بلاشبہ ذکرِ مدینہ عاشقانِ رسول کے لئے باعثِ راحتِ قلب و سینہ ہے۔ عشاق مدینہ اس کی فرقت میں تڑپتے اور زیارت کے بےحد مشتاق رہتے ہیں۔ جسے ایک باربھی مدینے کا دیدار ہوجاتاہے وہ اپنے آپ کو بَخت بیدارسمجھتا اورمدینے میں   گزرے ہوئے حَسین لمحات کو ہمیشہ کیلئے یاد گار قرار دیتا ہے۔ اللہ ہمارے بھی عشقِ مدینہ میں اضافہ عطا فرمائے۔ مزید اس میں اضافے کے لئے چند فضائلِ مدینہ ملاحظہ ہوں۔

(1)مدینہ منورہ میں مرنے کی فضیلت: حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان روح پرور ہے: جو شخص مدینے پاک میں مرنے کی استطاعت رکھے وہ مدینے میں ہی مرے کیونکہ جو مدینے میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق گواہی دوں گا۔(شعب الایمان ،3/497،حدیث:1482)(2)دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتا: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : مدینے میں داخل ہونے کے تمام راستوں پر فرشتے ہیں ، اس میں طاعون اور دجال داخل نہ ہوں گے ۔ (بخاری ، 1/ 619 ،حدیث ، 1880 )

(3) مدینہ ہر آفت سے محفوظ: نبی مکرم، نور مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان معظم نشان ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مدینے میں نہ کوئی گھاٹی ہے اور نہ کوئی راستہ مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ (مسلم، ص 714،حدیث: 1374)(4) مدینہ لوگوں کو پاک و صاف کرے گا: سرکار مدینہ منورہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : مجھے ایک ایسی بستی کی طرف ہجرت کا حکم ہوا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی (سب پر غالب آئے گی ) لوگ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے، (یہ بستی ) لوگوں کو اس طرح پاک و صاف کرے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۔(صحیح البخاری،1/617، حدیث: 1871)

(5)مدینے کی سختیوں پر صبر کرنے والے کے لئے شفاعت: سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : میرا کوئی امّتی مدینے کی تکلیف اور سختی پر صبر نہ کرے گا مگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع (یعنی شفاعت کرنے والا) ہوں گا۔(مسلم، ص716 ،حدیث :1378)(6)مدینہ منورہ بہتر ہے: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: اہلِ مدینہ پر ایک زمانہ ایسا ضَرور آئے گا کہ لوگ خوشحالی کی تلاش میں یہاں سے چَراگاہوں کی طرف نکل جائیں گے، پھر جب وہ خوشحالی پالیں گے تو لوٹ کر آئیں گے اور اہلِ مدینہ کو اس کُشادَگی کی طرف جانے پر آمادہ کریں گے حالانکہ اگر وہ جان لیں تومدینہ ان کے لئے بہتر ہے۔(مسنداحمدبن حنبل ،5/106،حدیث:14686)

(7) اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آرام پذیر: مدینہ منورہ کو سب سے بڑی فضیلت یہ حاصل ہے کہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہاں تشریف فرما ہیں اور آپ نے فرمایا: جس نے میری قبر کی زیارت کی اُس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔(8)اللہ پاک خوف میں ڈالے گا:نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو اہلِ مدینہ کو ڈرائے گا اللہ پاک اسے خوف میں ڈالے گا۔ (ابن حبان، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ ، 4 / 20، حدیث: 3730، الجزء السادس)

(9) مدینہ منورہ میں فوت ہونے والے سے حساب نہ ہوگا: حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس شخص کی حج یا عمرہ کرنے کی نیت تھی اور اسی حالت میں اسے حَرَمین یعنی مکے یامدینے میں موت آگئی تو اللہ پاک اسے بروزِ قیامت اِس طرح اٹھائے گا کہ اُس پر نہ حساب ہو گا نہ عذاب۔(مصنف عبدالرزاق ،9/174، حدیث:17479)(10)مدینہ کے لئے خاص دعا: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اےاللہ ! مدینہ کو ہمارا محبوب بنادے جیسے ہم کو مکہ محبوب ہے بلکہ اس سے زیادہ اور اُس کی آب و ہوا کو ہمارے لئے درست فرما دے اور اُس کے صاع و مُد میں برکت عطا فرما اور یہاں کے بخار کو منتقل کرکےجحفہ میں بھیج دے۔(صحیح مسلم،کتاب الحج،باب الترغیب فی سکنی المدینۃ ...الخ،ص715،حدیث:1376)