مدینہ پاک یہ تو وہ شہر ہے، جس کو ربّ کریم نے محبوب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لئے پسند فرمایا، اس کی فضیلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ پیارے پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکا اس مبارک شہر میں مزارہے۔

یثرب سے مدینہ:

ہمارے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکی کیا شان ہے کہ جس چیز کو آپ نواز دیں، وہ چیز شرف و بزرگی والی ہو جاتی ہے،اسی طرح مدینہ پاک بھی نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکی اس کی طرف ہجرت سے قبل یہ یثرب کہلاتا تھا، لیکن جب نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلماس کی طرف ہجرت کر کے تشریف لائے، آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکے قدم مبارک اس میں پڑے، جب سے یہ مدینہ بن گیا اور جو مدینہ کو یثرب کہے، اس پر توبہ واجب ہے، مدینہ طابہ ہے، مدینہ طابہ ہے۔(مسند امام احمد، مسندالکونین، ح40914)

جب سے قدم پڑے ہیں رسالتِ مآب کے جنت بنا ہوا ہے مدینہ حضور کا

1۔دعائے مصطفٰے:

جب آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے اور یہاں کی آب و ہوا صحابہ کرام علیہم الرضوان کو ناموافق ہوئی کہ پیشتر یہاں وبائی بیماریاں بکثرت ہوتیں تو اس وقت نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اس کے لئے دعا فرمائی:یا اللہ پاک! تو مدینہ کو ہمارا محبوب بنا دےجیسے ہم کو مکہ محبوب ہے، بلکہ اس سے زیادہ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے لئے درست فرما دے اور اس کے صاع و مد میں برکت عطا فرما اور یہاں کے بخار کو منتقل کرکے حجفہ میں بھیج دے۔(صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سکنی المدینہ۔الخ،ص715، ح1374)

2۔اور ایک حدیث میں ہے:نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے دعا فرمائی:اے اللہ پاک!جتنی برکتیں مکہ میں نازل کی ہیں،اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں نازل فرما۔(بخاری، کتاب فضائل المدینہ11، باب1/625، ح1885)

3۔حرم اور امن کا گہوارہ:

پیارے نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنے دستِ اقدس سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:بے شک یہ حرم ہے اور امن کا گہوارہ ہے۔(معجم الکبیر، باب السین،سیرین عمرو عن سہل بن حنیف،6/92،ح5611)

4۔شفاعتِ مصطفٰے:

رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ارشاد فرمایا:مدینہ کی تکلیف اور شدت پر میری امت میں سے جو کوئی صبر کرے،قیامت کے دن میں اس کا شفیع ہوں گا۔(صحیح مسلم، باب الحج، الترغیب فی سکنی المدینہ۔الخ،ص716، ح1378)

5۔فرشتوں کا پہرہ:

پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا:مدینے کے راستوں پر فرشتے(پہرہ دیتے ہیں)اس میں نہ دجال آئے نہ طاعون ۔(صحیح مسلم، باب الحج، باب میانۃ المدینہ من الدخول الطاعون۔الخ،ص716، ح1379)

6۔جنت کے باغوں میں سے ایک باغ :

فرمانِ مصطفٰے:میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔

(بخاری، کتاب فضل الصلاۃ فی مسجدمکۃ المدینہ، باب فضل ما بین القبر والمنبر1/452، ح1195)

سبحان اللہ!یہ جگہ مدینہ پاک میں ہے۔

7۔مدینے کا نام طابہ:

نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا:بے شک اللہ پاک نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔(مسلم، کتاب الحج، باب المدینہ تنفی شرارہا، ص717، ح491(1385)

8۔لوگوں کو پاک صاف کرنے والی بستی:

نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا:مجھے ایک ایسی بستی کی طرف(ہجرت) کاحکم ہوا،جو تمام بستیوں کو کھا جائےگی(سب پر غالب آئے گی)لوگ اسے یثرب کہتے اور وہ مدینہ ہے،(یہ بستی) لوگوں کو اس طرح پاک وصاف کرے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل المدینہ، باب فضل المدینہ،ج 1،ص 617، حدیث 1871)

9۔حرم قرار دیا گیا:

نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا:مدینہ منورہ کو دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان کی جگہ کو میری زبان سے حرام قرار دیا گیا ہے۔(بخاری، کتاب فضائل المدینہ، باب حرم المدینہ، 1/616، ح1869)

10۔مدینے پاک میں مرنے کی فضیلت:

نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا:جس کو مدینے میں موت آ سکے، اسے مدینے ہی میں مرنا چاہئے، کیونکہ میں یہاں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا ۔(ترمذی، کتاب المناقب، باب فی فضل المدینہ، ج 5، ص 483، حدیث 3943)

سبحن اللہ!کیا بات ہے مدینے کی!اتنی فضیلتوں والا شہر ہے، اسی لئے تو عاشقانِ رسول،غمِ مدینہ میں آنسو بہاتے، تڑپتے اور اس میں مرنے کی دعا کرتے ہیں۔اللہ پاک ہمیں بھی مدینہ پاک کی بار بار حاضری اور مدینہ پاک میں شہادت والی موت عطا فرمائے۔آمین