عِلم زندگی اور جہالت موت ہے۔عِلم کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو علم کی وجہ سے فرشتوں پر برتری حاصل ہوئی۔ علم ہی کے ذریعے سے الله پاک کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے: ترجمہ ٔکنزالایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔ ( پ 23 ،الزمر: 9)ایک اور جگہ ارشادِ باری ہے:ترجمۂ کنزالایمان:الله سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ (پ22، الفاطر:28)اولیائے کرام کا فرمان ہے:صوفِی بے عِلم مسخرہ ٔشیطان است یعنی بے علم صوفی شیطان کا مسخرہ ہے۔ (علما پر اعتراض منع ہے، ص10-فتاویٰ رضویہ، 24/ 132)5 :فرامینِ نبی ِآخر الزماں:1: انبیا علیہم الصلوۃ و السلام کے وارث:علما کو انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کے وارث ارشاد فرمایا۔(احیاء العلوم،1/45-ابن ماجہ،1/146،حدیث:223) انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام نے اپنی وراثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑے، بلکہ ان کی میراث علم ہے۔علما کو انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کے وارث اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ انبیا علیہم الصلوۃ و السلام کی میراث حاصل کرتے ہیں۔ (یعنی علمِ دین) اور اللہ پاک اور اس کے رسولِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قرب کی طرف لوگوں کی راہ نمائی کرتے ہیں۔2: عالم کی عابد پر فضیلت:حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،پیارے آقا، مکی مدنی مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں دو آدمیوں ، عابد اور عالم کا ذکر ہوا، آقا کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے کمتر پر۔(انوار حدیث، ص63-ترمذی- مشکوة ) 3:عالم شیطان پر بھاری:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مکی مدنی مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:ایک عالِم شیطان پر ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ بھاری ہے۔ (انوار حدیث ص 64، ترمذی ، مشکوة ) ایک عالمِ دین لاکھوں لوگوں کو عِلم سکھاتا ہے،راہِ ہدایت بتاتا ہے،شیطان کے مکرو فریب سے آگاہ کرتا ہے،بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جبکہ ایک عابد کا فائدہ صرف اپنی ذات کے لیے ہوتا ہے۔ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے: بے علم اپنی بے علمی کی وجہ سے عبادت میں سو گناہ کرتا ہے اور آفت یہ کہ ان کو گناہ بھی نہیں سمجھتا، عالمِ دین اپنے گناہ میں اللہ پاک کے خوف اور اپنے گناہ پر شرمندگی کی وجہ سے نجات پا جاتا ہے۔(علما پر اعتراض منع ہے ص 12،فتاویٰ رضویہ 23 / 687)4: عالِم کے لیے دعائے مغفرت:زمین و آسمان میں موجود ہر چیز عالم کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے۔ ( احیاء العلوم، ص45، ابن ماجہ، حدیث:223، ج 1، ص 146)سبحان اللہ! کیا مقام و مرتبہ ایک عالِم کو حاصل ہے کہ زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کے لیے دعائے مغفرت کر رہی ہے۔ کتنا خوش نصیب ہے وہ انسان جس کے لیے زمین و آسمان کی مخلوق محوِ دعا ہے۔

5: درجۂِ نبوت اور علما:درجۂِ نبوت کے سب سے زیادہ قریب لوگوں میں سے علما و مجاہدین ہیں ۔ کیوں کہ علما رسولوں کی بتائی گئی باتیں لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور مجاہدین رسولوں کی لائی ہوئی شریعت کی حفاظت کرتے ہوئے تلواروں سے لڑتے ہیں۔ (احیاء العلوم ص 46، المرجع السابق، حدیث 132، ص 148)امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے : راتوں کو عبادت کرنے والے اور دن بھر روزہ رکھنے والے ایک ہزار عابدوں کی موت ایک عالِم کی موت سے آسان ہے جو اللہ پاک کی حلال اور حرام کی ہوئی چیزوں کا عِلم رکھتا ہے ۔(احیاء العلوم ص 57،جامع بیان العلم وفضلہ باب تفضیل العلم علی العبادة ،الرقم 115، ص42 بتغیر)اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے۔علمائے اہلِ سنّت کا سایہِ عاطفت ہم پر تادیر قائم رکھے اور ہمیں علمائے کرام کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ۔( انوار حدیث* احیاء العلوم * علما پر اعتراض منع ہے )