اللہ پاک
نے قرآن میں مثالیں کیوں بیان فرمائیں؟ از بنت محمد سچل، ترنڈہ سوائے خان
پہلی
مثال:الله
عز وجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی
اسْتَوْقَدَ نَارًاۚ-فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ
وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷) صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ(۱۸)
(البقرۃ:
18) ترجمہ کنز الایمان:
ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ
ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا بہرے گونگے اندھے تو وہ پھر آنے والے نہیں۔
اسکی تفسیر:
اس میں ان لوگوں کی مثال ہے جنہیں الله تعالیٰ نے کچھ ہدایت دی یا اس پر قدرت بخشی
پھر انہوں نے اسے ضائع کر دیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا، انکا انجام حسرت و
افسوس اور حیرت و خوف ہے۔ اس میں وہ منافق بھی شامل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا
اور دل میں کفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کر دیا۔ اور وہ مومن بھی جو ایمان
لانے کے بعد مرتد ہو گئے۔ اور وہ جنہیں فطرتِ سلیمہ عطا ہوئی مگر روشنی ہونے کے با
وجود فائدہ نہ اٹھایا گویا کہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود حق کو سننے ماننے کہنے اور
دیکھنے سے محروم ہو گئے گویا سب کچھ بے کار ہے۔( صراط الجنان،1/22)
دوسری مثال: قرآن پاک میں
ارشاد ہوتا ہے: اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌۚ-یَجْعَلُوْنَ
اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِؕ-وَ اللّٰهُ
مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(۱۹) یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْؕ-كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ
مَّشَوْا فِیْهِۗۙ-وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ
لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِم (البقرۃ:19-20) ترجمہ کنز الایمان: یا جیسے آسمان سے اُترتا پانی کہ اس میں
اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب
موت کے ڈر سے اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی
نگاہیں اُچک لے جائے گی جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے اور جب اندھیرا ہوا کھڑے
رہ گئے اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا۔
تفسیر: یہ دوسری مثال بیان کی گئی اور
یہ منافقین کا حال ہے جو دل سے اسلام قبول کرنے اور نہ کرنے میں متردد رہتے ہیں جس
طرح جب بادل اور بارش کی وجہ سے تاریکی ہوتی ہے تو مسافر متحیر ہو جاتا ہے جب بجلی
چمکتی ہے تو کچھ چل لیتا ہے اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے، اسی طرح
اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے
ہیں اور جب کوئی مشکل یا مشقت آتی ہے تو کفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور
اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں۔
تیسری مثال:
الله پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا
مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ
اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ
مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاۘ-یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ
بِهٖ كَثِیْرًاؕ-وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ(۲۶) (البقرۃ:
26) ترجمہ
کنز الایمان: بےشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ
مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے، مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر تو وہ جو ایمان
لائے وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے، رہے کافر وہ کہتے ہیں ایسی
کہاوت میں اللہ کا کیا مقصود ہے اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں
کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں۔
تفسیر:اس آیت
میں کافروں کو جواب دیا گیا ہے کہ مثالیں بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصود ہے۔نیز
کافروں اور مومنوں کے مقولے اسکی دلیل ہیں کہ قرآنی مثالوں کے بیان سے بہت لوگ
گمراہ ہوتے ہیں جن کی عقلوں پر جہالت کا غلبہ ہوتا ہے اور جنکی عادت صرف ضد،
مقابلہ بازی، انکار و مخالفت ہوتی ہے اور کلام با لکل معقول مناسب اور موقع محل کے
مطابق ہونے کے باوجود وہ اسکا انکار کرتے ہیں اور انہیں مثالوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ
بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو غور و تحقیق کے عادی ہوتے ہیں اور انصاف کے خلاف
بات نہیں کہتے اور مثالوں کے ذریعے وہ سمجھ جاتے ہیں۔
نوٹ: مثالوں
کا بیان حکمت کے مطابق اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتا ہے اور مثالوں کے ذریعے
سمجھانا ما ہرین کا طریقہ ہے۔(صراط الجنان، ص 92)
چو
تھی مثال: وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ
نِدَآءًؕ-صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۱۷۱) (البقرۃ:171) ترجمہ
کنز الایمان: اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو
پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے، بہرے گونگے اندھے تو انہیں
سمجھ نہیں۔
تفسیر: پیارے
آقا ﷺ کا فروں کو مسلسل دین حق کی دعوت دیتے رہتے، کافر سنتے تو تھے لیکن اس سے
نفع حاصل نہ کرتے تھے یعنی ایمان نہ لاتے، ان کے اس سننے کی مثال بیان کی گئی کہ
جس طرح جانوروں کا ایک ریوڑ ہو اور انکا مالک انہیں آواز دے تو وہ محض ایک آواز تو
سنتے ہیں لیکن مالک کے کلام کا مفہوم نہیں سمجھتے تو یہی کافروں کا حال ہے۔ اس
اعتبار سے یہ تو بہرے گونگے اور اندھے ہیں اس میں ہمارے لئے بہت بڑا درس ہے کہ
دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت، قرآن و حدیث، اصلاح وتفہیم کے باوجود جو طرزِ عمل
ہمارا ہے وہ بھی کچھ سوچنے کا تقاضہ کرتا ہے کہ اس اعتبار سے ہما رے آنکھ کان بھی
کھلے ہوئے ہیں یا نہیں ؟؟؟
پانچویں
مثال: الله
عزوجل قرآن پاک میں فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ
یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْــٴًـا(پ 18،النور:
39) ترجمہ کنز الایمان: اور
جو کافر ہوئے اُن کے کام ایسے ہیں جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا
اسے پانی سمجھے یہاں تک جب اُس کے پاس آیا تو اُسے کچھ نہ پایا۔
تفسیر: اس میں کافروں کے
اعمال کے متعلق فرمایا ہے، یعنی اس ریت کی چمک کو پانی سمجھ کر اسکی تلاش میں چلا جب وہاں پہنچا تو پانی کا نام ونشان نہ
تھا تو ایسے ہی کافر اپنے خیال میں نیکیاں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ
سے اس کا ثواب پائے گا جب قیامت کے میدان میں پہنچے گا تو ثواب نہ پائے گا بلکہ
عذاب عظیم میں گرفتار ہوگا اور اس وقت اسکی حسرت اور اسکا اندوه و غم اس پیاس سے بدرجہا
زیادہ ہوگا۔ (تفسیر خزائن العرفان،ص 776)
اللہ عزوجل نے
قرآن پاک میں جگہ جگہ مثالوں سے ہم گناہ گاروں کو سمجھایا ہے تاکہ ہم اپنے گناہ سے
باز آجائیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ہمیں ان مثالوں
سے ہدایت لینے کی توفیق عطا فر مائے۔ آمین ثم آمین
اللہ پاک
نے قرآن میں مثالیں کیوں بیان فرمائیں؟ از
بنت خدا بخش، میر پور خاص سندھ
الله پاک نے
جہاں قرآن مجید میں احکامات اور واقعات بیان فرمائے ہیں وہیں کئی مضامین کو مثالوں
کے ذریعے بھی بیان فرمایا ہے۔ مثالوں کے ذریعے ایک بات انسان کے ذہن نشین بھی ہو
جاتی ہے، اس کلام کو سمجھنا بھی آسان ہوتا ہے اور بات میں دل چسپی بھی پیدا ہوتی
ہے۔ مثال کا عام استعمال ضرب المثل کے معنی میں ہوتا ہے اور بطور استعارہ کسی حالت
کو بیان کرنے کو بھی مثال کہتے ہیں، قرآن مجید میں جو مثالیں بیان کی گئی ہیں وہ
وضاحت، نصیحت یا عبرت کیلئے ہوتی ہیں۔ آئیے یہاں 5 مثالوں کو ملاحظہ کرتے ہیں جو
