علم دین  حاصل کرنا اللہ پاک کی رضا کا سبب،بخشش و نجات کا ذریعہ اور جنت میں داخلے کا سبب ہے علم دین کی روشنی سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اسی سے دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہىں : علم مدارِ کار اور قطبِ دىن ہے (یعنی علم دین ودنیا میں کامیابی کی بنیاد ہے) ( احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم…الخ، 1/ 29)

صدرُالشریعہ،بدْرُالطَّریقہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اِرْشاد فرماتے ہیں:عِلْم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو،ساری دنیاہی جانتی ہے کہ عِلْم بہت بہتر چیز ہے،اس کا حاصل کرنا بلندی کی علامت ہے۔یہی وہ چیزہے جس سے انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیا وآخرت بہترہوجاتی ہے۔ (اس عِلْم سے) وہ عِلْم مُراد ہے جو قرآن و حدیث سے حاصل ہو کہ یہی وہ عِلْم ہے جس سے دنیا و آخرت دونوں سَنْوَرتی ہیں،یہی عِلْم نجات کا ذریعہ ہے،اسی کی قرآن و حدیث میں تعریفیں آئی ہیں اور اسی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ (بہار شریعت ،3/618 ملخصاً)

اسلام دنیا كا وہ واحِد دین ہے جس کو یہ شَرَف حاصِل ہے کہ اس نے اپنے ہر ماننے والے کیلئے بقدر ضرورت عِلْم حاصِل کرنا فَرْض قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ کائناتِ عالَم کے سب سے پہلے اِنسان حضرت سَیِّدُنا آدَم علیہ السّلامکو اَوّلاً اللہ پاک نے عِلْم کی بدولت ہی تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی۔چُنَانْچِہ اِرشَاد باری تعالی ہے:

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا 1، البقرة: 31)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ پاک نے آدم کو تمام اَشیا کے نام سکھائے۔

عُلَمائے کرام اَنبِیَائے کِرام علیہمُ السّلام کے وَارِث ہوتے ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صلّی اللہُ علیہ و سلّم ہے: بے شک عُلَما ہی اَنبیاءکے وَارِث ہیں، اَنبِیَا علیہمُ السّلام دِرْہَم ودینار کاوارِث نہیں بناتے بلکہ وہ نُفُوسِ قدسیہ علیہمُ السّلام تو صِرف عِلْم کا وارِث بناتے ہیں، تو جس نے اسے حاصِل کرلیا اس نے بڑا حِصّہ پالیا۔[1]جبکہ عُلَما ءکے عِلْمِ نبوَّت کے وَارِث ہونے کی وَضَاحَت قرآنِ کریم میں یوں فرمائی گئی ہے:

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاۚ- 22، فاطر: 32)

ترجمۂ کنز الایمان: پھر ہم نے کِتاب کا وارِث کیااپنے چُنے ہوئے بندوں کو۔

مذکورہ آیات کریمہ سے علم کی اہمیت واضح طور پر معلوم ہورہی ہے دیگر آیات و کثیر احادیث مبارکہ میں بھی علم دین کے فضائل بیان ہوئے ہیں چنانچہ علم دین کے 6 حروف کی نسبت سے مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صلّی اللہُ علیہ و سلّم نے اِسْلَامی بہنوں کی تعلیم وتَرْبِیَت کے حوالے سے جو مُخْتَلِف مَوَاقِع پر فرامین اِرشَاد فرمائے، ان میں سے 6پیشِ خِدْمَت ہیں:

(1) …عورتوں کو چرخہ کاتنا سکھاؤ اور انہیں سورۂ نُور کی تعلیم دو۔

(2) …عِلْمِ دِین سیکھنے کی غَرَضْ سے آئے ہوئے صَحابۂ کِرام رضی اللہُ عنہم سے اِرشَاد فرمایا: جاؤ اپنے بیوی بچوں کو دِین کی باتیں سکھاؤ اور ان پر عَمَل کا حُکْم دو۔

(3) … اللہ پاک نے سورۂ بقرہ کو دو۲ ایسی آیات پر خَتْم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عَرْشی خزانے سے عَطا ہوئی ہیں، لہٰذا انہیں خود سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ کہ یہ دونوں نَماز، قرآن اور دُعا (کا حِصّہ) ہیں۔

(4) …اپنی اولادکو تین۳ باتیں سکھاؤ (۱) اپنے نبی کی مَحبَّت (۲) اَہْلِ بیْت کی مَحبَّت اور (۳) قرأتِ قرآن۔

(5) …اپنی اولاد کے ساتھ نیک سُلُوک کرو اور انہیں آدابِ زِنْدَگی سکھاؤ۔

(6) …جس نے تین۳ بچیوں کی پروش کی، انہیں اَدَب سکھایا، ان کی شادی کی اور اَچھّا سُلُوک کیا اس کے لیے جنّت ہے۔ (احادیث کا حوالہ:صحابیات اور شوق علم دین)

مذکورہ احادیث مبارکہ سے خاص خواتین کے علم دین سیکھنے کی اہمیت معلوم ہوئی مزید خواتین کے لئے عالمہ کورس کی اہمیت کی چند وجوہات ملاحظہ فرمائیے۔

اصلاح نفس:

ہر مسلمان پر دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق اپنی اصلاح ضروری ہے اصلاح نفس کے لئےخوف خدا عزوجل بنیادی چیز ہے حضرت سَیِّدُنا ابوالحسن رضی اللہُ عنہ فرماتے تھے ، ‘‘

نیک بختی کی علامت بدبختی سے ڈرنا ہے کیونکہ خوف اللہ پاک اور بندے کے درمیان ایک لگام ہے، جب یہ لگام ٹوٹ جائے تو بندہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوجاتا ہے ۔ (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء 4/199)

حضرت ابو سلیمان رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:خوف خدا دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے (خوف خدا صفحہ نمبر18) علماء کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ پاک سے ڈرتے ہیں چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ 22، فاطر : 28)

ترجمہ کنزالایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں

مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

اوروجہ اِس حصرکی(یعنی ڈرکو علماکے ساتھ خاص کرنے کی وجہ) ظاہر ہے کہ جب تک انسان خدا کے قہر (غضب) اور بےپرواہى(بےنیازی) اور احوالِ دوزخ اور اَہوالِ قىامت(قیامت کی ہولناکیوں) کو بتفصىل نہىں جانتا (اس وقت تک) حقىقت خوف وخشىت کى اُس کو حاصل نہىں ہوتی اور تفصىل ان چىزوں کى علماء کے سوا کسى کو معلوم نہىں۔ (فیضان علم و علماءصفحہ نمبر 10)

معلوم ہوا علم عمل کا رہنما ہے درست علم ہوگا تو خوف خدا بھی نصیب ہوگا اور خوف خدا کی برکت سے نیکیوں سے رغبت اور گناہوں سے بچنے کا ذہن بنے گا۔

نسل نو کی تعمیر:

یہ ایک مُسَلَّمَہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم یا مِلّت کو اس کی آئندہ نسلوں کی مذہبی و ثقافتی تَرْبِیَت کرنے اور اسے ایک مَخْصُوص قومی و مِلّی تَہْذِیب و تَمَدُّن اور کلچرسے بہرہ وَر کرنے میں اس قوم کی خواتین نے ہمیشہ بُنْیَادِی و اَساسی کِردار ادا کیا ہے۔کیونکہ ایک عورت ہر مُعَاشَرے میں بَطَورِ ماں،بہن،بیوی اور بیٹی کے زِنْدَگی گزارتی ہے اور اپنی ذات سے وَابَسْتہ اَفراد پر کسی نہ کسی طرح ضَرور اَثَر انداز ہوتی ہے، [5]لِہٰذا اِسْلَام نے عورتوں کی اس بُنْیَادِی اَہَمِیَّت کے پیشِ نَظَر اس کی ہر حَیْثِیَّت کے مُطابِق اس کے حُقُوق و فَرَائِض کا نہ صِرف تَعَیُّن کیا بلکہ اسے مُعَاشَرے کا ایک اَہَم اور مُفِید فرد بنانے کے لیے اس کی تعلیم و تَرْبِیَت پر بھی خُصُوصِی تَوَجُّہ دی تاکہ یہ اپنی ذِمَّہ داریوں سے کَمَا حَقُّہٗ عُہْدَہ بَرآ ہوں اور ان کی گود میں ایک صِحَّت مند نسل تیّار ہو۔

اصلاح معاشرہ:

اسلامی تعلیمات سے دوری کے سبب خواتین کے عقائد و اعمال اور اخلاق و کردار میں بھی شدید بگاڑ پیدا ہوگیا ہے گھروں میں دینی ماحول میسر نہیں اور دیگر ذرائع کتب اور میڈیا میں غلط اور درست کی پہچان مشکل ۔۔۔اس بگاڑ کو دور کرنے کے لئے خواتین ہی کو درست علم دین سیکھ کر معاشرے کی دیگر خواتین کو علم دین سکھانے اور نیکی کی دعوت کے ذریعے انکے عمل و کردار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ صحابیات رضی اللہُ عنہُنّ کی سنت بھی ہے اسلامی بہنوں سے متعلق کئی مسائل ایسے ہیں جو صحابیات رضی اللہُ عنہُنّ کے سوال کرنے کی برکت سے ہم تک پہنچے-

خواتین کی مخصوص مسائل میں رہنمائی:

خواتین کے مخصوص مسائل کے بارے میں اسلامی بہنوں میں بہت سے غلط نظریات ہوتے ہیں لیکن شرم کے باعث سوال نہیں کرتیں اور کم علمی کے سبب گناہ میں پڑ جاتی ہیں اسلئے خواتین کو ان مسائل میں مہارت حاصل کرنی چاہئیے تاکہ عوام اسلامی بہنوں کی درست رہنمائی کرسکیں-

دور حاضر کی ضرورت:

دور حاضر میں ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش میں بعض خواتین اسلامی تعلیمات کے خلاف زندگی گزارنے کو کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے گناہوں میں مشغول ہیں انہیں نیکی کی راہ پر لانے کے لئے خواتین کو خود مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے متعلقہ مسائل معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ متعلقہ خواتین کو صحیح و غلط طریقوں سے روشناس کرواتے ہوئے عمل کی طرف راغب کرسکیں۔

مذکورہ خصوصیات اور جامعۃ المدینہ گرلز کا کردار:

علم دین :قرآن و حدیث میں علمائے دین کے کثیر فضائل بیان ہوئے ایک عالم کو بنیادی طور پر جن فنون کو پڑھنا ضروری ہے جامعۃ المدینہ میں تقریبا وہ تمام فنون (تفسیر اصول تفسیر،حدیث،اصول حدیث،عقائد،فقہ اصول فقہ ،بلاغت ،عربی گرامر وغیرہ)پڑھائے جاتے ہیں-

اصلاح نفس: جامعۃ المدینہ گرلز کی طالبات کے اخلاق و کردار میں نمایاں تبدیلی آتی ہےایسے کئی واقعات ہیں کہ بے نمازی نمازی ،بے پردہ باپردہ،والدین کی نافرماں فرماں بردار ،بد اخلاق حسن اخلاق کا پیکر بن گئیں بلکہ طالبات کے کردار سے متاثر ہوکر گھر والے بھی نمازوں کے پابند اور سنتوں کے عامل بن جاتے ہیں

نسل نو کی تعمیر:جامعات المدینہ گرلز میں صحابیات رضی اللہُ عنہُنّ کی سیرت بھی پڑھائی جاتی ہے تاکہ انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبات اپنی گھریلو زندگی بھی شریعت کے مطابق گزارسکیں - دینی تعلیم کے ساتھ امور خانہ داری بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ طالبات کما حقہ اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں-

اصلاح معاشرہ:جامعۃ المدینہ گرلز کا اصلاح معاشرہ میں ایک اہم کردار ہے جامعۃ المدینہ گرلز معاشرے سے بے علمی و عملی کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے ہر سال ہی اسکی برانچز اور طالبات میں اضافہ ہورہا ہے اور جامعۃ المدینہ گرلز کی فارغ التحصیل طالبات دعوت اسلامی کے دیگر شعبہ جات فیضان آن لائن اکیڈمی، مدرسۃ المدینہ،مجلس مالیات،مجلس اجارہ ہوغیرہ میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں نیز دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے تنظیمی کاموں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔

سال 2021 سے منتخب جامعات المدینہ گرلز کی طالبات کوعلوم دینیہ کے ساتھ مروجہ دنیاوی تعلیم کا بھی آغاز کیا گیا ہے تاکہ جامعات المدینہ گرلز سے فارغ التحصیل اسلامی بہنیں معاشرے کی شرعی رہنمائی کے ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اسلام و سنیت کی خدمت کرسکیں-

خواتین کے مخصوص مسائل: خواتین کے مخصوص مسائل سے متعلق مسائل بالتفصیل شامل نصاب ہیں۔

دور حاضر کی ضرورت:دور حاضر سے متعلقہ مسائل بھی شامل نصاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے مثلا: خواتین میں آن لائن بزنس بہت بڑھ گیا ہے جامعۃ المدینہ میں خرید و فروخت کے بنیادی مسائل بھی پڑھائے جاتے ہیں۔

المختصر دینی،دنیاوی،اخروی بھلائیوں کے حصول کے لئے علم دین سیکھنا ناگزیر ہے اور جامعات المدینہ گرلز اسکا بہترین ذریعہ ہے ۔

اللہ پاک ہمیں علم دین حاصل کرنے اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین یا رب العالمین) ۔