دعوتِ اسلامی کے شعبہ مکتبۃ المدینہ اور تقسیم رسائل کے تحت 6دسمبر 2021ء بروز پیر شیر شاہ  زون کراچی میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں زون مشاورت ذمہ دار اسلامی بہن نے کابینہ مشاورت ذمہ دار اسلامی بہنوں کو شعبے کےدینی کاموں کے حوالے سے نکات سمجھائے۔

علاوہ ازیں کارکردگی بہتر بنانے اور مکتبۃ المدینہ کے بستوں کا فالواپ کیسے کیا جائے اس کے حوالے سے مدنی پھول دیئے نیز مکتبۃ المدینہ کےساتھ ساتھ تقسیم رسائل پر بھی تقرری کے اہداف دیئے۔


دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام 6 دسمبر 2021ء کو  پاکپتن زون، فرید کوٹ کابینہ ڈویژن فرید کوٹ کے 3 ذیلی حلقوں میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا انعقاد ہوا جن میں 19 اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

آغاز تلاوت قراٰ ن پاک اور نعت رسول ﷺ سے ہوا ۔ اس کے بعد مبلغات دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرے بیانات کئے اور اسلامی بہنوں کو پابندی کے ساتھ ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کا ذہن دیا۔

٭دوسری جانب دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 5 دسمبر 2021ء کو پاکپتن زون ڈویژن فرید کوٹ کے ذیلی حلقہ چن پیر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد ہوا جس میں16 اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔


دعوتِ  اسلامی کے زیر اہتمام 6 دسمبر 2021ء کو پاکپتن زون، فرید کوٹ کابینہ میں قائم مدرسہ شفیق رحمان میں مدنی مشورہ ہوا جس میں کابینہ اور زون نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

زون نگران اسلامی بہن نے اسلامی بہنوں کو سیکھنے سکھانے کے حلقوں کو مضبوط بنانے کی ترغیب دلائی اور دارالسنہ للبنات کے تحت12 دن کے ہونے والے کورس پر بھی کلام کرتے ہوئےاس سے متعلق نکات بتائے۔ اس کے علاوہ دینی کاموں کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے ذہن سازی کی جس پر اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔


ایک نوجوان ایک عورت کی محبت میں مبتلا ہو گیا وہ عورت کسی قافلہ کے ساتھ باہر کے سفر پر روانہ ہو گئی ،جوان کو جب معلوم ہوا تو وہ بھی قافلہ کے ساتھ چل پڑا جب قافلہ جنگل میں پہنچا تو رات ہو گئی رات انہوں نے وہیں پڑاؤ کیا جب سب لوگ سو گئے تو وہ نو جوان چپکے سے اس عورت کے پاس پہنچا اور کہنے لگا:میں تجھ سے بے انتہا محبت کرتا  ہوں اور اسی لئے میں قافلہ کے ساتھ آ رہا ہوں۔عورت نےاس نو جوان کو کہا جاکر دیکھو اس تاریکی رات میں کوئی جاگ تو نہیں رہا ہے۔اس نو جوان نے پہلی فرست میں سارے قافلہ کا چکر لگایا اور واپس آ کر کہنے لگا سب لوگ غافل پڑے سو رہے ہیں۔پھر اس عورت نے اس نو جوان سے پوچھا اے نو جوان اللہ پاک کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔کیا وہ رب عزوجل بھی سو رہا ہے جوان بولا اللہ پاک تو نہ کبھی سوتا ہے اور نہ ہی اسے کبھی اونگھ آتی ہے۔تب وہ عورت بولی لوگ سو گئے تو کیا ہوا اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے اس اللہ پاک سے ہمیں ڈرنا فرض ہے۔جوان نے جونہی یہ بات سنی خوف خدا سے لرز گیا اور برے ارادے سے توبہ کر کے گھر واپس چلا گیا۔کہتے ہیں کہ جب وہ جوان مر گیا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا :مافعل اللہ بک..؟ اللہ پاک نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟ اس نو جوان نے کہا:میں نے اللہ پاک کے خوف سے ایک گناہ کو چھوڑا تھا اللہ پاک نے اسی سبب سے تمام گناہوں کو معاف فرماں دیا۔(مکاشفۃالقلوب،باب دوم،ص: 35)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں: دیکھا آپ نے خوف خدا کے سبب اس نو جوان نے اللہ پاک کی بارگاہ میں سچے دل سے تائب ہو کر گناہ ترک کر دیا اور جنت میں داخل ہو گیا ہمیں بھی چاہیے ہم بھی اللہ کے خوف سے گناہوں کو ترک کر دیں۔

اللہ پاک کے خوف سے رونے کے بے شمار فضائل ہیں جس میں سے چند درج ذیل فضائل ہیں:۔

اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے:وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠(۳۵)

ترجمہ کنزالایمان: اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔(پ:25،الزخرف:35)

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ(۵۱)

ترجمہ کنزالایمان: بےشک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں ۔(پ:25،الدخان:51)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ

ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو۔(پ:28،الحشر:18)

اسی طرح حدیث شریف میں اتا ہے:۔

1.اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے"میں اپنے کسی بندے پر دو خوف اور دو اَمن جمع نہیں کرتا۔ جو شخص دنیا میں میرے عذاب سے ڈرتا ہے میں اسے آخرت میں بے خوف کر دونگا ،لیکن جو دنیا میں میرے عذاب سے بے خوف رہتا ہے میں اسے آخرت میں خوفزدہ کروں گا۔(شعب الایمان، 482/1،الحدیث:777)

2.نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی ایسا بندہ مؤمن نہیں جس کی آنکھوں سے خوف خدا سے مکھی کے پَر کے برابر آنسو بہے اور اس کی گرمی اس کے چہرے پر پہنچے اور اسے کبھی جہنم کی آگ چھوے۔(ابن ماجہ، 467/4،الحدیث: 4197)

3.حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو اللہ کےخوف سے بے ہوش ہو جاتے۔ ایک دن ایک تنکا ہاتھ میں لے کر کہا کاش:میں ایک تنکا ہوتا'کوئی قابل ذکر چیز نہ ہوتا کاش مجھے میری ماں نے نہ جنا ہوتا اور خوف خدا سے آپ اتنا رویا کرتے تھے کہ آپ کے چہرے پر آنسووں کے بہنے کی وجہ سے دو سیاہ نشان پڑ گئے تھے۔(مکاشفۃالقلوب،ص3)

4.اللہ کے پیارے مکی مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لاَیَلِجُ النَّارَ مَنْ بَکٰیْ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ حَتّٰی یَعُوْدَاللَّبَنُ فِی الضَّرْعِ،ترجمہ:جو شخص خوف خدا سے روتا ہے وہ جہنم میں ہر گز داخل نہیں ہوگا اسی طرح جیسے کہ دودھ دوبارا اپنے تھنوں میں نہیں جاتا۔(ترمذی،کتاب فضائل الجھاد،باب ماجاء فی فضل الغبار،336/3،الحدیث: 1639)

5.حضور صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کیا کرتے تھے:اے اللہ مجھے ایسی آنکھیں عطا فرما جو تیرے خوف سے رونے والی ہوں۔(جامع الاحادیث،115/6،الحدیث:4823)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو: جو انسان اللہ کے عذاب سے بچنا چاہے اور ثواب و رحمت کا امیدوار ہو اسے چاہئے کہ دنیاوی مصائب پر صبر کرے اللہ پاک کی عبادت کرتا رہے اور گناہوں سے بچتا رہے۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ ڈونیشن بکس  کے زیر اہتمام 6 دسمبر 2021ء کو جڑانوالہ زون میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں کابینہ تا ذیلی سطح تک کی شعبہ ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

رکن زون ذمہ دار اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کو شعبہ کے دینی کاموں کو کرنے حوالے سے مدنی پھول بتائے۔ مزید مدنی مرکز کے دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق شعبہ کا کام کرنے کا ذہن دیا جس پر شعبہ ذمہ داراسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار بھی کیا۔


خوفِ خدا کی تعریف :‏

خوف سے مرادہ وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔

(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ200)

اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ 22، الاحزاب:70)

ترجمۂ کنزالایمان:’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو۔‘‘

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) (پ27، الرحمٰن: 46)

ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔‘‘

حکمت کی اصل خوفِ خدا ہے:

اللہ کہ آخری نبی مکی مدنی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حکمت کی اصل اللہ پاک کا خوف ہے۔‘‘

سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عَنْہ سے فرمایا: ’’اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی اللہ پاک سے بہت ڈرتے رہنا۔‘‘

(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ201)

خوفِ خدا کا حکم:

خوفِ خدا تمام نیکیوں اور دنیا وآخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے، خوفِ خدا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ پھر خوف کے تین درجات ہیں:

(۱) ضعیف: (یعنی کمزور) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانا اور پھرسے غفلت ومعصیت (گناہ)میں گرفتار ہوجانا۔

(۲) معتدل: (یعنی متوسط) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہو، مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کو سن کر ان سے بچنے کے لیے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ربّ تَعَالٰی سے اُمید رحمت بھی رکھنا۔

(۳) قوی: (یعنی مضبوط) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو ناامیدی، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کردے، مثلاً اللہ تَعَالٰی کے عذاب وغیرہ کا سن کر اپنی مغفرت سے ناامید ہوجانا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اِن سب میں بہتر درجہ ’’معتدل‘‘ ہے کیونکہ خوف ایک ایسے تازیانے (کوڑے)کی مثل ہے جو کسی جانور کو تیز چلانے کے لیے مارا جاتا ہے، لہٰذا اگر اس تازیانے کی ضرب (چوٹ)اتنی ضعیف (کمزور) ہو کہ جانور کی رفتار میں ذرہ بھر بھی اضافہ نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر یہ اِتنی قوی ہو کہ جانور اس کی تاب نہ لاسکے اور اتنا زخمی ہوجائے کہ اس کے لیے چلنا ہی ممکن نہ رہے تو یہ بھی نفع بخش نہیں اور اگر یہ معتدل ہو کہ جانور کی رفتار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجائے اور وہ زخمی بھی نہ ہو تو یہ ضرب بے حد مفید ہے۔

(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ201۔202)

خوفِ خدا پیدا کرنے کے (8) طریقے:

(1)ربّ تَعَالٰی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرلیجئے:جس طرح طویل دنیاوی سفر پر تنہا روانہ ہوتے وقت عموماًہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہی سامان ساتھ رکھیں جو مفید ہو۔ نقصان دہ اشیاء ساتھ نہیں رکھتےتاکہ ہمارا سفر قدرے آرام سے گزرے اور ہمیں زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کر نا پڑے، بالکل اسی طرح سفرِ آخرت کو کامیابی سے طے کرنے کی خواہش رکھنے والے کو چاہیے کہ روانگی سے قبل گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے کی کوشش کرے کہ کہیں یہ بوجھ اسے تھکا کر کامیابی کی منزل پر پہنچنے سے محروم نہ کر دے۔ اس بوجھ سے چھٹکارے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَل کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے کیونکہ سچی توبہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے کبھی کیے ہی نہ تھے ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسےاس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘

(2)خوفِ خدا کے لیے بارگاہ ربّ العزت میں دعا کیجئے:یوں دعا کیجئے: اے میرے مالک عَزَّ وَجَل! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے تیرے خوف کو اپنے دل میں بسانا چاہتاہے۔ اے میرے ربّ عَزَّوَجَل! میں گناہوں کی غلاظت سے لتھڑا ہوا بدن لیے تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہوں۔اے میرے پرورد گار عَزَّ وَجَل!مجھے معاف فرمادے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کے لئے اس صفت کو اپنانے کے سلسلے میں بھرپور عملی کوشش کرنے کی توفیق عطافرمادے اور اس کوشش کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔آمین

یارب ! میں تیرے خوف سے روتا رہوں ہر دم

دیوانہ شہنشاہِ مدینہ کا بنا دے

(3)خوفِ خدا کے فضائل پیش نظر رکھیے: فطری طور پر انسان ہر اس چیز کی طرف آسانی سے مائل ہوجاتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ نظر آئے۔ اس تقاضے کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ قرآن واحادیث میں بیان کردہ خوفِ خدا کے فضائل پیش نظر رکھیں، چند فضائل یہ ہیں:خوفِ خدا رکھنے والوں کے لیے دو جنتوں کی بشارت دی گئی ہے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو آخرت میں کامیابی کی نوید (خوشخبری)سنائی گئی ہے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو جنت کے باغات اور چشمے عطا کیے جائیں گے۔ خوفِ خدا رکھنے والے آخرت میں امن کی جگہ پائیں گے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو مددوتائید الٰہی حاصل ہوتی ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پسندیدہ بندے ہیں۔ خوفِ خدا اَعمال میں قبولیت کا ایک سبب ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے بارگاہ الٰہی میں مکرم ہیں۔خوفِ خدا رکھنے والے دنیا وآخرت میں کامیاب وکامران ہیں۔ خوفِ خدا جہنم سے چھٹکارے کا سبب ہے۔ خوفِ خدا ذریعہ نجات ہے۔

(4) خوفِ خدا کی علامات پر غور کیجئے: جب کسی چیز کی علامات پائی جائیں گیں تو وہ شے بھی خود بخود پائی جائے گی۔ حضرت سیدنا فقیہ ابواللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کی علامت آٹھ چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے: (1) انسان کی زبان میں، اس طرح کہ ربّ تَعَالٰی کا خوف اس کی زبان کو جھوٹ، غیبت، فضول گوئی سے روکے گا اور اسے ذکرُاللہ، تلاوتِ قرآن اور علمی گفتگو میں مشغول رکھے گا۔(2)اس کے شکم میں، اس طرح کہ وہ اپنے پیٹ میں حرام کو داخل نہ کرے گا اور حلال چیز بھی بقدرِ ضرورت کھائے گا۔(3)اس کی آنکھ میں، اس طرح کہ وہ اسے حرام دیکھنے سے بچائے گا اور دنیا کی طرف رغبت سے نہیں بلکہ حصولِ عبرت کے لیے دیکھے گا۔(4)اس کے ہاتھ میں، اس طرح کہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو حرام کی جانب نہیں بڑھائے گا بلکہ ہمیشہ اِطاعت الٰہی میں استعمال کرے گا۔ (5) اس کے قدموں میں، اس طرح کہ وہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں نہیں اٹھائے گا بلکہ اس کے حکم کی اِطاعت کے لیے اٹھائے گا۔(6)اس کے دل میں، اس طرح کہ وہ اپنے دل سے بغض، کینہ اور مسلمان بھائیوں سے حسد کرنے کو دور کردے اور اس میں خیرخواہی اور مسلمانوں سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ بیدار کرے۔ (7)اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں، اس طرح کہ وہ فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے لیے عبادت کرے اور رِیاء ونفاق سے خائف رہے۔(8) اس کی سماعت میں، اس طرح کہ وہ جائز بات کے علاوہ کچھ نہ سنے۔

(5)جہنم کے عذابات پر غوروتفکر کیجئے:جہنم کے عذابات پر غور کرنے کے لیے پانچ فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں: ٭دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہوگا اسے آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔٭دوزخیوں میں بعض وہ لوگ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے زانوؤں تک آگ کے شعلے پہنچیں گے اور بعض وہ ہوں گے جن کی کمرتک ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گلے تک آگ کے شعلے ہوں گے۔ ٭ اگر اس زرد پانی کا ایک ڈول جو دوخیوں کے زخموں سے جاری ہوگا، دنیا میں ڈال دیاجائے تو دنیا والے بدبودار ہوجائیں۔٭دوزخ کی آگ ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی، پھر ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہوگئی، پھر ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، پس اب وہ نہایت سیاہ ہے۔٭دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں، یہ سانپ ایک بارکسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا اور دوزخ میں پالان باندھے ہوئے خچروں کی مثل بچھو ہیں تو اُن کے ایک بار کاٹنے کا درد چالیس سال تک رہے گا۔

(6)خوفِ خدا کے بارے میں بزرگانِ دِین کے اَحوال کا مطالعہ کیجئے: چند اَحوال پیش خدمت ہیں:٭حضرت سیدنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے اُن کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔ ایک دن حضرت سیدنا داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں کو نصیحت کرنے اور خوفِ خدا دِلانے کے لیے گھرسے باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجود تھے، جن پر آپ کے پُراَثر بیان کی وجہ سے ایسی رقت طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے۔ حضرت سیدنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے۔ حضرت سیدنا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوفِ خدا سے اتنا روتے تھے کہ مسلسل رونے کی وجہ سے آپ کی اکثر بینائی رخصت ہوگئی۔

ایک بار حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اَقدس (مبارک آنکھوں)سے نکلنے والے آنسوؤں سے مٹی نم ہوگئی، پھر فرمایا: اے بھائیو! اس قبر کے لیے تیاری کرو۔

حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک بار بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: جب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے، میری آنکھیں اس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں نہ ڈال دیا جاؤں۔

(7)خود اِحتسابی کی عادت اپناتے ہوئے فکرمدینہ کیجئے:اپنی ذات کا محاسبہ کرلینے کی عادت اپنا لینے سے بھی خوفِ خدا کے حصول کی منزل پر پہنچنا قدرے آسان ہوجاتا ہے، فکرمدینہ کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولات زندگی کا محاسبہ کرے، پھر جو کام اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو اُمور اُخروی اِعتبار سے نفع بخش نظر آئیں، اِن میں بہتری کے لیے اِقدامات کرے، مدنی اِنعامات پر عمل کرے۔

(8)خوفِ خدا رکھنے والوں کی صحبت اِختیار کیجئے: ایسے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی بندے کے دل میں خوفِ خدا بیدار کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔ ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی کسی میت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کی فضا پر چھائی ہوئی اداسی دیکھ کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو خوشیوں بھرا ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے گا ،تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیارکرے گا جن کے دل خوفِ خدا سے معمور ہوں، اُن کی آنکھیں اللہ تَعَالٰی کے ڈر سے روئیں تو امید ہے کہ یہی کیفیات اس کے دل میں بھی سرایت کر جائیں گی ۔اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَل

(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ203تا209)

خوفِ خداعَزَّوَّجَلَّ میں رونے والوں کا بیان:

سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے خائفین کی آنکھوں کوخوفِ وعیدسے رُلایا تو ان کی آنکھوں سے چشموں کی مانند آنسوجاری ہوگئے اور اُن ہستیوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کے بادل برسائے جن کے پہلُو بستروں سے جدارہتے ہیں، انہوں نے”تقویٰ” کو اپنا فخریہ لباس بنایا، خوف نے اُن کی نیند اور اُونگھ اُڑا دی، جب لوگ خوش ہوتے ہیں تو وہ غمگین ہوتے ہیں۔ آنسوؤں نے ان کی نیند اور سکون ختم کر دیا پس وہ غمگین اور دَرد بھرے دل سے روتے ہیں، انہوں نے آہ وبُکا کو اپنی عادت اور آنسوؤں کو پانی بنا لیا۔ ان کے دن غم میں کٹتے اور راتیں پھوٹ پھوٹ کر رونے میں گزرتی ہیں، وہ آہ وزاری سے سَیر نہیں ہوتے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے انسان کو ہنسایااور رُلایااورزندگی اور موت عطا فرمائی اورماضی و مستقبل کاعلم سکھایا۔ انہوں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے عہد کیا تو اس کو وفاکرنے والا پایا ۔اس سے معاملہ کیا تو ساری زندگی نفع دینے والا پایا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ربّ ِ عظیم عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان :جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گرپڑتے سجدہ کرتے اور روتے۔( پ16،مریم :58)

(یہ آیتِ سجدہ ہے اسے پڑھنے،سننے والے پرسجدہ کرناواجب ہے)

اُن میں سے ہر ایک اپنا چہرہ خاک پر رکھ دیتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو رنجیدگی سے خالی پاتے ہیں تو روتے اور گریہ وزاری کرتے ہیں اور جب اپنے گناہوں کے متعلق سوچتے ہیں توخوب گِڑگِڑاتے ہیں اور آنسوؤں سے ان کی پلکیں زخمی ہوجاتی ہیں ۔ وہ سب بادشاہِ حقیقی کی بارگاہ میں پلکوں کے بادلوں سے آنسو بہاتے اور روتے روتے ٹھوڑی کے بل گر پڑتے ہیں اور اہل صدق ووفا کے متعلق سرکار علیہ الصلٰوۃوالسلام کا یہ فرمان کہ ”اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے والی صورت بنا لو۔ (سنن ابن ماجۃ ، ابواب الزھد،باب الحزن والبکاء،الحدیث4196،ص2732)

سنتے ہیں تورونے سے نہیں اُکتاتے ۔ اوران میں سے ہرایک اپنی لغزش پرروتاہے ۔سبھی اس کی سطوت و اقتدار سے خوف زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان :اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں۔ (پ17، الانبیآء:28)

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کو ہر طرح کی آزمائشوں میں مبتلا فرمایایہاں تک کہ اپنے مقرب انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی آزمایا اور حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السلام کو جنت سے اُتارا گیا توابوالبشر ہونے کے با وجود چالیس سال تک روتے رہے۔ حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علیہ السلام حضرتِ سیِّدُنا یوسف علیہ السلام کے غم میں اس قدر روئے کہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں سفید ہو گئیں اورجب دوسرے بیٹوں نے اُن کو آپ علیہ السلام سے دورکردیاتو آپ علیہ السلام نے اُن سے فرمایا:

اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان : میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں ۔اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔(پ13،یوسف:86)

جب بھائیوں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا یعقوب علیہ السلام صرف حضرت سیِّدُنا یوسف علیہ السلام سے ہی زیادہ محبت کرتے ہیں تو انہوں نے آپ علیہ السلام کو گہرے کنوئیں میں ڈال دیا، وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان : اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔” ( پ12،یوسف:16)

حضرتِ سیِّدُنایزیدرقاشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے تو ان سے عرض کی گئی:”آپ کیوں روتے ہیں؟” تو ارشادفرمایا: ”میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ اب مجھے راتوں کے قیام، دن کے روزوں اور ذکر کی مجالس میں حاضری کا موقع نہ ملے گا۔

حضرتِ سیِّدُنا عامربن قیس رحمۃ اللہ علیہ کا وقتِ وصال قریب آیا تو رونے لگے۔آپ رحمۃاللہ علیہ سے عرض کی گئی: ”کون سی چیز آپ کو رُلارہی ہے ؟ تو آپ رحمۃاللہ علیہ نے ارشادفرمایا:”میں سخت گرمیوں کے روزوں اور سردیوں میں قیام پر رو رہا ہوں۔ (کیونکہ اب دوبارہ یہ موقع ہاتھ نہ آئے گا)

حضرتِ سیِّدُنا ابوشَعْثَاء رحمۃاللہ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے دریافت کیا گیا: ”کون سی چیز آپ کو رُلا رہی ہے ؟تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایا : ”مجھے راتوں کے قیام کا شوق تھا۔

حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم فر ماتے ہیں کہ ایک عبادت گزار شخص بیمارہوگیاتوہم اس کی عیادت کے لئے اس کے پاس گئے۔ وہ لمبی لمبی سانسیں لے کر افسوس کرنے لگا۔ میں نے اس کو کہا: ”کس بات پر افسوس کر رہے ہو؟”تو اس نے بتایا: ”اس رات پرجو میں نے سو کر گزاری اور اس دن پر جس دن میں نے روزہ نہ رکھا اور اس گھڑی پر جس میں مَیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل رہا۔

ایک عابد اپنی موت کے وقت رونے لگا۔اس سے وجہ دریافت کی گئی تو اس نے جواب دیا کہ ”میں اس بات پر روتا ہوں کہ روزے دار روزے رکھيں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا۔ذاکرین ذکر کریں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا۔ نمازی نمازیں پڑھیں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا ۔

اے غافل انسان! ان بزرگوں کودیکھ! مرنے پرکیسے افسُردہ اور نادِم ہو رہے ہیں کہ موت کے بعد عملِ صالح نہ کر سکیں گے۔ اپنی بقیہ عمرسے کچھ حاصل کرلے اور جان لے کہ جیسا کریگاویسا بھرے گا۔کیا تو ان لوگوں کی قبروں سے گزرتے ہوئے عبرت حاصل نہیں کرتا؟ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ اپنی قبروں میں اطمینان سے ہیں لیکن پھر بھی تمہاری طرف لوٹنے کی خواہش کرتے ہیں،وہ فوت شدہ اعمال کی تلافی چاہتے ہیں۔ کتنے واعظین نے وعظ کیا ،ڈرایا اور موت نے کتنی مِٹی کو آباد کر دیا؟ کیا تیرے پاس ایسے کان نہیں جو نصیحت کو سنیں؟کیا توایسی آنکھ نہیں رکھتا جو اپنے محبوب کے جدا ہونے پر آنسو بہائے؟ کیا تیرے پاس ایسا دل نہیں جوخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے گِڑگڑائے؟ کیاتجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرنے کی طمع نہیں ؟۔۔۔


کسی بھی ادارے  کےافراد کی مستقل تربیت اس ادارے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اچھے تعلیمی ادارے اپنے اسٹاف کی تربیت کے لئےتربیتی سیشنز کا اہتمام کرتے رہتےمیں۔

الحمدللہ عزوجل دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم میں بھی وقتاً فوقتا ًاسٹاف کی تربیت کےلئےتربیتی پروگرامز کا انعقادکیاجاتاہے۔پچھلےدنوں دارالمدینہ کے پرنسپلز،اکیڈمک اور دینیات کو آرڈینیٹرز کےلئے تربیتی سیشن کا اہتمام کیاگیا۔

اس تربیتی سیشن  میں رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ ونگرانِ شعبہ دارالمدینہ حاجی محمد اطہر عطاری نےسنتوں بھرابیان کیا، رکن شوریٰ نے اپنے بیان میں سیرتِ مصطفیﷺ کی روشنی میں تربیت کی اہمیت کو بیان کرتےہوئے’’ تربیت کرنے کا اندازکیساہونا چاہیئے‘‘ اس پر اساتذہ ٔ کرام کی رہنمائی فرمائی۔ (رپورٹ:محمد امین حفیظ میڈیا کوآرڈینیٹر سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ دارالمدینہ ،ہیڈ آفس کراچی، ویب ڈیسک رائٹر:غیاث الدین عطاری)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خوف خدا عزوجل میں روناسب کے بس کی بات نہیں ۔خوف خدا عزوجل میں ڈوب کر وہی لوگ روتے  ہیں جو ہر وقت اللہ پاک اور قبر وحشر کے عذابات سے ڈرتے رہتے ہیں۔احادیث مبارکہ میں خوف خدا عزوجل میں رونے والوں کے فضائل بکثرت وارد ہوئے ہیں۔آئیے ان میں سے کچھ فضائل سنتے ہیں۔

حضرت محمد بن المُنذِر رحمۃ اللہ علیہ جب خوف خدا عزوجل سے روتےتو اپنی داڑھی اورچہرےپر آنسوملا کرتےاورکہتے،میں نےسناہےکہ وجود کےجس حصے پر آنسولگ جائیں گے اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"جوشخص خوف خدا عزوجل سےروتا ہےوہ جہنم میں ہرگز داخل نہیں ہوگا اسی طرح جیسےکہ دودھ دوبارہ اپنے تھنوں میں نہیں جاتا۔(ترمذی،کتاب فضائل الجھاد الحدیث 1639)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو خوف خدا سےبیہوش ہوجاتے،ایک دن ایک تنکاہاتھ میں لےکر کہاکاش! میں ایک تنکاہوتا! کوئی قابل ذکر چیز نہ ہوتا! کاش مجھے میری ماں نہ جنتی! اور خوف خدا سے اتنا روتے کہ آپ کے چہرے پر آنسوؤں کےبہنےکی وجہ سے دوسیاہ نشان پڑ گئے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعامانگا کرتے تھے: کہ اللہ عزوجل مجھے ایسی آنکھیں عطافرما جو تیرے خوف سے رونے والی ہوں۔(جامع لاحادیث،4823)

ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ عزوجل سے رونے والی آنکھیں مانگے اور عذاب الہیٰ سے ڈرتارہے اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے روکتا رہے۔ 


خوفِ خدا میں آنسو بہانا ، ربّ کریم اور اس کے بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہنے دیتا، ندامت کے ساتھ اللہ کریم کی بارگاہ میں آنسو بہانا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے ، یقیناً خوفِ خدا میں رونے کے بڑے فضائل ہیں ۔

خوفِ خدا میں رونے کی ترغیب پر قرآن کی آیت اور کچھ روایات اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگان دین رحمہم اللہ کے اقوال ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ ہمارے دلوں میں بھی خوفِ خدا میں رونے کی اہمیت میں اضافہ ہو ۔

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ،

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ(۵۹) وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ(۶۰)

ترجَمۂ کنزالایمان: تو کیا اس بات سے تم تَعجُّب کرتے ہو ، اور ہنستے ہو اور روتے نہیں۔

(پ 27،النجم:59،60)

تو اصحاب صفّہ رضی اللہ عنہ اس قدر روئے کہ ان کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے ۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رونے لگے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہتے ہوئے آنسو دیکھ کر وہ اور بھی زیادہ رونے لگے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ تعالی کے ڈر سے رویا ہو۔

(خوفِ خدا ص :139، مکتبۃالمدينہ)

سنن ابنِ ماجہ کی حدیث شریف ہے: جس بندۂ مومن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف کے سبب مکھی کے پر برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچا تو اللہ پاک اس بندے پر دوزخ کو حرام فرما دیتا ہے ۔(احیاءالعلوم ص542 مکتبۃ المدينہ)

حضرت سیدنا محمد بن مُنکَدر رحمۃُ اللہِ علیہ جب روتے تو اپنے آنسؤوں کو چہرے اور داڑھی پر مل لیتے اور فرماتے: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جہنم کی آگ ان اعضاء کو نہیں کھائےگی جن سے (خوفِ خدا سے بہنے والے) آنسو مس ہوئے ہوں ۔(احیاءالعلوم ص544 مکتبۃ المدينہ)

حضرت سیدنا سلیمان دارنی قدّس سرّہُ النُوْرَانِی فرماتے ہیں: جس شخص کی آنکھ خوفِ خدا میں آنسوں بہاتی ہے قیامت کے دن اس شخص کا چہرہ سیاہ ہوگا نہ اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا جب اس کی آنکھ سے آنسو بہتے ہیں تو اللہ پاک ان کے پہلے قطرے سے دوزخ کے شعلوں کو بجھا دیتا ہے اور اگر کسی امّت میں ایک بھی شخص خوفِ خدا سے روتا ہے تو اس کی برکت سے اس امّت پر عذاب نہیں کیا جاتا۔آپ رحمۃُ اللہِ علیہ مزید فرماتے ہیں: رونا خوف کے سبب ہوتا ہے جبکہ خوشی سے جھومنے اور شوق کی کیفیت امید سے پیدا ہوتی ہے ۔

(احیاءالعلوم ص544 مکتبۃ المدينہ)

پیارے مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: جس دن عرشِ الٰہی کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا اس دن الله پاک سات قسم کے لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائےگا ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو تنہائی میں اللہ پاک کو یاد کرے اور (خوفِ خدا سے) اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں ۔(احیاءالعلوم ص543 مکتبۃ المدينہ)

مصطفی جانِ رحمت (صلی الله علیہ وسلم) یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

