عاشقانِ رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے 21 فروری 2026ء بمطابق 4 رمضانُ المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین  (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔

مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس کے بعد نعت خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔

تلاوت و نعت کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد فرمائے۔

بعض سوال و جواب:

سوال: بچی کا نام فاطمۃُ الزَہرا رکھا جائے یا مجرد فاطمہ ؟

جواب: یہ نام اچھا ہے۔ زَہراکا معنی ہے” کلی“(Bud) ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی کلی ہیں مگرحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کانام اکیلا فاطمہ ہے اورزہرااُن کالقب ہے ۔

سوال: نام کیسارکھا جائے ؟

جواب: بچے کا نام محمد رکھا جائے،پکارنے کے لئے اہلِ بیت ،صحابۂ کرام اوربزرگوں کے نام سے کوئی بھی نام رکھا جائے ۔نام اچھا رکھنا چاہیئے جیسےمحمد ابراہیم، محمد بلال وغیرہ۔یونیک نام رکھتے ہوئے ایسا نام نہ رکھا جائے جس کا معنیٰ ہی درست نہ ہو۔

سوال: مسجدکے امام اورمؤذن صاحب کو سحری/افطاری دینے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: مسجدکے امام اورمؤذن کو بھی سحری/افطاری بھیجنی چاہیئے ۔عام طورپر ان کی تنخواہ اورآمدن کم ہوتی ہے ،رقم بھی پیش کریں۔جمعہ کو ہرنمازی کچھ نہ کچھ خدمت کرے تو ان کا راشن آجائے۔اسی طرح عیدین،دیگراسلامی ایونٹس(Islamic Events/جیسےشبِ معراج، شبِ براءت،شبِ قدر وغیرہ)کے موقع پر ان کی خدمت کریں۔یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ میرا راستہ بن جائے، ایساہرگزنہیں ، مَیں نے کئی سال امامت کی ہے مگرمسجدکا کبھی کھانا نہیں کھایا،اپنے گھر کا کھاناکھاتاتھا۔

سوال: امام صاحب کا کسی نمازی سے کوئی سوال یا قرض مانگنے کے بارےمیں کیا مشورہ دیں گے ؟

جواب: امام صاحب کو چاہیئے کہ لوگوں سے سوال نہ کریں ،قرض بھی نہ لیں ،اس سے وقاراورعزت کم ہوتی ہے۔ان کا پیشہ عزت وعظمت والاہے ۔دینےوالا آہ کرکے دیتاہے اورلینے والاواہ کرکے لیتاہے ۔

سوال: مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ’’عمامہ کے فضائل‘‘کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟

جواب: عمامہ شریف کےفضائل پرمشتمل المدینۃ العلمیہ کی کتاب ’’عمامہ کے فضائل‘‘مکتبۃ المدینہ نے شائع کی ہے۔شاید اردو میں اس موضوع پر اتنی بڑی اورکتاب نہیں ہے ،اسے لیں،پڑھیں اورلائبریری کا حصہ بنائیں ۔اس سے عمامہ شریف سے محبت میں اضافہ ہوگا۔عمامہ باندھاکریں ،اس سے جھجک ختم ہو جائے گی ، کسی نے کوئی بات کردی تو اسے برداشت کرلیں کسی سے کوئی جھگڑانہ کریں۔

سوال: آپس کے تعلقات کے کیا فائدے ہیں ؟

جواب: کھوٹاسِکّہ بھی وقت پر کام آجاتاہے ،نافرمان بیٹابھی مددکردیتاہے ۔جان پہچان اورتعلقات کاکبھی نہ کبھی فائدہ ہوتاہے۔جو ملنساراورتعلقات رکھنے والے ہوتے ہیں ،بعض اوقات جاننے والے اس طرح کام آجاتے ہیں کہ گھر کاکوئی فرد اس طرح کام نہیں آتا۔خاندان والوں اوردیگرلوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنےچاہئیں ۔دس دوست ہوں تو ضروری نہیں سارے کے سارے بے وفاہوں ،ضرورت کے وقت کوئی تو مددکرے گا۔ شادی بھی کرنی چاہیئے، بال بچے ہوں گے تو گھرکی رونق ہوگی، بیمار ہوں گے تو خدمت کریں گے۔ ہم خودملنسارہوں گےاور لوگوں کے دُکھ دردمیں شریک ہوں گے تو لوگ بھی ہمارے دُکھ درد میں شریک ہوں گے ۔البتہ تعلقات اللہ پاک کی رضا کے لئے ہونے چاہئیں ۔اچھے لوگوں سے تعلق بنایاجائے ،جیسے دعوت اسلامی کادِینی ماحول ہے ۔ دعوت اسلامی کا مفادہے کہ ایمان کی حفاظت ہو،سب نمازی بن جائیں ،جنت کا حصول ہو،اس سے وابستہ ہوجائیں ۔

سوال: گھرآباد ہوں ،جھگڑے نہ ہوں ،گھر نہ ٹوٹیں کیا کریں ؟

جواب: ہمارے معاشرے میں جھگڑے اورگھرٹُوٹنے کا سلسلہ بڑھ گیاہے ۔زیادہ خرابی اس لئے ہوتی ہے کہ دونوں طرف ضدپیداہوجاتی ہے ۔دونوں کوضدچھوڑنی چاہیئے، جس سے زیادتی ہوئی ہو اسے چاہیئے کہ دوسرے سےمعافی مانگ لے، معافی مانگنے سے لوگوں کے دلوں میں محبت پیداہوتی ہے ۔ایک کو غصہ آجائے تو دوسرے کو صبرکرنا چاہیئے اورکوئی ایسی ترکیب کرنی چاہیئے کہ جس سے اس کا غصہ کم ہو ۔بچوں کے سامنے جھگڑا کرنے سے ان کی تربیت میں بُرا اثرپڑے گا۔جو گھرٹُوٹتاہے اس میں بچوں کا نقصان زیادہ ہوتاہے۔

سوال: گنے کے رس کے کیافوائدہیں ،کون سارس پیاجائے ؟

جواب: گنے کے رس کے کئی فوائدہیں ،گنے کا رس ہڈیا ں مضبوط کرتاہے ،خون کی کمی والوں کو مفیدہے ،جگراورگُردوں کی کارکردگی بڑھاتاہے ،دانتوں کے پیلے پن ،چہرے کے کِیل مہاسے اورجُھریا ں دورکرتاہے ،بغیر برف کے گنے کا رس خریدیں ،گنے کارس وہاں سے لیں جس میں مشین اوربرتنوں کی صفائی کا خیال رکھا جاتاہو ،سکرین والے رس نہ لیں ،اس کے کافی نقصانات ہیں۔گنا چباکر اس کا رس حاصل کرنا زیادہ فائدے مندہے ۔

سوال: کھا نا کیسے کھانا چاہیئے ؟

جواب: کھانا چباکرکھانا چاہیئے ورنہ معدہ خراب ہوجائے گا،دونوں طرف کے دانتوں سے چباکرکھائیں ،اس سے کانوں کی سنوائی میں بھی فائدہ ہوگا۔زیادہ بیماریاں منہ سےجاتی ہیں ،وہ چیزنہ کھائیں،پئیں جو موافق نہ ہو۔ہم نقصان دہ چیزوں سے بچ نہیں پاتے پھر بیمارہوجاتے ہیں ۔کھانے کی حرص کم کریں صحت مندرہیں گے ،دینی کام کرسکیں گے۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ رمضان الکریم کی سجاوٹ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہرمضان الکریم کی سجاوٹ پڑھ یا سن لے اُسے ماہِ رمضان کا قدر دان بنا اور اس کی قبرکو روشن فرما کر اُسے ماں باپ سمیت اپنے پیارے پیارے سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جنت الفردوس میں پڑوس نصیب فرم ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

14 فروری 2026ء مطابق 26 شعبانُ المعظم 1447ھ کی شب دعوتِ اسلامی کے  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کے دوران عاشقانِ رسول نے دینی، اخلاقی اور شرعی امور کے حوالے سے مختلف سوالات کئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت بھرے جوابات عطا کئے۔

بعض سوال و جواب

سوال:ایک پوسٹ میں لکھا ہواتھا :کہ آدمی کو مرتے دم تک زندہ رہنا چاہیئے اوراس کے کردارکو مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہیئے،اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ؟

جواب: اس کا یہ معنی ہوسکتاہے کہ بندےکو مرتے دم تک زندہ دل رہنا چاہیئے ، کردارایساصاف سُتھرا ہو اور زندگی اچھائی میں گزارے کہ مرنے کے بعد اسے بھلائی اورنیک نامی کے ساتھ یاد کیاجائے ۔

سوال:اگر کسی حافظِ قراٰن کونظرکی کمزوری کی وجہ سے عینک لگی ہواورلوگ اُسے کہتے ہوں کہ حفظِ قراٰن کی وجہ سے نظرکمزورہوئی ہے ،اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ؟

جواب: یہ غلط فہمی ہے ،ایسا نہیں کہنا چاہیئے کہ اس سے حافظ صاحب کو بُرالگے گا،اس طرح کہنے سے توبہ کرنی چاہیئے ۔حفظِ قرآن کی وجہ سے نظر کمزورنہیں ہوتی ،بزرگوں کا قول ہے کہ قراٰنِ کریم کا دِیدارکرنے سے نظرتیزہوتی ہے ۔ کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر اگرقراٰنِ کریم پڑھیں گے تواس سے نظر کمزور ہوسکتی ہے بالخصوص جب اس کی لائٹ تیز ہو یا کمرے میں اندھیراہوتو اب بھی اسکرین کی لائٹ آنکھوں کے لئے خطرناک ہے ۔ہرچیز کی ایک حدہوتی ہے ،جب اسے حدسے زیادہ استعمال کریں گے تونقصان ہوگا۔

سوال: کیا موقع ملنے کے باوجود بھی نمازِتہجدنہ پڑھنامحرومی ہے ؟

جواب:لوگوں میں عبادت کا جذبہ کم ہے ،کئی لوگوں کو موقع بھی ملتاہے مگروہ نمازِتہجدنہیں پڑھتے ،یہ محرومی ہے ۔نیت سچی تھی مگرجاگ نہ سکا اورتہجدکی نمازنہ پڑھ سکاتوتہجدکی سچی نیت کی وجہ سے تہجدکا ثواب پائے گا۔ان شاء اللہ الکریم

سوال: ہرکمال را زوال کا کیا معنی ہے ؟

جواب: ہرکمال را زوال (را۔زوال) کا معنی ہے کہ ہرکمال کو زوال ہے مگرجسے اللہ پاک عزت دے تو اس کی عزت کو زوال نہیں جیسے حضورغوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی عزت اب بھی ہمارے دلوں میں ہے ۔

سوال: دعوتِ اسلامی کے بارے میں آپ کے کیاجذبات ہیں ؟

جواب:دعوتِ اسلامی بہت بڑی نعمت ہے ،دعوتِ اسلامی دعوت اسلامی ہے ،اے دعوت اسلامی تیری دُھوم مچی ہے ۔

سوال:کیا سرسوں کا تیل(Mustard Oil) کھانے میں استعمال کرسکتے ہیں ؟

جواب: جی کرسکتے ہیں اوراستعمال کرنابھی چاہیئے ،اس کے کئی فوائدہیں ،آنکھوں اور چہرے کے علاوہ سارے جسم پر سرسوں کا تیل مَل لیاجائے تو خارش کے لئے مفیدہے ۔مگریادرکھیں! کوئی بھی علاج کرنا ہوتو اپنے حکیم/ڈاکٹر سے مشورہ ضرورکریں۔

سوال: ماہنامہ خواتین(دعوتِ اسلامی) کااسپیشل(Special) شمارہ ’’خواتین کے لئے اُسوۂ رسول ‘‘کے بارے میں امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟

جواب:یہ اسلامی بھائیوں ،اسلامی بہنوں ،بچوں اور بوڑھوں سبھی کے لئے مفیدہے،یہ ضرورلیں،پڑھیں اورگھر میں رکھیں۔25فروری 2026 تک مکتبۃ المدینہ سے 20 فیصد رعایت پر لے سکتے ہیں ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ’’ ماہِ رمضان ماہِ نیک اعمال ‘‘پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا رب المصطفٰے! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”ماہِ رمضان ماہِ نیک اعمال“ پڑھ یا سُن لے، اُسے رمضان الکریم میں خوب نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما اور اسے ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

7 فروری 2026ء بمطابق 19 شعبانُ المعظم 1447ھ کی شب  دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام معمول کے مطابق ہفتہ وار مدنی مذاکرہ شروع ہوا جس میں کراچی سٹی کے اسلامی بھائیوں نے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں آکر براہِ راست جبکہ دیگر شہروں و دیگر ممالک کے اسلامی بھائیوں نے بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کے دوران مختلف سوالات کا سلسلہ ہوا جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےعلم و حکمت سے بھرپور جوابات دیئے۔

بعض سوال و جواب:

سوال:جودُنیادُنیا کرتاہے تو اس کے ساتھ کیا ہوتاہے ؟

جواب: جودُنیا سے محبت کرتاہے ،صرف دُنیا کوہی حاصل کرنے میں لگا رہتاہے تو دُنیا اس سے دُوربھاگتی ہے اور جو دُنیا سے کنارا کرتاہے، دُنیا اس کی طرف بھاگ بھاگ کرآتی ہے ۔ بزرگانِ دین کے مزارات بنے ہوئے ہیں ،لوگ ان کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں جبکہ کئی بادشاہوں کے نام لوگ بھول گئے۔اگریاد ہیں بھی توان کی بُری شہرت ہے جیسےیزیدکی بُری شہرت ہے ،اسے کوئی ایصالِ ثواب نہیں کرتاجبکہ نواسۂ رسول،امامِ حسین رضی اللہ عنہ کی ہمارے دلوں پر حکمرانی ہے ،جنت میں بھی یہ جوانوں کے سردارہوں گے ۔

سوال: پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک سُن کر انگوٹھے چُومنےکا کیا فائدہ ہے ؟

جواب:پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام مبارک سُن کر انگوٹھے چُومنا تعظیم کے لئے ہوتاہے ۔ مستحب یہ ہے کہ اذان و اِقامت میں جب پہلی شہادت سُنیں تو کہیں:صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اور جب دُوسری بار سُنیں تو دونوں انگوٹھے اپنی دونوں آنکھوں پر لگانے کے بعدکہیں:قَرَّتْ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ پھر یہ کہیں اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ تو حضور نبیِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنّت کی طرف اس کے قائد ہوں گے۔حدیث شریف میں ہے:جس نے اذان میں اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِ سُننے کے بعد اپنے دونوں انگوٹھوں کو بوسہ دیا تو جنّت کی صفوں میں، میں اس کا قائد اور داخل کرنے والا ہوں گا۔( ردالمحتار،2 / 84)

مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے مَروی ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہ عَنْہُ نے مؤذّن کو اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْ لُ اللّٰہ کہتے سُنا تو یہ دُعا پڑھی اور دونوں کلمے کی اُنگلیوں کے پورے جانبِ زیریں سے چُوم کر آنکھوں سے لگائے،اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا،اُس کے لئے میری شفاعت حلال ہوجائے۔( فتاویٰ رضویہ،5/ 432)

سوال: نیکی کرنے پر کوئی تعریف کرے اوردل میں خوشی محسوس ہوتو کیا یہ بھی رِیا کاری ہے ؟

جواب:یہ ریا کاری نہیں ،البتہ آزمائش ضرورہے کہ کہیں وہ بندہ اپنے آپ کو نیک نہ سمجھنا شروع کردے ۔ریا کاری یہ ہے کہ بندہ نیکی اس لئے کرے کہ لوگوں سے عزت یا مال حاصل ہو ۔

سوال:تُرک مسلمان کیسے ہیں ؟

جواب: تُرک مسلمان بڑے عاشقِ رسول ہیں ۔ان کے عشقِ رسول کے واقعات پڑھ کربندہ حیران رہ جاتاہے ،مدینہ شریف میں جب ان کی خدمت تھی تو یہ مسجدِنبوی شریف کی تعمیرات میں بھی آوازبلندنہیں ہونے دیتے تھے ،پتھرکی کٹائی بھی مدینۂ منورہ سے باہر کرکے لاتےتھے وغیرہ ۔

سوال: امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے انگوٹھے چُومنے کی اپنی کیابرکت بتائی ؟

جواب: مَیں بچپن سے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک سُن کرانگوٹھے چُو متاہوں میری عمر تقریباً 77 سال ہے ،میں بغیر عینک کے گزاراکرلیتاہوں ،مَیں اسے اس کی (یعنی نامِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سُن کر انگوٹھے چُومنے کی)برکت سمجھتاہوں ۔مَیں تعظیم کے لئے عام طورپرسیدصاحب کے ہاتھ بھی چُوم لیتاہوں ۔

سوال:رمضان شریف کی سجاوٹ کس طرح کریں ؟

جواب: آپ رمضان شریف کی سجاوٹ مدنی چینل پر دیکھ رہے ہوں گے ،آپ بھی تعظیمِ رمضان کی نیت سے اپنے گھروں میں سجاوٹ شروع کردیں ۔مکتبۃ المدینہ سے رمضان مبارک کی جھنڈیاں اورپینافلیکس خرید لیں، گھروں کے باہراوراندرلگائیں ۔

سوال: کیا فرض اورنوافل کے بارے میں کسی کوسمجھانے کا انداز مختلف ہونا چاہیئے ؟

جواب: گھروالوں پرفرض پرعمل کروانے میں سختی کرنے کی صورتیں بھی ہیں مگر نوافل میں سختی کرنے کی اجازت نہیں ،نوافل خود پر نافذ کریں لیکن گھروالوں پر اس کے لئے سختی نہ کریں ،نرمی کے ساتھ دعوت دے سکتے ہیں ۔

سوال: فالتوباتیں نہ کرنے کا کیا فائدہ ہوتاہے ؟

جواب:فالتو باتیں ہمارے معاشرے سے ختم ہوجائیں توہمارے ہاں ہونے والے تمام جھگڑے ختم ہوجائیں ۔

سوال: پاکستان میں رمضان شریف میں عموماًچیزوں کی قیمت بڑھ جاتی ہے،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: کاش ہمارے ملک پاکستان میں تعظیمِ رمضان کی نیت سے ماہِ رمضان میں چیزیں سستی ہوجائیں۔تاجرحضرات جو نفع لیتے ہیں اس میں لفظ ’’اللہ‘‘ کے حرفِ ابجد 66 کی نسبت سے 66% رعایت کردیں ۔

سوال: ماہِ رمضان میں افطاری کا سامان غریب علاقوں میں بانٹنے کے بارے میں امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نےکیا ترغیب دلائی؟

جواب:ماہِ رمضان شریف میں رشتہ داروں کو پہلے دیکھیں ،پھر پڑوس کودیکھیں پھر غریب علاقوں میں افطاری کاسامان غریبوں کے گھروں میں بھجوائیں ۔یہ زکوٰۃ کی رقم سے نہیں بلکہ صاف(Fresh) رقم سے کریں اورغریبوں کی دعائیں لیں ۔ ساداتِ کرام،امام مساجد اورعلمائے کرام کو ترجیح دیں ۔

