22 ذوالقعدۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)
سوال:سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہُ علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک انگلیوں سے جو پانی جاری ہوا تھا اس کا واقعہ بیان فرما دیجئے۔ جواب:سن 6 ہجری میں ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللّٰہُ علیہِ واٰلہٖ وسلَّم عمرے کا ارادہ کرکے مدینۂٔ منورہ زاد ھَا اللہُ شرفاً و تعظیماً سے مکۂ مکرمہ زادھَا اللہُ شرفاً و تعظیماً کے لئے روانہ ہوئے اور حُدیبیہ کے میدان میں قیام فرمایا، اس مقام پر یہ معجزہ ظاہر ہوا۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت سیّدنا جابر رضیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ حُدیبیہ کے دن لوگ شدتِ پیاس سے دوچار ہوئے اور رسولُ اللہ صلَّی اللّٰہُ علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے ایک برتن رکھا ہوا تھا جس سے وضو فرما رہے تھے۔ جب لوگ آپ صلَّی اللّٰہُ علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہُ علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ عرض گزار ہوئے: یَارسولَ اللہ صلَّی اللّٰہُ علیہِ واٰلہٖ وسلَّم! ہمارے پاس وضو کرنے اور پینے کے لئے پانی نہیں ہے، بس یہی تھا جو اس برتن کے اندر حضور کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔ حضرتِ سیّدنا جابر رضیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہُ علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے برتن میں اپنا دستِ مبارک رکھ دیا تو آپ صلَّی اللّٰہُ علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی پھوٹ نکلا ہم پانی پیتے اور وضو کرتے رہے۔ حضرتِ سیّدنا جابر رضیَ اللہُ عنہ سے لوگوں نے پوچھا: اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: لَوْ كُنَّا مِائَةَ اَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً یعنی اگر ہم ایک لاکھ (100000) بھی ہوتے تو پانی سب کے لئے کافی ہو جاتا، ہم پندرہ سو (1500) تھے۔(بخاری، 3/69، حدیث: 4152) اس حسین منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان علیہِ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: اُنگلیاں ہیں فیض پر ٹُوٹے ہیں پیاسے جھوم کر نَدِّیاں پنجابِ رحمت کی ہیں جاری واہ واہ (حدائقِ بخشش، ص134) اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

سوال:کیا شادی شدہ اسلامی بھائی ہی کُنیَت( ) رکھ سکتے ہیں یا غیر شادی شدہ بھی کنیت رکھ سکتے ہیں؟ جواب:شادی شدہ اسلامی بھائی بھی کنیت رکھ سکتے ہیں اور غیر شادی شدہ بھی کنیت رکھ سکتے ہیں یہاں تک کے چھوٹے بچوں کی بھی کنیت رکھی جاسکتی ہے۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

