ہر مسلمان مرد و عورت پر روزانہ پانچ نمازىں فرض ہىں ۔ربِّ کریم قرآن کرىم مىں فرماتا ہے:ان الصلوة کانت على المؤمنین کتابا موقوتا0(پ5، النسآء :103)ترجمہ:بىشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے ۔نماز کى فرضىت کا انکار کفر ہے۔جان بوجھ کر جو اىک نماز ترک کرے وہ فاسق،سخت گناہ گار و عذابِ نار کا حق دار ہے۔جنت اے بے نمازىوں! کس طرح پاؤ گے؟ ناراض رب ہوا تو دوزخ مىں جاؤ گے۔نمازِ عصر کى اہمىت و فضىلت پر متعدد آىات و احادىث اور بزرگانِ دىن کے اقوال ملتے ہىں۔نمازِ عصر کى اہمىت و فضىلت: نمازِ عصر کے متعلق رب کریم فرماتا ہے:حفظو ا على الصلوات والصلوة الوسطی نمازِ عصر کو صلوة و سطی بھى کىا جاتا ہے۔ حضرت ابوہرىرہ رضی اللہ عنہ سے رواىت ہے،مدىنے کے تاجدار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرماىا:تم مىں دن اور رات کے فرشتے بارى بارى آتے ہىں اور فجر و عصر کى نمازوں مىں جمع ہوجاتے ہىں پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم مىں رات گزارى ہے اوپر کى طرف چلے جاتے ہىں۔اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے:تم نے مىرے بندوں کو کس حال مىں چھوڑا؟وہ عرض کرتے ہىں:ہم نے انہىں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھى وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخارى جلد 1، ص 203، حدىث)صحابى ابنِ صحابى و حضرت عبداللہ بن عمر رَضِىَ اللہُ عنہما سے رواىت ہے، اللہ پاک کے پىارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کى نمازِ عصر نکل گئى(ىعنى جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گوىا کہ اس کے اہل و عىال وتر ہوگئے (ىعنى چھىن لىے گئے۔)(فتاوىٰ ج 1، ص 202، حدىث 552)حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مىں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے ( نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کى (ىعنى جس نے فجر و عصر کى نماز پڑھى) وہ ہر گز جہنم مىں داخل نہ ہوگا۔(مسلم ص 250،حدىث 1433)حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بىان کرتے ہىں: ہم حضورعلیہ السلام کى خدمت مىں حاضر تھے ، آپعلیہ السلام چودھوىں رات کے چاند کے چاند کى طرف دىکھ کر فرمایا:عنقرىب تم اپنے رب کو اسى طرح دىکھو گے جس طرح اس چاند کو دىکھ رہے ہو،اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو نمازِ فجر و عصر کبھى نہ چھوڑو، پھر حضرت جرىر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ىہ آىت مبارکہ پڑھى:ترجمۂ کنزالاىمان، اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کى پاکى بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(مسلم ، ص 239، حدىث 1434)تابعى بزرگ حضرت ابوالملىح بىان کرتے ہىں:اىک اىسے روز کہ بادل چھائے ہوئے تھے،ہم صحابىِ رسول حضرت برىدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد مىں تھے،آپ نے فرمایا:نمازِ عصر مىں جلدى کرو،کىونکہ سرکارِ دو عالم علیہ السلام نے فرمایا:جس نے نمازِ عصر چھوڑ دى اس کا عمل ضبط ہوگىا۔(بخارى ج1، ص 203، حدىث 552) فجر و عصر کى نماز مىں دن رات کے محافظ فرشتے جمع ہوئے ہوئے ہىں۔