جس طرح چاند، سورج سے روشنی لے کر رات میں سارے عالَم(دنیا) کو روشن کرتا ہے ایسے ہی عالِم نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے علم کا فیض حاصل کر کے علم دین سے دنیا کو معطَّر و معنبَّر کرتا ہے۔ عالِم جہالت کے طوفان میں لوگوں کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو نکال کر کنارے پر لگادیتا ہے۔ علما کی بہت بڑی شان ہے جس کو خود رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بیان فرمایا ہے۔ آئیے سنتے ہیں:

(1) پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِى عَلَى اَدْنَاكُمْ کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کمتر پر۔ (مشکوٰۃ المصابيح، 1/ 62، کتاب العلم الفصل الثانی، حدیث: 212، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ بیروت)

اس حدیث پاک کے تحت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: عالم کو عابد پر دینی فضیلت حاصل ہے نہ کہ دنیوی اگرچہ ان دونوں فضیلتوں میں بہت فرق ہے جیسے بادشاہ کو عوام پر سلطنت کی فضیلت حاصل ہوتی ہے، مالدار کو فقیر پر مال کی، طاقتور کو کمزور پر قوت کی، حسین کو بدشکل پر خوبصورتی کی فضیلت حاصل ہوتی ہے مگر یہ فضیلتیں دنیوی اور ختم ہوجانے والی ہیں، نبی کو مخلوق پر دینی فضیلت حاصل ہے جو ہمیشہ قائم رہے گی ایسے ہی عالم کو جاہل پر۔ (مرآۃ المناجیح، 1/ 195، کتاب العلم، بتغير مطبوعہ: قادری پبلشرز)

(2) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن علماء کی دَواتوں (Inkpot) کی سیاہی اور شہیدوں کا خون تولا جائے گا تو علماء کی دواتوں کی شہیدوں کے خون پر غالب آجائے گی۔ (فیضان علم و علما، ص 14،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

(3) حضرت ابن عبّاس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: فَقِيْهٌ وَاحِدٌ اَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ اَلْفِ عَابِدٍ کہ ایک فقیہ( دین کی صحیح سمجھ رکھنے والا) شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔ (مشکوٰۃ المصابيح، 1/ 63، کتاب العلم الفصل الثانی، حدیث:217، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ بیروت) والد اعلی حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃُ اللہِ علیہ اس کی وجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ عابد اپنے نفس کو دوزخ سے بچاتا ہے اور عالِم عالَم(بہت سے لوگوں) کو ہدایت فرماتا ہے اور شیطان کے مکر و فریب سے آگاہ کرتا ہے۔ (فیضان علم و علما، ص 18، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)

(4) رحمت عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الاَنْبِيَاءِ کہ بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں(مشکوٰۃ المصابيح، الحدیث: 212)۔اس حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: کسی نبی کی مالی میراث نہ بٹی ان کا چھوڑا ہوا مال دین کے لیے وقف ہوتا ہے اور قیامت تک علما ان کے وارث ہیں۔ اسی لیے علماء کو وارثین انبیاء کہا جاتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح،1/ 194،مطبوعہ: قادری پبلشرز)

(5) اللہ پاک  کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: صُبْح کر اس حالت میں کہ تو عالم ہے یا علم سیکھتا ہے یا عالم کی باتیں سنتا ہے یا ادنی درجہ یہ کہ عالم سے مَحبت رکھتا ہے اور پانچواں نہ ہونا کہ ہلاک ہو جائے گا۔ (ملفوظات اعلٰی حضرت، ص 58)