اس وقت مسلمانوں کی بھاری اکثریت بہتان جیسے نہایت ہی بڑے گناہ میں لپٹی ہوئی ہے اسی بہتان کی وجہ سے آج اکثر گھر میدان جنگ بنے ہوئے ہیں ایک بڑی تعداد کو بہتان جیسے کبیرہ گناہ کی تعریف تک معلوم نہیں حالانکہ اس کے بارے میں ضروری احکام جاننا ہر مسلمان عاقل و بالغ پر فرض عین ہے۔

تعریف:کسی شخص کی موجودگی یا غیر موجودگی میں اس پر جھوٹ باندھنا بہتان کہلاتا ہے۔

آیت مبارکہ:بہتان کی مذمت کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ کریم نے ارشادفرمایا: اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ(۱۰۵) (پ 14، النحل: 105) ترجمہ کنز الایمان:جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں۔

بکثرت احادیث مبارکہ میں بھی بہتان کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔

احادیث مبارکہ:

1۔جو کسی مسلمان کی برائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ پاک اس وقت تک ردغۃ الخبا ل میں رکھے گا جب تک وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔(ابو داود،3 / 427، حدیث: 3597)

2۔سرکار ﷺ نے خواب میں دیکھے ہوئے مناظر بیان کر کے یہ فرمایا کہ کچھ لوگوں کو زبانوں سے لٹکایا گیا تھا میں نے جبرائیل سے ان کے بارے میں پوچھا تو عرض کی یہ لوگوں پر جھوٹی تہمت لگانے والے ہیں۔(شرح الصدور،182)

3۔جوکوئی دوسرے شخص کو فسق کا طعنہ دے یا کافر کہے اور وہ کافر نہ ہو تو اس کا فسق اورکفر کہنے والے پر لوٹتا ہے۔

4۔جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کرے تو اللہ اسے جہنم کے پل پر اس وقت روکے گا جب تک وہ کہی ہوئی بات سے نہ نکل جائے۔(سنن ابی داود،ص467)

5۔مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔

ان روایات سے معلوم ہوا مسلمان پر بہتان باندھنا یا ان پر بے بنیاد الزامات لگانے والوں پر بڑی وعیدیں آئی ہیں اس لیے ہمیں اس برے عمل سے باز آنا چاہیے۔اللہ پاک ہمیں اس خبیث گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین