پھیرتے وقت لفظ "السلام"
کہنا دونوں بار واجب ہے، اگر لفظ" السلام " نہ کہا تو سجدہ سہو واجب
ہوگا۔
(8)
قُنوت یاتکبیرِ قُنوت یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراءَت کے بعد قُنوت کے لیے جو
تکبیر کہی جاتی ہے، اگر وہ بھول گئی تو
سجدہ سہو واجب ہے۔
(9)
قراءَت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین "سبحان اللہ" کہنے کی مقدارکا وقفہ گزر گیا، سجدہ سہو واجب ہو گیا۔
(10)
سجدہ ہر رکعت میں دو بار کرنا واجب ہے ، اگر دو بار سے زائد سجدہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔
سہو کا معنیٰ
بھول ہے، اصطلاح ِشرع میں واجباتِ نماز میں سے جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو
اس کی تلافی کے لئے سجدۂ سہو واجب ہے۔)[1](
سجدۂ سہو
واجب ہونے کی کئی صورتیں ہیں، ان میں سے 10 یہ ہیں:
(1)فرض کی
پہلی دو رکعتوں میں جبکہ نفل یا وِتر کی
کسی بھی رکعت میں سُورۂ فاتحہ کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت ملانے سے پہلے دو بار سُورۂ
فاتحہ پڑھی تو سجدۂ سہو واجب ہوگا۔)[2](
(2)تعدیلِ
ارکان)[3](
بھول گیا تو سجدۂ سہو واجب ہوگا۔)[4](
(3)تَشَہُّد
(یعنی اَلتَّحِیَّات) پڑھنا بھول گیا اور سلام پھیر دیا پھر یاد آیا تو لوٹ آئے
تشہد پڑھے اور سجدۂ سہو کرے۔)[5](
(4)یونہی اگر
تشہد کی جگہ سُورۂ فاتحہ پڑھی تو سجدۂ سہو واجب
ہوگا۔)[6](
(5)وِتر کی
نماز میں دُعائے قُنوت پڑھنا بھول گیا سجدۂ سہو واجب ہوگا۔)[7](
(6)تکبیرِ قُنوت
یعنی قِراءت کے بعددعائے قنوت کے لئے جو تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا تو سجدۂ سہو
واجب ہوگا۔)[8](
(7)مُنفرد (یعنی
اکیلے نماز پڑھنے والے) نے سِرّی (یعنی آہستہ آواز والی مثلاً ظہر اور عصر کی)
نماز میں جہر (یعنی بلند آواز) سے پڑھا تو سجدۂ سہو واجب ہے۔)[9](
(8) پہلی دو رکعتوں کے قیام میں اَلحمد کے
بعد تشہد پڑھا تو سجدۂ سہو واجب ہے۔)[10](
(9)کسی قعدہ
میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا، سجدۂ سہو واجب ہے۔ )[11](
(10)قَعدۂ
اُولیٰ)[12]( میں
تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ تو سجدۂ سہو واجب ہے۔)[13](
یاد رہے یہ
تمام صورتیں سجدۂ سہو واجب ہونے کی اسی صورت میں ہیں جب یہ واجبات بھولے سے رہ
جائیں، اگر جان بوجھ کر کوئی واجب چھوڑا تو نماز واجبُ الاِعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا
ہوگی۔
اللہ پاک ہمیں خُشوع و خُضوع کے ساتھ تمام فرائض و واجِبات و سُنن و مُستحبات کا خیال رکھتے ہوئے اِخلاص کے ساتھ پنج وقتہ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہعلیہ واٰلہٖ وسلَّم
Under the supervision of ‘Majlis shrouding and burial (Islamic sisters)’, a ‘shrouding and
burial Ijtima’ was held in Cornella (Barcelona,
Spain) in previous days via Skype. Approximately, 11
Islamic sisters had the privilege of attending this spiritual Ijtima’.
Kabinah responsible Islamic sister (Majlis
shrouding and burial) delivered a Sunnah-inspiring Bayan and gave the attendees (Islamic
sisters) the
Tarbiyyah of giving Ghusl to the deceased [Islamic sisters], cutting the shroud,
and shrouding the deceased [Islamic sister]. Moreover, she also taught them the rulings on Mustamal water and
Israf (waste).
Dawateislami