حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مسجد فتح میں تین روز تک دعا کی پیر کے دن اور منگل کے دن اور بدھ کے دن آپ کی دعا دو نمازوں ظہر اور عصر کے درمیان قبول ہو گئی تو آپ کے چہرہ ٔانور پر خوشی کے آثار نمایاں ہوگئے ۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :اس کے بعد جب بھی مجھے کوئی شکل صورت حال پیش آئی تو میں نے انہی گھڑیوں میں دعا مانگی اور میرا مسئلہ حل ہو گیا۔(مسند احمد)اس کے علاوہ ان مقامات میں دعائیں مقبول ہوتی ہیں: مکہ مکرمہ کے چند مقامات :(2)مطاف :وہ جگہ جہاں طواف کیا جاتا ہے کہ یہاں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جہاں رحمتوں کا نزول ہو وہاں دعا مقبول ہوتی ہے۔(3)مستجاب: کعبہ کی دو دیواروں رکن ِیمانی اور رکنِ اسود کی بیچ کی جنوبی دیوار یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لیے مقرر ہیں اسی لیے سیدی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقام کا نام مستجاب یعنی دعا کی قبولیت کی جگہ رکھا ہے۔ (4)ملتزم (5)زم زم کے کنویں کے قریب(6) آب زم زم پیتے ہوئے ۔حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:زم زم جس مراد سے پیا جائے اسی کے لیے۔(ابن ماجہ ج 3 ص 490 حدیث 3062)(7)بیت اللہ کے اندر(8)عرفات خصوصا مؤقف نبی پاک کے نزدیک مدینہ منورہ کے چند مقامات(9)مسجدِ نبوی (10) مواجہہ شریف:امام ابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:دعا یہاں قبول نہ ہوگی تو کہاں قبول ہوگی؟(11)منبرِ اطہر کے پاس(12)مسجدقباء شریف میں(13)مساجد طیبہ جن کو سرکار مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سرورِ قلب و سینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے نسبت ہے مثلا مسجد غمامہ و مسجد قبلتین(14)مشاہد ِمبارکہ(یعنی حاضر ہونے کی جگہ ) یہاں مراد یہ ہے جس جس مقام پر سرکار مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لے گئے وہاں دعا قبول ہوتی ہے مثلا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہکا مقدس باغ وغیرہ(15) مزاراتِ بقیع۔