کتابوں کا ادب

Fri, 30 Apr , 2021
44 days ago

علم معرفت خدا وند کا ذریعہ ہے۔ علم انبیاء کرام علیہمُ السّلامکی وراثت ہے۔ علم نور الہٰی ہے، علم کے ذریعہ انسان پر رشد و ضلال کی حقیقتیں واضح ہوتی جاتی ہیں، اس لئے علم دین کی عظمت و محبت ایک سچے مسلمان کی فطرت ہوتی ہے۔ علم کا ادب یہ ہے کہ اس سے متعلق تمام چیزوں کی توقیر کی جائے اور ان کا ادب کیا جائے۔ اسی وجہ سے علماء کرام کا ادب بجالانے کا حکم ہے، کیونکہ انہوں نے وراثت انبیاء یعنی علم دین کو اپنے سینوں میں محفوظ کرلیا ہے۔ اسی طرح ان اوراق اور کتابوں کے ادب کا بھی حکم ہے، جس میں علمی باتیں یا اسمائے مقدسہ لکھے ہوئے ہوں۔

حضرت بشر حافی جو کہ ولایت سے پہلے ایک شرابی تھے ایک روز ننگے پیر شراب کے نشے میں چور کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک ورق پر نظر پڑی، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر آپ تڑپ اُٹھے کہ ’’جس ورق پر میرے اللہ کا اسم مبارک ہے، وہ زمین پر پڑا ہوا ہے‘‘۔ آپ نے فوراً اُس کاغذ کو اُٹھایا، بوسہ دیا اور اُسے اونچی جگہ پر رکھ دیا۔ اسم مبارک کے ادب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرابیوں کی صف سے نکال کر اپنے ولیوں کی صف میں پہنچا دیا اور پھر وہ مقام عطا ہوا کہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ جیسی شخصیت آپ کی صحبت بافیض میں بیٹھنے کو باعثِ سعادت تصور کرتی تھی اور جب تک آپ رحمۃُ اللہِ علیہ حیات رہے جانور بھی آپ کی تعظیم کی خاطر راستے میں گوبر نہ کرتے کیونکہ آپ رحمۃُ اللہِ علیہننگے پاؤں ہوا کرتے تھے۔

کوئی شخص اس وقت تک علم کی روح نہیں پاسکتا اور نہ ہی علم سے نفع اٹھاسکتا ہےجب تک علم ، اہلِ علم اور آلاتِ علم کا ادب و احترام نہیں کرتا۔ دین سراسر اَدب ہے، علم بھی اَدب ہی سے نصیب ہوتا ہے اور علم کا اَدب آلاتِ علم کے اَدب سے ہوتا ہے، اور کتاب آلہ علم ہےاس لیے کتاب کا اَدب نہایت ضروری ہے۔

کہا جاتا ہے کہ: مَا وَصَلَ مَنْ وَصَلَ اِلّاَ بِالْحُرْمَۃِ وَ مَا سَقَطَ مَنْ سَقَظَ اِلَّا بِتِرْکِ الْحُرْمَۃِ۔ یعنی جس نے جو پایا ادب و احترام کرنے کے سبب ہی سے پایا اور جس نے جو کھویا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا۔

(تعلیم المتعلم طریق التعلم، ترجمہ بنام راہ علم ، ص31)

چنانچہ شیخ شمس الائمہ حلوانی رحمۃُ اللہِ علیہسے حکایت نقل کی جاتی ہے کہ آپ رحمۃُ اللہِ علیہنے فرمایا کہ میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم وتکریم کرنے کے سبب حاصل کیا، وہ اس طرح کہ میں نے کبھی بھی بغیر وضو کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا۔

(راہ علم)

کتاب کے چند آداب:

· باوضو کتاب کا مطالعہ کرنا۔کیو ں کہ علم ایک نور ہے اور وضو بھی ایک نور ہے پس وضو کرنے سے علم کی نورانیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔

· کتابوں کی طر ف پاؤں نہ کیا جائے۔

· کتا ب کو ہمیشہ اونچی جگہ ادب کے ساتھ رکھا جائے۔

· کتب تفاسیر کو تعظیماً تما م کتب کے اوپر رکھے اورکتاب کے اوپر کوئی دوسری چیز ہرگز نہ رکھی جائے ۔ایک فقیہ کی عادت تھی کہ دوات کوکتاب کے اوپر ہی رکھ دیا کرتے تھے تو کسی نے ان سے کہا : ''برنیابی ''یعنی تم اپنے علم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ امام اجل فخر الاسلام عرف قاضی خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ کتابوں پر دوات وغیرہ رکھتے وقت اگر تحقیر علم کی نیت نہ ہو تو ایسا کرنا جائز ہے مگر اولیٰ یہ ہے کہ اس سے بچا جائے ۔

(راہ علم)