قرآن مجید فرقان حمید میں الله ربُّ العزت نے بیان فرمائی ہیں:
1۔
ہدایت سے محروم لوگوں کی مثال: پارہ 2 سورۂ بقرہ آیت نمبر 171 میں
الله پاک ہدایت سے محروم لوگوں کی مثال بیان فرماتا ہے: وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ
یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءًؕ-صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ
فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۱۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور
کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ
سنے، بہرے گونگے اندھے تو انہیں سمجھ نہیں۔اس آیتِ مبارکہ میں کافروں کے سننے کی
مثال جانوروں کے ریوڑ سے کی گئی ہے کہ انکا مالک انھیں آواز دے تو صرف وہ آواز کو
سنتے ہیں اس بات کے مفہوم کو نہیں سمجھتے تو ایسے آنکھ کان کا کیا فائدہ جس سے نفع
نہیں اٹھا سکیں۔
2۔
الله پاک کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی مثال: پارہ 3 سورۂ
بقرہ آیت نمبر 261 میں ارشاد ہوتا ہے: مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ
سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ
اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱) ترجمہ کنز الایمان:
ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے
اوگائیں سات بالیں، ہر بال میں سو
دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا
ہے۔یہاں راہِ خدا میں خرچ کرنے والوں کی فضیلت ایک مثال کے ذریعے بیان کی گئی ہے یعنی
کوئی آدمی جب ایک دانہ بوتا ہے تو اس سے سات بالیاں اگ جاتی ہیں سب میں سو سو دانے
ہوتے ہیں تو اسی طرح صدقہ کرنے والوں کو بھی الله عزوجل ان کے اخلاص کے مطابق
اجروثواب دگنا بلکہ 700 گنا بڑھا کر عطا فر ماتا ہے۔
3۔
کافروں کے اعمال کی مثال: پارہ 13 سورۂ ابراہیم کی آیت نمبر 18
میں ارشاد ربانی ہے: مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ
اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ
مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ(۱۸) ترجمہ کنز الایمان:
اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں جیسے
راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آ یا آندھی کے دن میں ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ
نہ لگا یہی ہے دُور کی گمراہی۔اس آیت میں کافروں کے اعمال کے بارے میں بتایا گیا
کہ قیامت کے دن ان کے اعمال کچھ بھی نہ ہوں گے اور اس وقت اس کا نقصان مکمل طور پر
واضح ہو جائے گا دنیا میں جو نیک اعمال کئے ہوں گے قیامت میں گویا راکھ کی طرح کچھ
فائدہ نہ پہنچائیں گے۔
4۔
جھوٹے معبودوں کو پوجنے کی مثال: پارہ 13 سورۂ رعد کی آیت نمبر 14 میں
ارشاد ہوتا ہے: لَهٗ
دَعْوَةُ الْحَقِّؕ-وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ
لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ
مَا هُوَ بِبَالِغِهٖؕ-وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ(۱۴) ترجمہ کنز الایمان: اسی کا پکارنا سچا ہے اور اس
کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے
سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ ہرگز نہ پہنچے گااور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی
پھرتی ہے۔اس آیتِ مبارکہ میں غیر خدا سے مانگنے کی مثال بیان کی کہ جس طرح پانی
خود ان کے منہ میں نہیں جائے گا اس طرح ان کی دعا بھی قبول نہ ہوگی۔
5۔
شرک کا رد کرنے کے لئے مثال:پارہ 14سورۂ نحل کی آیت نمبر 75 میں رب
تعالیٰ فرماتا ہے: ضَرَبَ
اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ
رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ
جَهْرًاؕ-هَلْ یَسْتَوٗنَؕ-اَلْحَمْدُ لِلّٰهِؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۷۵) ترجمہ
کنز الایمان: اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی ایک
بندہ ہے دوسرے کی مِلک آپ کچھ مَقْدُور(طاقت) نہیں رکھتا اور ایک وہ جسے ہم نے اپنی
طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر کیا وہ
برابر ہوجائیں گے سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں۔اس آیت میں
دو شخصوں کی مثال بیان کر کے شرک کا رد کیا ہے یعنی ایک بندہ غلام ہے دوسرا شخص
اچھی روزی کمانے والا ہے آزاد اور مالک ہے تو جب یہ دو شخص برابر نہیں ہو سکتے تو
وہ قادر مطلق رب ہے اس کے برابر کوئی بھی کیسے ہو سکتا ہے۔
اسی طرح جگہ بہ
جگہ مثالیں بیان فرما کر لوگوں کیلئے ہدایت حاصل کرنے کا سامان کیا گیا ہے۔ الله
عز وجل ہمیں بھی ہدایت یافتگان میں شامل فرمائے۔
اللہ پاک
نے قرآن میں مثالیں کیوں بیان فرمائیں؟ از بنت اظہر، لالہ زار راولپنڈی
قرآن عظیم خاتمُ المرسلین ﷺ پر نازل ہونے والی وہ کتاب مبین ہے جو اسرار و
رموز سے بھر پور،اپنے قارئین کو دعوتِ فکر دیتی ہے۔ کہیں تو یہ عظیم المرتبت
کتاب فلاح دارین کے احکام و مسائل بیان فرما رہی ہے تو کہیں ثواب و عتاب کو،کہیں
اس کی آیات مفصلات سابقہ امم کے حالات بیان کرتی ہیں تو کہیں قصص ِ انبیاء کو
موضوعِ سخن بناتی ہیں،علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر یہ کہ
قرآن مجید صاحبِ قرآن ﷺ کی نعت سے بھر پور ہے۔
قرآن مجید نے
کئی ایک مقامات پر اپنا مدعا مثالوں کے ذریعے سمجھایا، یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ
قرآن میں مثالیں ذکر فرمانے کا کیا مقصد
ہے ؟ تو آئیے اس کا جواب بھی قرآن ہی سے معلوم کرتے ہیں۔
یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًاؕ-وَ
مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ(۲۶) (پ 1،البقرة:
26) ترجمہ کنز
الایمان: اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں
کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں۔
مثالیں بیان
کرنے میں کئی ایک حکمتیں پوشیدہ ہیں:
1۔ قرآنی مثالوں کے ذریعے وہ لوگ جن کی عقل پر جہالت کا پردہ ہے اپنی بد
بختی کے باعث گمراہ ہوتے ہیں۔
2۔انہی مثالوں
کے ذریعے اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو غور و تحقیق کے عادی ہوتے
ہیں۔
3۔ مثالوں سے
قرآن مجید کا اندازِ بیان مزید دل نشین ہو جاتا ہے۔
4۔قرآنی
مثالوں کے ذریعے مدعا اچھی طرح سے سمجھ میں آجاتا ہے۔
ذیل میں قرآن
کریم سے 5 مثالیں ذکر کی جاتی ہیں:
سورۂ ابراہیم آیت نمبر 24-25 میں
کلمۂ ایمان کی یوں مثال بیان کی گئی ہے: اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً
طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ(۲۴)تُؤْتِیْۤ
اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَاؕ-وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ
لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ(۲۵) ترجمہ کنز
الایمان: کیا تم نے نہ دیکھا
اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی، جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور
شاخیں آسمان میں ہر وقت اپناپھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لیے
مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں۔
مذکورہ مثال میں سمجھایا گیا کہ جس طرح کھجور کے
درخت کی جڑیں زمین کی گہرائی میں موجود
ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوتی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے
ہمیشہ پھل دیتا ہے اسی طرح کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل کی زمین میں
ثابت ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثمرات یعنی
برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں۔ یہاں
مثالیں بیان کرنے سے قرآن مجید کے مقصد کو مزید واضح کیا گیا جو انسان کی تفہیم
ہے۔
سورۂ ابراہیم پارہ 13 ہی کی آیت
نمبر 26 میں خبیث کلمے کی مثال یوں بیان کی گئی ہے: وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ
ﹰ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ(۲۶)ترجمہ کنز الایمان: اور گندی بات کی
مثال جیسے ایک گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں۔
قرآن مجید کا دل نشین انداز بیان
یہ بھی ہے کہ اس میں متقابلات کو بیان کیا جاتا ہے، لہذا مذکورہ آیت مبارکہ میں بیان
کردہ مثال کو پچھلی مثال کے مقابل رکھ کر قرآن کا مدعا سمجھنا مزید آسان ہو جاتا
ہے، یہاں فرمایا گیا کہ گندی بات یعنی کفریہ کلمے
کی مثال اندرائین جیسے کڑوے مزے اور ناگوار بو والے پھل کے درخت کی طرح ہے جو زمین
کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں کیونکہ اس کی جڑیں زمین میں
مستحکم نہیں اور نہ ہی اس کی شاخیں بلند ہوتی ہیں، یہی حال کفریہ کلام کا ہے کہ اس
کی کوئی اصل ثابت نہیں اور وہ کوئی دلیل اور حجت نہیں رکھتا جس سے اسے کوئی استحکام
ملے اور نہ ہی کوئی خیر و برکت رکھتا ہے کہ قبولیت حاصل کرے۔
دنیاوی زندگی کی ناپائیداری کو پارہ
15 سورةالکہف آیت 45 میں بہت ہی دل نشین انداز میں بیان کیا گیا: وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ
نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ
عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا(۴۵) ترجمہ کنز الایمان: اور
ان کے سامنے زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتاراتو
اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں اور
اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے۔
دنیاوی زندگی کی بے ثباتی کی
مثال ایسے ہی ہے جیسے زمین پر خوش نما سبزہ ہوتا ہے جو بارش کی بدولت خوب لہلہانے
لگتا ہے پھر جلد ہی یہ سبزه فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور اس سوکھی گھاس کو ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں یہی حال دنیا کا ہے۔ اعتبار حیات
کا ہے کہ اس فنا ہو جانے والےسبزے کی طرح یہ بھی بے وقعت ہے اور یہ سب فنا و بقا
اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہے۔
پارہ 17 سورۃُ الحج آیت نمبر 73 میں کفار کے باطل
معبودوں کے عاجز ہونے کو ایک مثال کے ذریعے بیان کیا گیا: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا
لَهٗؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا
ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗؕ-وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ
شَیْــٴًـا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُؕ-ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ(۷۳)ترجمہ
کنز الایمان: اے لوگو! ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو وہ جنہیں اللہ
کے سوا تم پوجتے ہو ایک مکھی نہ بناسکیں گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیں اور اگر
مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں کتنا کمزور چاہنے والا اور
وہ جس کو چاہا۔
مذکور مثال میں بتوں کے عاجز
اور بے قدرت ہونے کا بیان ہے کہ مشرکین الله کو چھوڑ کر جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں
وہ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ اس مثال سے مدعا یہ ہے کہ ایسے کو معبود
بنانا کس قدر جہالت ہے، کیونکہ اگر مکھی ان بتوں سے وہ شہد و زعفران چھین لے جائے
جو مشرکین ان بتوں پر ملتے ہیں اور ان پر مکھیاں بیٹھتی ہیں تو یہ بت ان سے اس شہد
کو بھی نہیں چھڑا سکتے۔
پارہ 18 سورۂ
نور آیت نمبر 35 میں اللہ تعالیٰ کے نور کی انتہائی خوبصورت مثال بیان کی گئی: اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ
وَ الْاَرْضِؕ-مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ-اَلْمِصْبَاحُ فِیْ
زُجَاجَةٍؕ-اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ
مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍۙ-یَّكَادُ زَیْتُهَا
یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌؕ-نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ ترجمہ کنز الایمان: اللہ
