الحمد للہ پاک دنیا میں ایک ایسی بستی ہے جس کی یاد عشاق کے دل و دماغ کی فرحت کا باعث بنتی ہے۔ جس کے دیدار کے لئے عشاق مشتاق رہتے اور اس کے فراق میں بے قرار رہتے ہیں۔ اس بستی کی فرقت و جدائی اور زیارت کی تمنا میں جس قدر قصیدے پڑھے گئے اور پڑھے جاتے ہیں اتنے دنیا کے کسی اور خطے کے لئے نہیں پڑھے گئے اور نہ ہی پڑھے جاتے ہیں۔

جی ہاں! اس بستی سے مراد میرے اور آپ کے دلوں کا سُرور مدینہ الرسول ہے۔زمانہ جہالیت میں مدینہ پاک کا نام یَثْرَب تھا۔سرکار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے مدینہ رکھا جیسا کہ

حدیثِ پاک ہے:مجھے ایک بستی کی طرف (ہجرت) کا حکم ہوا خو تمام بستیوں کو کھا جائے گی (سب پر غالب آئے گی) لوگ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے۔ (یہ بستی) لوگوں کو اس طرح پاک و صاف کرے گی جیسے بھٹی لویے کے میل کو۔(صحیح البخاری حدیث 1871،ج 1، ص 617)

فتاوی ٰرضویہ جلد 21 صفحہ 116 پر ہے:مدینہ طیبہ کو یثرب کہنا ناجائز و ممنوع و گناہ ہے اور کہنے والا گنہگار۔

مدینہ پاک کے اتنے فضائل ہیں کہ جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ مگر برکت حاصل کرنے کے لئے مدینہ کے 10 فضائل پیشِ خدمت ہیں:

1۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:مدینہ منورہ کے دونوں  پتھریلے کناروں کے درمیان کی جگہ کو میری زبان سے حرم قرار دیاگیا ہے۔

( بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، باب حرم المدینۃ، 1 / 616، حدیث: 1869)

2۔حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:سیّد المرسَلین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنے دست ِ اَقدس سے مدینہ منورہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:’’ بے شک یہ حرم ہے اور امن کا گہوارہ ہے۔

( معجم الکبیر، باب السین، یسیر بن عمرو عن سہل بن حنیف، 6 / 92، حدیث: 5611)

3۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ پاک!جتنی برکتیں مکہ میں نازل کی ہیں ا س سے دگنی برکتیں مدینہ میں نازل فرما۔

( بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، 11:باب، 1 / 620، حدیث: 1885)

4۔حضرت عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پُر نور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔

( بخاری، کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، باب فضل ما بین القبر والمنبر، 1 / 402، حدیث: 1195)

5۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جس کو مدینہ منورہ میں  موت آسکے تو اسے یہاں  ہی مرنا چاہئے،کیونکہ میں  یہاں  مرنے والوں  کی(خاص طور پر)شفاعت کروں گا۔( ترمذی، کتاب المناقب، باب فی فضل المدینۃ، 5 / 483، حدیث: 3943)

6 ۔اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا:مدینے میں داخل ہونے کے تمام راستوں پر فرشتے ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہ ہوں گے۔

7 ۔اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا: اس ذات کی قسم!جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! مدینے میں نہ کوئی گھاٹی ہے نہ کوئی راستہ مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ (مسلم ص 714 حديث 1374)

8 ۔نبیِّ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے کا فرمان ہے: میرا کوئی امتی مدینے کی تکلیف اور سختی پر صبر نہ کرے گا مگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع ہوں گا۔ (مسلم ص 716 حديث 1378)

9 ۔سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:جو ارادۃ میری زیارت کو آیا وہ قیامت کے دن میری محافظت میں رہے گا اور جو مدینے میں رہائش اختیار کرے گا اور مدینے کی تکالیف پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا۔ (مشکوۃ المصابیح ج 1 ص 512 حدیث 2755)

10۔پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا: اہلِ مدینہ پر ایک زمانہ ضرور ایسا آئے گا کہ لوگ خوشحالی کی تلاش میں یہاں سے چرا گاہوں کی طرف نکل جائیں گے، پھر جب وہ خوشحالی پا لیں گے تو لوٹ کر آئیں گے اور اہلِ مدینہ کو اس کشادگی کی طرف جانے پر آمادہ کریں گے حالانکہ اگر وہ جان لیں تو مدینہ ان کے لئے بہتر ہے۔

(مسند امام احمد بن حنبل ج 5 ص 106 حديث 14676)

اللہ پاک ہمارا سینہ عشقِ مدینہ و غمِ مدینہ معمور فرمائے اور ہمیں مدینہ پاک کی بادب حاضری نصیب فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم