14 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ہر چیز کے لیے ایک راستہ ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔(رسالہ العلم والمتعلم ص۲۹، الدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن عمر رضی الہ عنہما)

فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : علم عبادت سے افضل ہے(الحدیث)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں ! علم حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ کتب بینی (مطالعہ کرنا) بھی ہے۔

کتب بینی : کتب بین کی عادت کے بغیر علم میں قابل قدر مقام حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ قرآن نے اقراء کہا تو صاحب قرآن کے امتی پڑھتے ہی چلے گئے اور زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھتے گئے۔

اسلاف کا شوق مطالعہ: پیارے پیارے اسلامی بھائیوں آئیے اب ہم اسلاف کے اسی شوق کا مطالعہ کرتے ہیں۔

1۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں: مطالعہ کو مقدم اور ضروری سمجھناکیونکہ حصول علم میرا نصیب العین ہے۔

2۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہسے پوچھا گیا کہ حفظ کی دوا کیا ہے آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا کتب بینی ( مطالعہ کرنا) امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے مسلم شریف ترتیب دی ایک حدیث کی تلاش میں اس قدر منہمک ہوئے ہوئے کہ کھجوروں کا ایک ٹوکرا ختم کر گئے اور کثیر المقدار کھجوریں آپ کے وصال کا سبب بنیں۔

3۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہفرماتے تھے: مجھ پر چالیس سال اس حال میں گزرے ہیں کہ سوتے جاگتے کتاب میرے سینے پر رہتی۔

4۔خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہکے پوتے عبداللہ بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہنے سب سے ملنا جھلنا ترک کردیا تھا اور قبرستان میں رہنے لگے ہمیشہ ہاتھ میں کتاب ہوتی، گویا قبرستا ن میں اپنے اسی رفیق سے لذت حاصل کرتے۔

5۔امام محمد رحمۃ اللہ علیہفقہ حنفی کے ستون ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہکے مایہ ناز شاگرد ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ رات کا اکثر حصہ مطالعہ کتب میں گزارتے مطالعہ کے شغف کا یہ عالم تھا کہ پہنا ہوا لباس میلا ہوجاتا مگر بدلنے کی فرصت نہ لتی۔ انہماک ِمطالعہ کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی آپ کو سلام کرتا تو آپ اسے دعا دیتے تھے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہکی بیٹی کہتی ہیں: امام محمد گھر میں بیٹھے ہوتے اوران کے گردو پیش کتابوں کے ڈھیر ہوا کرتا تھا، ان کا مشغلہ صرف کتب بینی اور مطالعہ و تحریر رہ گیا تھا، آپ علیہ الرحمۃ مطالعہ کے وقت کسی سے گفتگو بھی نہ فرماتے

شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہپنے ذو ق مطالعہ کا تذکرہ خود فرماتے ہیں:

اور وہاں تحصیل علم میں اتنا مشغول رہا کہ تعلیم و مطالعہ کتب سے شب وروز میں دو تین گھنٹے فرصت ملتی

اور اس پر طرہ یہ کہ گھر پر جتنا وقت ملتا اس میں کوئی لمحہ بیکار نہ بیٹھتا بلکہ مطالعہ کتب بحث و تکرار میں لگادیتا تھا۔رات دن پڑھتا تھا۔ پڑھتے پڑھتے رات کے بارہ بجے جا تے والد ماجد فرماتے بیٹا کیا کررہے ہو، تو میں فورا ًلیٹ جاتا تاکہ جھوٹ نہ ہوجائے اور پھر عرض کرتا جی میں سورہا ہوں فرمائیے کیا حکم ہے اس کے بعد پھر پڑھنے لگتا ا،اکثر ایسا ہوا کہ چراغ کی لو سے میرے عمامہ اور سرکے بالوں کو آگ لگ گئی اور مجھے اس وقت پتا چلتا جب حرارت میرے دماغ تک پہنچتی تھی۔

مؤرخ شہرزوری نے البیروی کے متعلق لکھا ہے:

اس کا ہاتھ قلم کو آنکھ مطالعے کو دل غور وفکر کو صرف کھانے کے اوقات میں چھوڑتا ہے۔

امام زہری رحمۃ اللہ علیہکا مطالعہ کے وقت یہ عالم ہوتا کہ اِدھر اُدھر کتابیں پڑھی ہوتی تھیں وہ ان کے مطالعہ میں ایسے مصروف ہوتے تھے کہ انہیں دنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہیں ہوا کرتی تھی۔ا ن کی اہلیہ نے جب ایک دن ان کے مطالعہ کا انہماک دیکھا تو کہنے لگیں۔ واللہ لھذاہ الکتب اشد علی حسن ثلاث ضرائر ترجمہ ۔ مجھے اللہ کی قسم یہ تمہاری کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں۔

صاحب روح المعانی علامہ محمد آلوسی حنفی پر ہر وقت یہ دلہن سوار بیٹھی تھی کہ علم میں اضافہ بڑھتا چلا اکثر یہ شعرو ردِ زبان رہتا تھا ۔ (سھری لتنقیح العلوم الذلی من فصل عانیة وطیب عناق) ترجمہ۔علم کی نوک پلک سنوارنے کے لیے حسین و جمیل عورت کی ملاقات سے لذیذ تر ہے۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو کتب بینی کے ذوق کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ١۔کس قدر کتب اکھٹی کیں؟(لائبریری) ۲۔کس قدر کتب تحریر کیں۔(شعبہ تصنیف و تالیف)

آئیے ان دو باتوں کی روشنی میں اسلاف کے اس شوق کا مطالعہ کریں :

ابو جعفر احمد بن عباس کے پاس چار لاکھ کتابیں تھیں۔

الواقدی کے گھر سے ان کی وفات کے بعد کتابوں کے چھ سو صندوق نکلے۔

یحیی بن مصیر نے وفات کے بعد کتابوں سے بھری ۱۱۴ الماریاں چھوڑیں

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہنے اوسطاً روزانہ ۱۶ صفحات رقم بھی کیے یعنی لکھے۔

امام طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اوسطاًروزانہ ۴۰ صفحات رقم کیے۔

البیرونی کی تصانیف کی فہرست ہی ساتھ اوراق پر مشتمل تھی اور ان تصانیف کا وزن اس قدر تھا کہ ایک اونٹ ان تما م کو نہ اٹھا سکتا تھا۔ مسلم اسکالروں کی تصانیف کا ایک سرسری جائزہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے طوالت کے ڈر سے صرف چند اسما کا ذکر کررہا ہوں بعض مصنفین کی تعداد تصانیف میں خلاف ہے۔

امام احمد رضا فاصل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۰۰

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۱۱۶

علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ۵۵۰ یا ۵۰۰

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ۲۰۰

ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ ۲۵۰

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ۱۱۳

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ ۹۹۹

امام ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ۱۵۰

امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ ۳۴۰ یا ۲۶۹

حاکم نیشا پوری رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۰۰

عبداللطیف بغدادی رحمۃا للہ علیہ ۱۶۰

خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۰

ابوبکر محمد بن الزکریا رازی رحمۃ اللہ علیہ ۱۸۴

یعقوب ابن اسحاق الکندی ۲۴۱۔۲۲۵

مسلمانوں کے علمی اشتیاق کا اندازہ ذیل کے واقعات سے بھی لگایاجاسکتا ہے۔

شیخ علی بن عیسی علیہ الرحمہ کہتے ہیں، میں نے ابو ریحان البیرونی سے اس وقت ملاقات کی جب وہ بستر مرگ پر تھے اسی وقت انہوں نے مجھ سے ایک قانونی نکتے کی تشریح چاہی میں نے ان کی حالت زار پر رحم کھا کر کہا، اس قسم کے سوالات کے لیے یہی وقت رہ گیا ہے۔ ؟ انہوں نے جواب دیا۔(بھلے آدمی اسی نکتہ کے نہ جاننے سے بہتر ہے کہ میں مرنے سے پہلے اسے جان لوں)

کسی نے خواب میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہسے حالت نزاع کی تکلیف کے متعلق پوچھنا آپ نے فرمایا: نزع کے وقت بھی میں مکاتب کے مسائل میں سے ایک مسئلہ میں تامل کررہا تھا اسی غور وفکر اور تدبر کی وجہ سے مجھے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ میری روح کیسے نکلی ۔

حضرت یحیی رحمۃ اللہ علیہامام مالک رحمۃ اللہ علیہکے درس میں حاضر تھے شوربرپا ہوا کہ ہاتھی آگیا ہاتھی آگیا سارے طلب علم درس چھوڑ کر بازار چلے گئے صرف حضرت یحییٰ رحمۃ اللہ علیہپیچھے رہے، امام مالک علیہ الرحمہ نے فرمایا: تمہارے اندیس میں ہاتھی نہیں ہوتے تم بھی دیکھ آؤ، آپ علیہ الرحمہ نے عرض کی یا سیدی میں ہاتھی دیکھنے نہیں آیا علم سیکھنے کے لیے آیا ہوں۔ ہمارے جلیل القدر اسلاف نے جس ذوق و لگن اور محنت سے علم و حکمت کے گوہرپاروں کو سمیٹا اور چار دانگ عالم میں پھیلایا، تاریخ انسانی کی وہ داستان ہے کہ آج بھی ہمیں اس پر فخر ہے، ہمیں بھی چاہیے کہ تاریخ ِعلم کے ا یسے واقعات کو پڑھیں تاکہ علم کے لیے ہمارے ذوق و جستجو میں اضافہ ہو۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ اور طلبا اپنے قیمتی اوقات کو مطالعہ کے لیے وقف کریں کیونکہ علم ہی باعثِ فضیلت ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں :

فا الفضل الا لالعل العلم انہم

علی الہدی المن استھدی ادلاء

(فضیلت تو صرف اہل علم کے لیے ہے اور وہی ہدایت طلب کرنے والوں کے رہنما ہیں۔)

لیکن یاد رہے ، نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

آج وقت کو ضائع کرنا مشغلہ بن گیا ہے، طلبا کے لیے وقت بے قیمت ہوگیا ہے فضول کاموں اور بحثوں کے لیے دن رات مشغول ہیں لیکن اپنے اصل مقصد سے غافل ہیں۔ وقت کی افادیت کو نہ سجھنے والا کبھی عروج کی منازل طے نہیں کرسکتا۔