شفقت ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو آراستہ و پیراستہ کر کے ہر دل عزیز بنا دیتا ہے۔ پھر نبی ِکریم ﷺکی شفقت کا کیا کہنا کہ آپ کا اپنی امت پر شفیق و مہربان ہونا روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے۔

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)

آپ علیہ السلام اپنی ولادت سے لیکروصال ظاہر ی تک اور مابعد وصال تا قیامت امت پر شفقت و مہربانی کے دریا بہا رہے ہیں۔

مؤمن ہوں مومنوں پہ رؤف و رحیم ہو

سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا نھر کی ہے۔

اس شفقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شریعت کے کئی احکام آپ ﷺ نے امت پر آسان فرما دئے، جن میں سے چند یہ ہیں:

1 -حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت پر شاق ہوگا تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔(ترمذی، 1/101)

2-حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبیِ کریمﷺ نے فرمایا کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور اسے دراز کرنا چاہتا ہوں کہ بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز میں اختصار کرتا ہوں کیونکہ اسکے رونےسے اس کی ماں کی سخت گھبراہٹ جان لیتا ہوں۔(مراٰۃ المناجیح، 2/196)

3 -حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں ان پر ہر وضو کے ساتھ مسواک فرض کر دیتا اور نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔(ترمذی، 1/102)

4 -حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تم پر حج فرض ہو گیا پسں حج کیا کرو۔ ایک شخص نے عرض کی ! یا رسو ل اللہ! کیا حج ہر سال فرض ہے ؟ آپ خاموش رہے حتی کہ اس نے تین بار عرض کیا۔ پھرآپ ﷺنے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہو جاتا اور تم اس کی ادائیگی کی طاقت نہ رکھتے، جن چیزوں کا بیان میں چھوڑ دیا کروں تم ان کا سوال مت کیا کرو۔ (مسلم، 1/432)

5-حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم ﷺنے فرمایا: وصال کے روزے نہ رکھو، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ وصال کے روزے رکھتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تم اس معاملے میں مجھ جیسے نہیں۔ میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے تم وہ کام کیا کرو جو آسانی سے کر سکو۔(مسلم، 1/432)

صومِ وصال کا معنی یہ ہے کہ روزے کے بعد روزہ رکھا جائے اور ان روزوں کے درمیان کھانا پینا نہ ہو،اس طرح جتنے روزے رکھے جائیں وہ سب صومِ وصال ہونگے۔ (شرح صحیح مسلم، 3/647)