اسلام نے پڑوسیوں کے حقوق کو بڑی اہمیت دی ہے ہمارے معاشرے میں جو تعلقات باہم رابطے کا ذریعہ بنتے ہیں ان میں رشتہ داروں کے بعد ہمسائیگی کا تعلق ہے، ہم سب کا مشاہدہ ہے ہمسائے نہایت ہی قریب ہونے کی وجہ سے رشتہ داروں سے بھی پہلے مدد کو پہنچتے ہیں خالصتاً انسانی مسئلہ اور ہمدردی کی بنا پر لوگوں کو ہمسایہ کی ضرورت پڑتی رہتی ہے لہٰذا ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہمسائیوں کے حقوق کے معاملے میں بےتوجہی نہ برتے ان کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرے۔ اللہ کریم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء: 36) ترجمہ کنز العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔

ہمسائیوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ اس حوالے سے مفسرین کے تین اقوال ہیں:

1۔ قریب کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہو اور دور کے ہمسائے سے مراد وہ جو محلہ دور تو ہو مگر اس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا نہ ہو۔

2۔ جو پڑوسی بھی ہو اور رشتہ دار بھی ہو وہ قریب کا ہمسایہ اور جو صرف پڑوسی ہو رشتہ دار نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ

٣ ٭جو پڑوسی بھی ہو اور مسلمان بھی ہو وہ قریب کا ہمسایہ اور جو صرف پڑوسی ہو مسلمان نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ۔ (تفسیرات احمدیہ، ص 275)

پڑوسی کے حقوق عام مسلمانوں کے حقوق سے بھی زیادہ ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: پڑوسی تین قسم کے ہیں: ایک وہ پڑوسی جسکا ایک ہی حق ہے دوسرا وہ جس کے دو حق ہیں اور تیسرا وہ جس کے تین حقوق ہیں اور وہ جس کے تین حقوق ہیں وہ مسلمان اور قریبی رشتہ دار ہے اور جس کے دو حق ہیں وہ مسلمان ہے اور جس کا ایک حق ہے وہ مشرک ہے۔ (حلیۃ الاولیاء، 5/235، حدیث: 6948)

آپ ﷺ کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے مشرک کے حق کو ثابت کرنا پڑوسی کے حق کی تاکید پر دلالت کرتا ہے۔

پڑوسی کے حقوق:

حضرت علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ایک حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے؟ اگر وہ تم سے مدد مانگے تو اسکی مدد کرو، قرض مانگے تو قرض دو، اگر وہ محتاج ہو تو اسے کچھ دو، بیمار ہو تو عیادت کرو، مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ، اسے کوئی خوشی حاصل ہو تو مبارکباد دو، مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو، بلا اجازت اسکے مکان سے اونچا مکان بنا کر اسکی ہوا نہ روک دو، اگر تم پھل خریدو تو تحفۃً اسے بھی دو اور اگر ایسا نہ کرو تو پھر پوشیدہ طور پر لاؤ اور تمہارے بچے اسے لے کر باہر نہ نکلیں کہ پڑوسی کے بچوں کو رنج پہنچے گا، اپنی ہانڈی کے دھوئیں سے اسے تکلیف نہ پہنچاؤ مگر یہ کہ اسے بھی کچھ نہ کچھ بھجوا دو، کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! پڑوسی کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جس پر اللہ کریم رحم فرمائے۔ (مرقاۃ المفاتیح، 8/69، تحت الحدیث:4243)

پڑوسیوں کی خاطر شوربا زیادہ پکالو: حدیث پاک میں پڑوسیوں سے خیر خواہی کرنے کی ترغیب آئی ہے، چنانچہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! جب شوربا پکاؤ تو اسکا پانی زیادہ کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو۔ (مسلم، ص 1413، حدیث: 2625) مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ معمولی سالن بھی پڑوسیوں کو بھیجتے رہنا چاہیے، کیونکہ آقا ﷺ نے یہاں شوربا فرمایا گوشت کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ دوسرا یہ کہ ہر پڑوسی کو ہدیہ دینا چاہیے قریب ہو یا دور، اگرچہ قریب کا حق زیادہ ہے۔ تیسرا یہ کہ ہمیشہ لذت پر الفت اور محبت کو ترجیح دینا چاہیے کیونکہ جب شوربے میں فقط پانی پڑے گا تو مزہ کم ہو جائے گا لیکن اس کے ذریعے پڑوسیوں سے تعلقات زیادہ ہو جائیں گے اسی لیے فرمایا صرف پانی ہی بڑھادو اگرچہ گھی اور مصالحہ نہ بڑھا سکو۔ (مراۃ المناجیح،3/121)

پڑوسی کو تکلیف نہ دیجیے: کوئی تکلیف دے تو اس کے شر سے بچنے کے لیے اٹھا جا سکتا ہے، آئندہ اس سے ملنے سے بچا جا سکتا ہے اس سے تعلقات ختم کیے جاسکتے ہیں لیکن اگر پڑوسی ہی تکلیف دینے پر تل جائے تو انسان کہاں پناہ ڈھونڈے؟ کیونکہ اس کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا یا مکان بدلنا پڑے گا جو کہ بہت دشوار ہے، آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: جو اللہ کریم اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ہرگز تکلیف نہ دے۔ (مسلم، ص 43، حدیث: 47) حضرت علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: پڑوسی کی حاجت پوری کرنے کے لیے اس کی مدد کرے، اس سے برائی دور کرے اور اس پر خصوصی عطائیں کرے تاکہ وعید کا مستحق نہ ہو۔ مزید فرماتے ہیں: حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے: جو شریعت اسلامیہ کا التزام کرنا چاہے اس کے لیے پڑوسی اور مہمان کا اکرام اور ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا بھی لازم ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، 8/69، تحت الحدیث:4243)

وہ ایمان والا نہیں ہو سکتا: آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ کی قسم! وہ مؤمن نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم! وہ ایمان والا نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! وہ کون ہے؟ فرمایا: جس کی برائیوں سے اسکا پڑوسی محفوظ نہ رہے۔ ( بخاری، 4/4، حدیث:6016) حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: تین بار فرمانا تاکید کے لیے ہے۔ لا یؤمن میں کمال ایمان کی نفی ہے یعنی مؤمن کامل نہیں ہو سکتا، نہیں ہو سکتا، نہیں ہو سکتا۔ حضور ﷺ نے اسکی وضاحت پہلے ہی نہ فرمادی، بلکہ سائل کے پوچھنے پر بتایا تاکہ سننے والوں کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے، جو بات بعد میں معلوم ہو وہ بہت دلنشین ہوتی ہے۔ (مراۃ المناجیح، 6/555)

جتنا خود کو دوسروں کے شر سے بچانا ضروری ہے اتنا ہی اپنے شر سے دوسروں کو بچانا۔ اللہ کریم ہمیں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے اور دوسروں کو راحتیں پہنچانے والا بنائے۔ آمین یارب العالمین