آج کا سوال دعائے قُنوت کے بعد سورت پڑھنا کیسا؟ سوال:کیا نمازِ وتر میں دعائے قُنوت کے بعد سورت پڑھنا ضروری ہے؟ جواب:نمازِ وتر میں دعائے قُنوت کے بعد کوئی بھی سورت پڑھنے کی اجازت نہیں ہےاَلْبَتہ بہارِ شریعت میں ہے:دعائے قُنوت کے بعد دُرُود شریف پڑھنا بہتر ہے۔(بہارِ شریعت، 1/655) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں ماہِ رمضانُ المبارک 1440سنِ ہجری کے عشرہ اخیر کی 28ویں شب اور بروزپیر 28رمضانُ المبارک بعد نمازِ عصر مدنی مذاکروں کا سلسلہ ہوا جن میں امیرِ اَہلِ سنّت علامہ محمد الیاس عطّاؔر قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے عاشقانِ رسول کو علم وحکمت سےمعطَّر مدنی پھولوں سے نوازا جبکہ خوش نصیب عاشقان ِرسول کوشیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہمراہ سحری وافطاری کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ چند سوالات اورجوابات کا خلاصہ ملاحظہ کیجئے: سوال:کہاجاتاہے کہ سمندرکو پارکرلیا جائے تو دُعاقُبول ہوتی ہے، ایساذِہن رکھنا کیسا؟ جواب: دُعاجہاں بھی کی جائے قُبول ہی ہے پس بندہ ربّ سے مانگے اورقبولیّت میں تذبزُب نہ رکھے،مکتبۃُ المدینہ کی کِتاب"فضائلِ دُعا"کامُطالَعہ کیا جائے ،اِس میں قبولیّتِ دُعاکی حیرت انگیز صورتیں لکھی ہوئی ہیں ،قُرآن وحدیث اورعُلَما کی بیان کردہ قبولیّتِ دُعاکی صورتیں ہی قابلِ عمل ہیں،عوامی باتوں پر توجہ نہ دی جائے ۔ سوال: آپ مِٹّی کے پیالے میں پانی کیوں پیتے ہیں ؟ جواب:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس مِٹّی اورلکڑی کے برتن تھے ،مِٹّی کے برتن اِستعمال کرنااَفضل ہے،اِسی لیے میں مِٹّی کے برتن اِستعمال کرتاہوں۔نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سےپکی مِٹّی کے پیالے سے پانی پینا ثابت ہے۔ سوال:حفظ ِقرآن باقی رکھنے کے لیے کیا کریں ؟ جواب:روزانہ ایک منزل کی تلاوت کریں ،یہ نہ کرسکیں تو دوپاروں کی تلاوت کرلیں ،ورنہ ایک پارےکی تلاوت توضرورکرلیا کریں۔ سوال:قرآنِ کریم سے محبّت کرناکیسا؟ جواب:قرآنِ کریم کی محبّت بہت بڑی نِعمت ہے ،یہ اللہپاک کا کلام ہے ،اِس کی محبّت اللہپاک سے محبّت ہے۔ سوال: کِیا عِلم حاصل کرنے کے ذرائع میں سے ایک سوال کرنا بھی ہےاورفرض علم کیسے حاصل کیا جائے؟ جواب: جی ہاں!حدیث پاک میں ہے کہ عِلم وہ خزانہ ہے جس کی کنجی سوال ہے ۔اِسی طرح محاورہ ہے :اَلسَّوَالُ مِفْتَاحُ الْعِلْمِ یعنی سوال علم (حاصل کرنے )کی کنجی (چابی )ہے،فرض علم حاصل کرنے کے لیے کُتُب کا مُطالَعہ کیا جائے ،عُلَماکرام کی خدمت میں حاضرہوکر اپنی ضرورت کے مُطابِق سوال کیا جائے ،اُن کی صحبت اختیارکی جائے،دعوت ِاسلامی کے تحت ہونے والے مختلف مدنی کورسز(درس ِنظامی ،مدرسۃ المدینہ آن لائن کا فرض علوم کورس وغیرہ)کرلیجئے ۔ سوال: اگرکوئی ہماری اِصلاح کی بات کرے توہمیں کیا کرنا چاہئے؟ جواب:بچہ بھی اِصلاح کی بات کرے تواُسے قبول کرلینا چاہئے ،میں نے کہاہواہے کہ میری اِصلاح ضرورکریں ،اگرکوئی اِصلاح دُرُست نہ بھی کرے تو میں اُسے ڈانٹتانہیں ۔اللہ پاک ہمیں حق بات قُبول کرنے کا جذبہ عطافرمائے۔ سوال: کچھ لوگ گلے ملتے ہوئے زورسے دَبا کراُوپر اُٹھا لیتے ہیں، اِس طرح کرنا کیسا؟ جواب: ایساہرگزنہ کیا جائے ، اِس سے سامنے والے کو نُقصان پہنچ سکتاہے۔ سوال:جو شخص پوری رات عبادت میں نہ گُزارسکتاہو،وہ کیا کرے کہ اسےرات بھرعِبادت کا ثواب مل جائے ؟ جواب: وہ نمازِ عشااورنمازِفجرباجماعت اداکرے ، اُسےپوری رات عبادت کرنے کا ثواب ملے گا۔اِن شَاۤءَ اللہ

جواب:مُرغی کے پنجے (یعنی ٹانگیں) کھانا جائز ہے۔ میں اِن کو ”غریبوں کے پائے“ کہتا ہوں کیونکہ غریبوں کا اس مہنگائی کے دور میں گائے، بھینس یا بکرے کے پائے کھانا مشکل ہوگیا ہے جبکہ مرغی کے پنجے سستے ہوتے ہیں اور یہ باب المدینہ (کراچی) بلکہ دیگر کئی شہروں میں بکتے بھی ہیں۔ انہیں پھینک دینے کے بجائے ان پر کچھ دیرکے لئے آٹایا نمک لگاکررکھیں اورپھر گرم پانی سے اچھی طرح دھو لیں ۔اب چاہیں تو پورے ہی یاپھردو ٹکڑے کر کے پکا لیں۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

سوال: ڈرائیونگ کرتے وقت بار بار میسج (SMS) آنے سے ذہن میں یہ خیالات آئیں کہ پتا نہیں کس کے میسج آ رہے ہیں؟ نہ جانے ان میں کیا پیغامات ہیں؟ تو ایسی صورت میں دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنا چاہیے یا نہیں ؟ جواب: دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنے سے بچنا ہی بہتر ہے اگرچہ بار بار میسج (SMS) آ رہے ہوں کیونکہ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنے میں ایکسیڈنٹ (Accident) ہونے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ آئے دن اس وجہ سے ایکسیڈنٹ ہوتے ہوں گے اور کئی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہوں گی۔ ایسے موقعے پر صبر کرنا چاہئے اور موبائل فون بند (Off) کر کے ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنا قانوناً جرم بھی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والوں نے پکڑ لیا تو پھر آزمائش ہو سکتی ہے۔اسی طرح جب سگنل (Signal) پر گاڑیاں رُکتی ہیں تو اُس وقت بھی موبائل فون استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سگنل کھل گیا تو پیچھے سے آنے والی گاڑی آپ کی گاڑی سے ٹکرا سکتی ہے یا پھر آپ کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائن رُکی رہے گی اور پھر بَدمزگی بھی ہوسکتی ہے لہٰذا دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں! اگر زیادہ ہی ایمرجنسی ہے تو راستے میں کہیں مناسب جگہ پر رُک جائیں، جہاں کوئی قانونی رُکاوٹ بھی نہ ہو اور نہ ہی کوئی دوسرا آپ کی وجہ سے پریشان ہو۔اب موبائل فون دیکھ لیں اور جواب وغیرہ کی ترکیب بنا لیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد