اِنَّ اللہَ وملائکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما0 درود کی فضیلت حدیث کی روشنی میں :من صلی مرۃ فتح اللہ لہ بابا من العافیۃ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا اللہ اس کے لئے عافیت کا ایک دروازہ کھول دیا۔آپ نے بنی نوعِ انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ دکھایا ،اپنی زندگی اور عمل سے اسوۂ حسنہ پیش کیا ان پر حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے احسانات کا تقاضا ہے کہ ہر چیز سے بڑھ کر آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت اور آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر درود کی کثرت کی جائے۔ قرآنِ حکیم میں سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے:بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والوں تم بھی ان پر درود سلام بھیجا کرو۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر درود بھیجیں تو بدلے میں اللہ پاک عافیت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔عبادت اور بندگی میں آیتِ قرآنی:اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ سبحنہ وپاک عما یشرکون0اب آتا ہے اللہ کا حکم تو اس کی جلدی نہ کرو پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے۔ینزل الملائکۃ بالروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ ان انذرو انہ لا الہ الا انا فاتقون0 ترجمہ:ملائکہ کو ایمان کی جان یعنی وحی لے کر اپنے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں تو مجھ سے ڈرو ۔تفسیر:اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک فرماتا ہے: اس کے حکم کے آگے جلدی نہ کرو کہ وہی مالکِ کائنات ہے۔واحد لاشریک ہے۔اس کی پاکی و برتری ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔جو قدرت اللہ پاک کی ذات کو حاصل ہے وہ کسی اور کی ذات کو حاصل نہیں۔اللہ پاک کی وحدانیت کا اندازہ بخوبی سورۃ الاخلاص کے ترجمہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہہ دیجیے اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے، نہ وہ کسی کی اولاد، نہ اس کوئی ثانی/ ہمسر ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ خدا کی بندگی کی جائے کیونکہ وہی ذات عبادت کے لائق ہے اور یہ ان لوگوں پر دلیل ہے جو اللہ پاک کی ذات میں کسی کو شریک کرتے ہیں۔ بے شک ایسے کفار کے لئے عذابِ الٰہی کی وعید کا حکم ہے۔ وحی کے ذریعے اللہ پاک فرماتا ہے:مجھ سے ڈرو اور میری بندگی کرو۔موت کے بعد کام آنے والا عمل:موت کے بعد کام آنے والے اعمال میں سے تین اعمال :رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے ان تین اعمال کے وہ منقطع نہیں ہوتے:(1)صدقہ جاریہ(2) ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے(3) نیک اولاد جو مرنے والے کے لئے دعا کرے۔اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی بنائے کہ میری بندگی کریں۔آیتِ مبارکہ کا ترجمہ :خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے زینت اور آپس میں فخر ( غرور) مال و اولاد میں ایک دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے جیسے بارش اور اور اس کی پیداوارکسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وہ خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وہ بالکل چورا چوراہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں ہے۔تفسیر القرآن: اس آیت میں واضح کر دیا گیا کہ دنیا کی زندگی آزمائش کا گھر ہے سوا اس کے اور کچھ نہیں تو آپس میں فخر و غرور کا تقاضا کچھ معنی نہیں رکھتا خود کو سبقت نہ دو ایک دوسرے پر اور نہ جتلاؤ مال، دولت اور تمام ترسامان، زندگی، آسائش کی جاہ نہیں، ایمان کا تقویٰ مضبوط ہونا، نیکی میں سبقت حاصل کرنا، بھلائی اور اصلاحِ ایمان سے دل کو روشن کرنا ،آخرت پر نظر رکھتے اپنے اصلاحِ اعمال کی جانچ پڑتال کرنا اور خدا کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا کہ خدا تو وہ ہے جس نے کھانے کو رزق عطا کیا۔ آخرت کے بارے میں بھی فکر اور وعیدیں ہیں عذاب الٰہی کی اور مغفرت رضا مندی ہے زندگی بجز دھوکے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ترجمہ: مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اوربڑھ جاتا ہے اوروہ اپنے پروردگار پر بھروسا کرتے ہیں ۔تفسیر القرآن :اس آیت ِمبارکہ میں ایک مومن کی وہ تمام خصوصیات بتا دی گئی ہیں کہ پکے سچے مومن کاایمان کامل اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ وہ پرہیز گاری اور میانہ روی اختیار کرتا ہے۔ خدا کی ذات پر بھروسہ رکھتا ہے، ہر پل اس سے ڈرتا ہے،اس کے دل میں خوفِ الٰہی اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اس کا دل تقویٰ کا پیکر ہو جاتا ہے۔ مومن کا یقین خدا کی ذات پر ہوتا ہے ،اس کا عمل اس کا فعل خدا کی رضا پر کار فرما ہوتا ہے، اس کا دل اس بات پر مطمئن ہوتا ہے کہ اللہ پاک کو ہی تمام جہانوں پر قدرت حاصل ہے ۔سورۃ الحجرات آیت نمبر 1پارہ 26 رکوع 13 :ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔تفسیر القرآن: اس سورت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اخلاق کا سبق دیاہے ۔ان کا تعلق یا تو اللہ پاک کے ساتھ معاملے میں ہوگا یا اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ یا فاسق لوگوں کے ساتھ یا ان ایمان والوں کے ساتھ جو حاضر ہوں یا ان ایمان والوں کے ساتھ جو غائب ہوں اور پانچوں قسموں میں سے ہر ایک کی ابتدا یاایھا الذین امنوا کے ساتھ کی گئی ہے۔اس آیت کا معنی ہوگا اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور یہاں یہی معنی راجح ہے۔ بنیادی تقاضا رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان لانا ہے کہ جب تم اللہ پاک کو اپنا رب اور رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنا ہادی مانتے ہو تو پھر ان کے پیچھے چلو آگے مت بڑھو ،اپنے مسئلے خود ہی حل نہ کرلو بلکہ پہلے یہ دیکھو کہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا کیا حکم ہے اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد یا مومن عورت کا حق ہے کہ جب اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا کسی معاملے میں فیصلہ کردیں کہ ان کے لئے ان کے معاملے میں اختیار تو جو کوئی اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نافرمانی کرے یقیناً وہ گمراہ ہو گیا۔ سورۃ الانفال آیت قرآنی بمع ترجمہ:وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں یہی سچے مومن ہیں۔ تفسیر القرآن: اس آیتِ مبارکہ میں مومن کی صفت بیان کی گئی کہ وہ مومن کہ اللہ پاک سے ڈرتے ہیں اور جو مال دیا ہے اللہ پاک نے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، نیک اعمال کرتے ہیں اور برائی سے روکتے اورنیکی کا حکم دیتے ہیں۔ جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کے لئے دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ اطمینان اور وقار سے چلتے ہوئے آؤ،جو نماز تم پالو اسے ادا کرلو اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کرلو ۔زکوٰۃ کی اہمیت اور اس کے مصارف:قرآنِ حکیم نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کئےہیں:ترجمہ زکوٰۃ تو غریبوں،مسکینوں، زکوٰۃ کی محکمے میں کام کرنے والوں اور ان لوگوں کے لئے ہے جن کے دلوں کو اسلام کی طرف جوڑنا ہے اور گردن چھڑانے میں جو تاوان بھریں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے سلسلے میں یہ اللہ کی طرف سے ٹھہرایا ہوا ہے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی: زکوٰۃ دیتے وقت پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال رکھا جائے ،باہر کے لوگوں کو بعد میں دی جائے۔ اسی طرح جو لوگ خود بڑھ کر سوال نہیں کرتے غربت کے باوجود خود دار اور غیرت مند ہوتے ہیں انہیں تلاش کر کے زکوٰۃ اور صدقات دیے جائیں۔جہاد فی سبیل اللہ:ارشادِ باری ہے: یعنی جن لوگوں نے ہمارے بارے میں جہاد کیا (یعنی محنت اور تکلیف اٹھائی) ہم ان کو اپنے راستے دکھائیں گے اور یقیناً اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ترجمہ:بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب اتاری تاکہ وہ جہاں کے لئے ڈرانے والا ہو۔تفسیر القرآن:اللہ پاک نے اس سورت میں سب سے پہلے توحید پر کلام فرمایا ،پھر نبوت پر کیونکہ وہ رب اور بندے کے درمیان واسطہ ہے پھر قیامت پر کیونکہ وہ خاتمہ ہے۔ اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہے کہ مومن کے ایمان کا تقاضا توحیدو رسالت اور قیامت پر یقین ہے۔ دعا کی مقبولیت:رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا سے کسی نے پوچھا:کیا گناہ گار کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ فرمایا: انسان اس وقت تک توبہ کر ہی نہیں سکتا جب تک اللہ پاک توفیق نہ دے اور جب توفیق مل جائے پھر قبولیت میں کوئی شک نہیں رہتا۔ایسے اعمال جو خدا کے نزدیک افضل ہیں: (1)اللہ پاک کے نام سے وعدہ کرنا اور وعدہ شکنی نہ کرنا اسے پورا کرنا (2) مزدور سے کام کروانے کے بعد اسے اجرت میں کمی بیشی نہ کرے۔ترجمہ: اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔قرآن کی افضل ترین سورت:سورۂ یسین قرآن کی افضل ترین سورتوں میں سے ہے جو اس کی تلاوت کرے تو اس کی مغفرت کا باعث ہےاور بعض روایت کے مطابق یسین کو قرآنِ مجید کا دل کہا گیا ہے۔ترجمہ: لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں۔نماز کے بارے میں حکمِ الٰہی:نماز دین کا پہلارکن ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔نماز فرائض میں سے پہلا فرض ہے۔ قیامت کے دن سب سے پہلا سوال مومن سے نماز کا ہوگا۔ ترجمہ: اور وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ تفسیر القرآن: اس آیتِ مبارکہ میں مومن کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ نماز کی ادائیگی کرتے ہیں اور جو مال اللہ پاک نے ان کو دیا ہےاس میں سے اس راہ میں خرچ کرتے ہیں اور مال خرچ کرنے سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی ،صدقۂ فطر اور وہ مال جو خاص اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کا حصول ہو اس کی خوشنودی کے لئے اور خدا سے محبت اور اس کے قرب کو حاصل کرنا، نمازوں کی ادائیگی اور فرض اوقات واجبات صحیح معنوی لحاظ سے سجدہ وسجود اور رکوع تمام عبادات کا مخصوص انتظام کرتے ہیں۔ مومن انہیں نماز مومن اپنی نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی رضا حاصل کر سکیں۔ترجمہ: مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔وہ بخشتا ہے گناہ عظیم بھی، ہماری چھوٹی سی نیکی بھی سنبھال رکھتا ہے ،ہم اسے بھول جاتے ہیں روشنی میں،وہ تاریکی میں بھی خیال رکھتا ہے، گھروں میں جن کے دیے نہیں ہیں ان کے لئے، فضا میں ان کے لئے چاند تارے اچھال رکھتا ہے، محبت اپنے بندوں سے کمال رکھتا ہے ،وہ ایک اللہ ہے جوسب کا خیال رکھتا ہے۔ سورۃ واقعہ22-29: جنتی کو ہر طرف سے اسلام کی آواز آئے گی۔سورہ واقعہ63-67:اے انسان تیرا کوئی کمال نہیں ۔ سورۂ واقعہ60تا62:انسان غور کرے تو اس کا سر خود بخود جھک جائے۔قرآن کی تلاوت:قرآن کی فضیلت اور اس کی برکات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید ،فرقانِ حمید اللہ پاک کی وہ مقبول ترین کتاب ہے جو ہمارے آقا علیہ الصلاۃ والسلام پر تقریبا 23 سال کے میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا اور اس کو تمام دنیا میں کامیابی اور کامرانی کی واضح دلیل بنا دیا گیا ۔قرآن تمام پہلو زندگی میں واحد ذریعۂ ہدایت ہے ۔اس میں تمام مسائل کا حل اور امتِ محمدی سے پہلے تمام امتیں جو گزر چکیں ان کا حال احوال اور ان پر اللہ پاک کی طرف سے ہونے والے انعامات اور عذابِ الٰہی کا بھی ذکر موجود ہے۔قرآن تا قیامت ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں۔یہ جامع نچوڑ ہے۔ اس کی حفاظت اللہ پاک کے ذمہ ہے۔ارشادِ ربانی ہے:خود اتاری ہے ہم نے یہ نصیحت اور ہم خود ہی اس کے نگہبان ہیں۔قرآن کی سورتیں اور ان کے فضائل:سورۃ الکہف:جمعے سے آنے والے جمعے تک روشن نور ہو گا۔سورۃ الاخلاص:منافقت سے بچاتی ہے۔سورۃ تعابن:جنات اور آسیب کے اثر سے محفوظ رکھتی ہے۔ سورۃ رحمٰن:قرآن کی زینت ہے اور نعمتوں کا شکر ادا کرتی ہے۔سورۃ یسین :قیامت کے دن پیاس بجھائے گی۔سورۃ الملک:عذابِ قبر سے بچاتی ہے۔سورۃ الناس: حادثوں اور وسوسوں سے بچاتی ہے ۔سورۂ واقعہ:فقر و فاقہ سے بچاتی ہے۔سورۂ جن:جنات اور آسیب کے اثر سے محفوظ رکھتی ہے۔سورۂ سجدہ:قیامت کے دن پڑھنے والوں پر پردہ کرے گی۔آیتِ مبارکہ کا ترجمہ:اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔ حیا اور ایمان کے متعلق حدیث:شرم و حیا ایمان سے ہے۔صدقہ اور خیرات کی برکات:ارشادِ باری ہے:ترجمہ:بے شک صدقہ اللہ پاک کے غضب کو مٹا دیتا ہے، بجھا دیتا ہے۔ یہ عام حال میں مصیبتوں اور ناپسندیدہ احوال سے بندے کو بچاتا ہے۔حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کو اس قدر زیادہ کھانا کھلاتے کہ بارہا آپ کے اہل و عیال لئے کچھ نہ بچتا۔ فرمانِ مصطفٰے ہے:آدمی کا اپنی صحت و زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا موت کے وقت سو درہم خرچ کرنے سے بہتر ہے۔اللھم اصلح قلبی۔صدقہ تمام آفات سے بچاتا ہے۔سورۂ یوسف مثال ہے۔ کچھ چیزیں لمحوں میں نہیں دی جاتیں وہ اکثر صدیوں میں تمہارا حصہ لکھی جاتی ہیں۔نیکی کی دعوت:رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو نیکی کی راہ پر چلایا تو اس کو نیکی کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا۔فرمانِ مصطفٰے ہے:لوگوں پر مہربانی کرنا صدقہ ہے۔ نوافل کی فضیلت:فرمانِ مصطفٰے ہے:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں،استقامت اور ثابت قدمی اختیار کرنے والا انسان کامیاب رہتا ہے اور پھر ہر تکلیف کا آخری حل سجدہ ہوتا ہے اللھم ردنا الیک رداجمیلا۔جھوٹ سے اجتناب:فرمانِ امام جعفر صادق:جھوٹ سے بڑی کوئی بیماری نہیں۔ ترجمہ:اے اللہ!میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور دل کا غنا مانگتا ہوں۔