نور ہے آسمانوں اور زمین کا، اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ
ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا، روشن
ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے جو نہ پورب(مشرق) کا نہ پچھّم(مغرب)کا،
قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اُٹھے اگرچہ اُسے آگ نہ چھوئے، نور پر نور ہے۔
مندرجہ بالا آیتِ
مبارکہ کے تحت نور کی مثال کے مختلف معانی بیان کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے نور سے
مراد اس کی طرف سے ہدایت ہے۔ عالمِ
محسوسات میں اس کی تشبیہ ایسے روشن دان سے ہو سکتی ہے جس میں صاف شفاف فانوس
ہو،فانوس میں ایسا چراغ ہو جو نہایت ہی پاک صاف زیتون سے روشن ہو تاکہ اس کی روشنی
اعلیٰ ترین ہو۔دوسرے یہ کہ یہ مثال سید المرسلین ﷺ کے نور کی ہے،طاق آپ کا سینہ
شریف،فانوس قلب مبارک اور چراغ نبوت ہے جو شجرِ نبوت سے روشن ہے اور اس پر کمال یہ
کہ اگر آپ اپنے نبی ہونے کا اعلان نہ بھی فرمائیں جب بھی نورِ محمدی از خود گواہ
ہے۔
اعلیٰ حضرت
امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ ایک شعر کے پیرائے میں اس مثال کو یوں سموتے ہیں؛
شمع
دل، مشكاة تن، سینہ زجاجہ نور کا
تیری
صورت کے لیے آیا ہے سورہ نور کا
حاصلِ کلام یہ
کہ قرآن مجید طرح طرح کی مثالیں بیان فرما کر بنی نوع انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے۔
قرآن مجید کے مخاطب یوں تو سب انسان ہیں لیکن ایک مسلمان جس کو قرآن اور صاحبِ
قرآن ﷺ کی بدولت ایمان کی بیش قیمت دولت ملی اس بات کا مکلّف ہے کہ قرآن عظیم کو
سمجھ کر اپنی عملی زندگی کا نصبُ العین بنا لے تو آئیے تمام قارئین نیت کیجئے کہ
دعوت اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ ہو کر قرآن مجید سیکھنے سکھانے میں مشغول ہو
جائیں۔
جھوٹ کی
مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ،از بنتِ اللہ
بخش،فیضان اعلیٰ حضرت،بلوچستان
کسی کے بارے میں خلاف حقیقت خبر دینا
قائل گناہ گار اس وقت ہو گا جبکہ بلا ضرورت جان بوجھ کر جھوٹ بولے۔(جھوٹ کی مذمت،ص3)
اے عاشقان رسول!ابھی آپ نے جھوٹ کی تعریف
ملاحظہ فرمائی ابھی ہم جھوٹ کی جائز صورتیں عرض کرتے ہیں کہ کہاں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی ان تین
صورتوں میں گناہ نہیں؛1۔جنگ کی صورت میں
کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکہ دینا جائز ہے اس طرح جب ظالم ظلم کرتا ہو تو اس کے ظلم سے بچنے کے لئے بھی جھوٹ بولنا جائز
ہے۔2۔دو مسلمانوں میں اختلاف ہے اور ان میں صلح کروانا چاہتا ہے اس صورت میں جائز
ہے۔3۔بیوی کو خوش کرنے کے لیے کوئی بات خلافِ واقع کہہ دے تو بھی جائز ہے۔
مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں: جس
اچھے مقصد کو سچ بول کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہو اور جھوٹ بول کر بھی تو اس کو حاصل
کرنے کے لیے جھوٹ بولنا حرام ہے۔( بہار شریعت)
برائی کے دروازے کو
سیراب کرنے والا: یزید بن
میسرہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:جس طرح پانی درخت کی جڑوں کو سیراب کرتا ہے اسی طرح جھوٹ برائی کے ہر دروازے کو سیراب کرتا ہے۔
جھوٹ کی مذمت پر پانچ فرامینِ مصطفیٰ
ﷺ:
1۔ منافق کی
تین نشانیاں ہیں؛ (1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے( 2) جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے (3) اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیا نت کرے۔(بخاری،حدیث 33)
2۔ تین لوگوں
کی طرف اللہ پاک قیامت کے دن نظر رحمت نہیں فرمائے گا (1) بوڑھا زانی (2) جھوٹا بادشاہ (3) متکبر فقیر۔(مسند
امام احمد،حدیث: 9594)
3۔ تمام عادتیں مومن کی فطرت میں ہو سکتی ہیں سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔(مسند اما م احمد،حدیث: 9594)
4۔ جس نے
اپنے بیٹے سے کہا آؤ میں تمھیں کچھ دیتا ہوں پھر اسے کوئی چیز نہ دی تو اس کے لیے جھوٹ لکھ دیا جاتا ہے۔(مکارم الاخلاق،ص
122)
5۔جس نے میری
طرف منسوب کرکےکوئی بات بیان کی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ہے۔(جھوٹ کی مذمت،ص
26)
دین
اسلام نے زندگی کے ہر قدم قدم پر مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے اور زندگی گزارنے کے
بہترین اصول مہیا کر رکھے ہیں۔ مختلف اصولوں کے ساتھ ساتھ دین اسلام نے رزق کی
اہمیت بھی بیان کی ہے ۔ اسلام میں نہ صرف
حلال لقمہ کھانے پر زور دیا ہے بلکہ کھانے
کے برتن کو صاف کرکے اور دستر خوان پر گرے
ہوئے دانے کو اٹھاکر کھانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
اسی
سلسلے میں شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 17
صفحات کا رسالہ ”روٹی کا احترام“ پڑھنے/ سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعوتِ
اسلامی کی مجلس تراجم کی جانب سے اس رسالے کادو زبانوں(اردو ، ہندی) میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے،
دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر ان زبانوں میں رسائل موجود ہیں، مذکورہ زبانوں کے
جاننے والے درج ذیل لنک پر کلک کرکے رسائل کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
دعائے
عطار
یارب
المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ”روٹی کا احترام“ پڑھ یا سُن لے اُسے حلال و
آسان برکت والی روزی عطا فرما اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُس سے راضی ہوجا۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتمِ
النّبیِّین صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ
رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی مفت ڈاؤن لوڈ کیجئے
رسالہ
آڈیو میں سننے کے لئے کلک کریں
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ رابطہ
برائے ہومیوپیتھک کے زیرِ اہتمام 16 نومبر
2022ء کو کیماڑی ڈسٹرکٹ کراچی میں واقع
دواخانہ میں سیکھنے سکھانے کے حلقے کا سلسلہ ہوا جس میں ہومیوپیتھک ڈاکٹرز نے شرکت کی۔
سیکھنے
سکھانے کے حلقے میں نگرانِ مجلس ڈاکٹر آصف
عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا اور فکرِ آخرت
کا ذہن دیتے ہوئے ڈاکٹرز کو دعوتِ اسلامی
کے تحت ہونے والے 12دینی کاموں میں حصہ
لینے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کے بارے میں نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اچھی اچھی نیتیں پیش کیں ۔(رپورٹ : محسن
مدنی صوبائی ذمہ دار ہومیوپیتھک
ڈاکٹرز، کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)
16
نومبر2022ء بروز بدھ نیکی کی دعوت دینے کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ کیماڑی
کے نگران عبد الرحیم عطاری اور سٹی ذمہ دار شعبہ رابطہ برائے ٹرانسپورٹ محمد ذیشان عطاری مدنی نے ماڑی پور ٹرک اڈہ اونر سے ملاقات کی۔
دورانِ ملاقات ذمہ داران نے انہیں دعوت ِاسلامی کا تعارف
پیش کیا اور ٹیلی تھون مہم میں حصہ ملانے کا ذہن دیا
جس پر ٹرک اڈہ اونر نے خدماتِ دعوت اسلامی کو سراہتے
ہوئے اس سلسلے میں تعاون کرنے کی اچھی نیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ سینٹرل
رابطہ برائے ٹرانسپورٹ ذمہ دار عبد الوہاب عطاری بھی موجود تھے۔(
کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)
16
نومبر 2022ء کو رکنِ شوریٰ حاجی محمد امین
عطاری نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں محمد ابراہیم عطاری کے
بیٹے محمد زیاد عطاری کی شادی کی محفلِ نعت میں شرکت فرمائی ۔
اس
موقع پر رکنِ شوریٰ نے سنتوں بھرا بیان کیا اور ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع
میں شرکت کرنے، مدنی قافلے میں سفر کرنے کی دعوت دی جس پر محمد
زیاد عطاری اور وہاں موجود عاشقانِ رسول نے مدنی
قافلے میں سفر کرنے کی نیک خواہش کا اظہار کیا۔
دوسری
جانب نیو کراچی کے سینئر اسلامی بھائی
محمد صابر عطاری کے بیٹے کی شادی کے سلسلے میں محفلِ نعت کا اہتمام ہوا جس میں رکنِ شوریٰ
