نماز ایک ایسی عبادت ہے،جس کے ذریعے بندہ اللہ پاک کا قرب پا لیتا ہے،اس کی رضا حاصل کر لیتا ہے اور اس کا محبوب بندہ بن جاتا ہے، جیسا کہ حدیث ِمبارکہ میں ہے:حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،حضور پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں: اللہ پاک نے فرمایا:جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے،اسے میں نے لڑائی کا اعلان دے دیا اور میرا بندہ کسی شے سے اس قدر نزدیکی حاصل نہیں کرتا،جتنا کے فرائض سے اور نوافل کے ذریعے سے ہمیشہ قرب حاصل کرتا رہتا ہے،یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے، تو اسے ضرور دوں گا اور پناہ مانگے تو پناہ بھی دوں گا۔(بخاری،4،حدیث:6502)

نوافل ہی ایک ایسی عبادت ہے،جس کے ذریعے بندہ نہ صرف قربِ الٰہی پالیتا، بلکہ ولی کے مقام تک پہنچ جاتا ہے اور اس مقام پر پہنچ کر اسے وہ رتبہ حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ پاک اسے ضرور پورا فرما دیتا ہے،صرف یہی نہیں بلکہ نفل نمازوں کے بے شمار فضائل و برکات ہیں۔چنانچہ

نمازِ تہجد کے فضائل

سیّد المبلغین،رحمۃ اللعلمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ دل نشین ہے:جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا باہر اندر سے اور اندر باہر سے دیکھا جاتا ہے،ایک اعرابی نے اُٹھ کر عرض کی:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!یہ کس کے لئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ اس کے لئے ہیں، جو نرم گفتگو کرے، کھانا کھلائے،متواتر روزے رکھے اور رات کو اُٹھ کر الله پاک کے لئے نماز پڑھے، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔( ترمذی،4،حدیث:2535)

تہجد سب سے زیادہ لاڈلی عبادت ہے،یہ اپنی بات منوا لیتی ہے،اس نماز کے بعد جو دعا مانگی جائے ضرور قبول ہوتی ہے، اس کو پڑھنے سے چہرے پر رونق ہوتی اور دل پُر نور ہو جاتا ہے۔

نمازِ اشراق کی فضیلت

پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:جو شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنے مصلے میں بیٹھا رہے،حتی کہ اشراق کے نفل پڑھ لے،صرف خیر ہی بولے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔

( ابو داؤد،2،حدیث:1287)

سبحن اللہ!صرف دو رکعت نفل کی برکت تو دیکھئے کہ اس کے سبب اللہ پاک تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔

نمازِ چاشت کی فضیلت

حضور پاک،صاحبِ لولاک،سیاح افلاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو چاشت کی دو رکعتیں پابندی سے ادا کرتا رہے،اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔( ابن ماجہ،2،حدیث:1382)

نمازِ اوابین کی فضیلت

تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:جو مغرب کے بعد چھ رکعتیں اس طرح کرے کہ ان کے درمیان کوئی بُری بات نہ کہے تو یہ چھ رکعتیں بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوں گی۔( ابن ماجہ،2،حدیث:1167)

تحیۃ الوضو کی فضیلت

جو شخص وضو کرے اور اچھا وضو کرے، ظاہر و باطن کے ساتھ متوجّہ ہو کر دو رکعت پڑھے،اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔(مسلم، ص 144، حدیث: 234)

یہ تمام وہ نوافل ہیں جو زیادہ فضیلت والے اور قُربِ الٰہی پانے کا ذریعہ ہیں،اللہ پاک ہمیں خوب سے خوب نوافل ادا کرنے اور اپنا مقرب بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین