10 ربیع ُالآخر , 1441 ہجری

: : :
(PST)

دوست کی مدد

Sat, 14 Sep , 2019
85 days ago

دوست کی مدد

چُھٹیاں ختم ہونے کے بعد اسکول میں پہلا دن تھا سب بچے نئے یونیفارم اور نئے جوتے پہنے ہوئے تھےٹیچرجونہی کلاس رُوم میں داخل ہوئے سب بچے اِحتراماً کھڑے ہوگئے، پڑھائی کا آغاز ہونے کے کچھ دیر بعد پرنسپل صاحب نے حامد کو اپنے آفس میں بلوالیا،پرنسپل: سب بچے نیا یونیفارم اور نئے جوتے پہن کر آئے ہیں آپ کا یونیفارم اور جوتے نئے کیوں نہیں ہیں؟ حامد: میری امّی نے کہا تھا کہ کچھ دن بعد یونیفارم اور جوتے خریدلیں گے، پرنسپل: یہ چیزیں تو پہلےسے خریدنی تھیں، کیا آپ کےوالدین کو آپ کا کوئی احساس نہیں ہے؟ حامد: پچھلے مہینے ایکسیڈنٹ میں ابّو کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی پلاسٹر کھلنے میں 3 مہینے لگیں گے، پرنسپل: اپنی امّی کے ساتھ جاکر خریداری کرلیں! آپ کے پاس 2 دن کا وقت ہے،حامد: مگر میری بات تو سنئے!!! پرنسپل: 2دن بعد آپ کو کلاس رُوم میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی، اب آپ جاسکتے ہیں۔ حامد خاموشی سے سَر جھکائے آفس سے باہر آگیا، ہاف ٹائم میں سب بچے کھیل کود اور کھانے پینے میں مصروف تھے لیکن حامد کلاس رُوم میں بیٹھا رو رہا تھا، اتنے میں سلیم اندر داخل ہوا، سلیم: حامد میرے دوست کیوں رو رہے ہو؟ حامد: میرے ابّو کی ٹانگ پر پلاسٹر بندھا ہوا ہےجس کی وجہ سے ابّو کام پر نہیں جارہے، گھر میں جو کچھ جمع ہے اسی سے تھوڑا تھوڑا کرکے کھا رہے ہیں، مگر نیا یونیفارم اور نئے جوتے 2 دن تک نہ آئے توکلاس میں بیٹھنے نہیں دیا جائے گا، اب میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں؟ سلیم حامد کی بات سُن کر کافی اَفسُردہ ہوگیا۔شام کی چائے کے وقت سلیم نے اپنے ابّو سےکہا:ابّو! میرا نیا یونیفارم اور جوتے آپ نے کتنے میں خریدے تھے؟ ابّو: 1500روپے کے، لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟سلیم نے ابّو کو ساری بات بتادی سلیم: میں چاہتا ہوں کہ آپ حامد کےلئے کچھ کریں، ابّو: ہم امیر نہیں ہیں، پھر اس کی مدد کیسے کرسکتے ہیں؟ سلیم:مدد کیلئے امیر ہونا ضروری تو نہیں ہے، آپ کوشش کریں تو شاید اتنی گنجائش نکل آئے کہ اس کی مدد ہوجائے ؟ ابّو: بیٹا! آپ جانتے ہیں کہ میں جاب کرتا ہوں، اس مہینے آپ اور آپ کے بہن بھائیوں کے یونیفارم،کتابیں کاپیاں وغیرہ خریدنے پر کافی رقم خرچ ہوگئی ہے اس لئے حامد کی مدد کرنا میرے لئے مشکل ہے، سلیم : ابّو! آپ مکتبۃُ المدینہ کی ایک کتاب ” بہتر کون“ لائے تھے،اس میں ہے کہ حضرت ِسیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے بارگاہِ رسالت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم میں عرض کی: یارسولَ اللّٰہ! جنّت کی وادیوں میں اللّٰہ پاک کی رَحمت کے قُرب میں کون ہوگا؟ پیارے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو میری سنّت کو زندہ کرے اورمیرے پریشان اُمّتی کی تکلیف دور کرے۔(بہتر کون، ص:129) ابّو! آپ ہی توہمیں سمجھاتے ہیں کہ پریشان حالوں کی مدد کرنا اور ان کی پریشانیاں دور کرنااچھے لوگوں کا طریقہ ہوتا ہے اور آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب کسی غریب انسان کی مدد کی جاتی ہےتومدد کرنے والے کو ایسی خوشی ملتی ہےجسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور اسے وہی سمجھ سکتا ہے جسے یہ سعادت ملے،سلیم کی باتیں سُن کر ابّو کو بہت خوشی ہوئی کہ ان کی مَدَنی تربیت کی جھلک ابھی سے نظر آرہی تھی ، ابّو نے سلیم کی امّی کی طرف دیکھا، امّی: سلیم ٹھیک کہہ رہا ہے، ہم امیر نہیں تو کیا ہوا لیکن اتنے غریب بھی نہیں ہیں کہ کسی کی تھوڑی سی بھی مدد نہیں کرسکتے،ابّوایک جھٹکے سے کھڑے ہوئے اور سلیم کا ہاتھ پکڑ کر بولے: چلو سلیم بیٹا ! ہم آج ہی حامد کیلئے نیا یونیفارم اور جوتے خریدیں گے، نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ کچھ دیر بعد سلیم اور اس کے ابو حامد کے گھر کے دروازے کی بیل بجارہے تھے۔