حاجی محمد امین عطاری کی خصوصی شرکت ہوئی ۔ رکنِ شوریٰ نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے مدنی مذاکرہ دیکھنے اور مدنی قافلے میں سفر کرنے کی ترغیب دلائی جس پر
محمد صابر عطاری کے بیٹے اور وہاں موجود مہمانوں نے مدنی قافلے میں سفر کی اچھی نیت
کا اظہار کیا۔(
کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)
4سال
4 ماہ 4 دن پر بچوں کی رسمِ بسمِ اللہ کروانا بزرگوں کا طریقہ رہا ہے جس میں بچوں کو قرآنِ پاک پڑھانے کی ابتدا ہوتی ہے۔
اس
سلسلے میں 16 نومبر 2022ء کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں رسمِ بسم اللہ ہوئی جس میں نگرانِ پاکستان مشاورت و رکنِ
شوریٰ حاجی محمد شاہد عطاری نے امتیاز عطاری ( معاون رکنِ شوریٰ حاجی اسلم عطاری ) کے بچوں کی رسمِ بسم اللہ کی۔
اس
موقع پر نگرانِ پاکستان مشاورت نے بچوں کو بسم
اللہ شریف پڑھانے کے بعد مدنی قاعدےسے آغاز کروایا اور دعاؤں سے نوازا۔(
کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)
کنز
المدارس بورڈ پاکستان (دعوت
اسلامی)
کے زیر اہتمام 15 نومبر 2022ء بروز منگل تحقیقی مقالہ جات (Research paper) کے حوالے سے
مدنی مرکز فیضان مدینہ ملتان کے مرکزی جامعۃالمدینہ بوائز میں تربیتی نشست کا
انعقاد کیا گیا جس میں تخصصات اور دورۃ الحدیث شریف کے طلبۂ کرام نے شرکت کی۔
R&Dڈیپارٹمنٹ
کے نگران مولانا ڈاکٹر فرحان اختر عطاری مدنی اور سینئر ذمہ دار مولانا خرم عطاری
مدنی نے تحقیق مقالہ کے حوالے سے طلبۂ کرام کی رہنمائی کی۔
تربیتی
نشست میں تحقیقی مقالہ کی ہدایات، اصول و ضوابط کے ساتھ ساتھ درج ذیل چیزوں پر
طلبۂ کرام کی رہنمائی کی گئی:
٭مقاصد تحقیق ٭تحقیق
کے اقسام ٭طریقۂ تحقیق کے مراحل ٭انتخاب موضوع، طریقہ ٔکار اور خاکہ کی تیاری ٭حصول مواد کے ذرائع، اس کا مطالعہ اور درست طریقۂ استعمال ٭فرضیہ تحقیق کی اہمیت ٭محقق کی خصوصیات ٭اقتباسات
اور حوالہ جات پیش کرنے کے مقاصد ٭اس
کے علاوہ المدینہ لائبریری اور مکتبہ الشاملہ سافٹ ویئر کے حوالے سے طلبۂ کرام کی
رہنمائی کی گئی۔
سیاسی شخصیت جہانگیر بدر
کے ایصالِ ثواب کے لئے علی ٹاؤن لاہور میں محفلِ نعت کا انعقاد
پچھلے دنوں سیاسی شخصیت
جہانگیر بدر (مرحوم )کے ایصالِ ثواب کے لئے علی ٹاؤن لاہور میں محفلِ نعت کا انعقاد کیا گیا
جس میں دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران سمیت کثیر تعداد میں پولیٹکل، بیوروکریسی اور بزنس
مینز (افضل
چن، کرنل ارشد ملک، کامران غازی، حافظ علی اکبر عطاری) نے شرکت کی۔
محفلِ نعت کی ابتداء
تلاوتِ قراٰن سے کی گئی جبکہ مبلغِ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے
وہاں موجود عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔
اس کے علاوہ مبلغِ دعوتِ
اسلامی نے شرکائے محفل کو نیکی کے کاموں میں حصہ لینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے
اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائے شخصیات، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
شعبہ رابطہ برائے شخصیات
دعوتِ اسلامی کے تحت 15 نومبر 2022ء بروز منگل ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے ایم پی
اے غلام جیلانی کے ماموں کےا نتقال پر اُن سے تعزیت کرتے ہوئے انہیں صبر کی تلقین
کی۔
اس موقع پر ذمہ داران نے
مرحوم کے سوئم میں شرکت کی جہاں اُن کی ملاقات سابق وفاقی وزیر اور نظام مصطفیٰ
پاکستان کے چیئرمین حاجی حنیف طیب اور سابق ایم پی اے عثمان خان نوری سمیت دیگر
سیاسی و سماجی شخصیات سے ہوئی۔
ذمہ داران نے وہاں موجود
اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے جملہ اخراجات کے لئے ہونے ولے ٹیلی تھون کے
بارے میں بتایا جس پر ہاتھوں ہاتھ ایم پی اے غلام جیلانی اور اسسٹنٹ کمشنر کورنگی
فاروق سومرو نے رقم جمع کروائی۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائے شخصیات، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
Dawateislami