اَللّھُمّ ارْزُقْنِیْ عَيْنَيْنِ ھَطَّالَتَيْنِ تَشْفِيَانِ القَلْبَ بِذُرُوْفِ الدَّمْعِ مَعَ خَشْيَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَصِيِرَ الدُّمُوْعُ دَماً وَ الْأَضْرَاسُ جَمْراً ،یعنی اے الله پاک ! مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرما جو خوب بہنے والی ہوں اور تیرے خوف سے آنسو بہا بہا کر دل کو شفا بخشیں اس سے پہلے کہ آنسو خون میں اور داڑھیں انگاروں میں تبدیل ہو جائیں۔(احیاءالعلوم ص543 مکتبۃ المدينہ)

اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ خوفِ خدا میں رونے کی توفیق عطا فرمائے ۔


اللہ پاک کا مقرب  بندہ بننے  کے لئے لیے جہاں پر بہت  ذرائع ہیں وہیں  پر  خوف الہی بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے اپنے بندوں کو غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے ذکر کی طرف رغبت  کے لئے  کم ہنسنے اور زیادہ  رونے کے متعلق فرماتا  ہے:

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًاۚ ،

انہیں چاہیے کہ تھوڑا سا ہنس لیں اور بہت زیادہ روئیں ( التوبہ، آیت  82 )

قرآن کریم میں جس  طرح رونے کا حکم ہے  احادیث مبارکہ میں بھی خوف الہی میں  رونے والوں کے  کثیر فضائل وارد ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا ایک ذریعہ خوف خدا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تم میرے بعد خوف  زیادہ رکھنا۔ ( خوف خدا ،ص 16)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :حکمت کی اصل اللہ تعالیٰ کا خوف ہے (ایضا )

نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس بندے  کی آنکھوں سے خوف خدا کے سبب انسونکل کر چہرے تک پہنچتے ہیں تو اللہ اس کو آگ پر حرام فرما دیتا ہے اگرچہ  وہ مکھی کے سر کے برابر ہوں۔( حکایتیں اور نصیحتیں ، ص 135)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوآ نکھیں ایسی ہیں جنہیں آگ نہیں چھوئے گی ، ایک وہ آ نکھ جو آدھی رات میں اللہ کے خوف سے روئی اور دوسری وہ آ نکھ جس نے راہ خدا میں نگہبانی کرتے ہوئے رات گزاری۔

(مکاشفۃ القلوب ۔ ص 396)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر آ نکھ روئے گی مگر جو آنکھ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے رک گئی ، جو آنکھ راہ خدا میں بیدار رہی اور جس آ نکھ سے خوف الہی کی وجہ سے مکھی کے سر کے برابر آ نسو نکلا وہ رونے سے محفوظ رہے گی ۔(ایضا )

حضرت انس رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے، سرور ِعالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تھوڑا ہنستے اور بہت روتے ( تفسیر صراط الجنان، التوبہ، آیت  82)

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی کم ہنسنے ، اپنی آخرت کے بارے میں فکرمند ہونے اور گریہ و زاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔


دعوتِ اسلامی کےشعبہ مدرسۃالمدینہ رہائشی کےتحت 7دسمبر2021ءبروزمنگل بھمبر ضلع جاتلاں کشمیرمیں قائم مدرسۃالمدینہ رہائشی کاذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی نےدورہ کیاجہاں انہوں نےمدرسےکےناظم اورمدرسین سے ملاقات کی۔

اس دوران نگرانِ شعبہ مدرسۃالمدینہ رہائشی فلک شیر عطاری نےمدرسۃالمدینہ کےبچوں کےدرمیان دینی حلقےکااہتمام کیااور اُن کی دینی،اخلاقی اورتنظیمی اعتبارسےتربیت کی۔ (رپورٹ:شعبہ مدرسۃالمدینہ رہائشی ،کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کےشعبہ عطیات بکس کےتحت 7دسمبر2021ءبروزمنگل پنجاب پاکستان کے شہر حافظ آباد میں قائم مدنی مرکز فیضان ِمدینہ میں ایک تربیتی سیشن کا اہتمام ہواجس میں شعبہ ذمہ داران نےشرکت کی۔

مبلغِ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فیضان عطاری مدنی نے شرکاکو 12 دینی کاموں میں عملی طورپر حصہ لینے اورشعبہ کے تحت جاب ڈیسکرپشن نیز ڈیلی روٹین کو تبدیل کرنے کے حوالے سےذہن سازی کی جس پرشرکانےاچھی اچھی نیتوں کااظہار کیا۔ (رپورٹ:ابو حبان محمد فیضان،کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)