سوال:نیکیوں میں دل نہ لگنے جبکہ گناہوں میں دل لگنے کی کیا وجہ ہے؟

جواب:نیکیاں کرنے میں شیطان رکاوٹ ڈالتاہے جبکہ گناہوں اورفضول کاموں میں وہ مددکرتاہے ۔ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ 20 سال تک تلاوتِ قراٰن میں میرا دل نہیں لگا، مگرمیں تلاوت کرتارہا پھر 20 سال میں نے اس سے نفع اٹھایا یعنی 20 سال کے بعد تلاوت میں دل لگ گیا ۔اولڈ کراچی کی قاضیاں والی مسجدکے( مرحوم) امام صاحب نے مجھے بتایا تھاکہ میں”روزانہ ایک قراٰن پاک ختم کرلیتاہوں “۔وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے ۔بندہ جس کام میں مشغول ہوجاتاہے تو اس میں دل لگ ہی جاتاہے۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ’’راہِ خدا میں پیاری چیز دینا“پڑھنے یا سُننے والوں کوامیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یاربَّ المصطفٰے ! جو کوئی 13 صفحات کا رسالہ ’’راہِ خدا میں پیاری چیز دینا“پڑھ یا سُن لے اُس کے رزق میں برکت اور اُسے اپنی راہ میں خوش دلی سے اپنی چیز دینے کی توفیق عطا فرماکر ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

31 جنوری 2026ء بمطابق 12 شعبانُ المعظم 1447ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرہ منعقد ہوا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کے دوران عاشقانِ رسول کی جانب سے مختلف سوالات ہوئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت بھرے جوابات دیئے۔

سوال و جواب کی تفصیلات:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ”بہترین آنکھ وہ ہے جس سے انسان اپنے اندر جھانک سکے“، آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: بات بالکل درست ہے ،واقعی اپنے اندر جھانکنا یعنی اپنا محاسبہ کرنا اصلاح کا باعث ہوتا ہے ۔

سوال: ہمیں دینی مسائل کس سے پوچھنے چاہئیں؟

جواب: دارُالافتاء میں فتاویٰ نویسی کرنے والے مفتیانِ کرام سے شرعی مسائل پوچھنے میں ہی عافیت ہے۔دعوتِ اسلامی کے دار الافتاء اہلسنت کے مفتیانِ کرام سے شرعی مسئلہ پوچھا کریں ۔

سوال: ایک حافظِ قراٰن ،اپنا حفظ کیسے پکاّ رکھے؟

جواب: کہا جاتا ہے کہ قراٰن پاک حفظ کرنا آسان ہے مگر اسے حفظ رکھنا مشکل ہے ، روزانہ ایک منزل دوہرائی ہو جائے تو 7 دن میں قراٰنِ کریم مکمل ہو جائے گا،ایک مہینے میں 2 قراٰنِ کریم ختم کر لیں ورنہ حافظ اور غیر حافظ سب کو پورے مہینے میں ایک قراٰن پاک ختم کرنا چاہیئے ۔

سوال:امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کون ہیں ؟

جواب: ؟امام محمد رحمۃ اللہ علیہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردتھے ،امام اعظم نے انہیں قراٰنِ پاک حفظ کرنے کا فرمایا تو انہوں نے ایک ہفتے میں پوراقراٰنِ پاک حفظ کرلیا ۔

سوال: کہاجاتاہےکہ ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“ ،کیا جس مٹی سے بندے کا وجود بناہوتاہے وہ اسی جگہ دفن کیا جاتاہے؟

جواب: جی ہاں !حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا ہے۔( المصنف عبد الرزاق، 3 /515 ، رقم : 6531 : المکتب الاسلامی، بيروت )

سوال: خوشبو کس نیت سے لگانی چاہیئے ؟

جواب: خوشبو لگانے سے پہلےاپنے آپ کو ریاکاری سے بچانے اور اخلاص پانے کے لئے حسبِ حال اچھی اچھی نیتیں کر لینی چاہئیں، بالخصوص اللہ پاک کی رضا اور اِتّباعِ سنَّت کی نیت ضرور ہونی چاہیئے۔ اس کے علاوہ یہ نیتیں بھی کی جا سکتی ہیں مثلاًبِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر لگاؤں گا،مُسلمانوں اور فرشتوں کو خُوشبو سے فَرحَت (یعنی خوشی و سُرور) پہنچاؤں گا ، خود سے بدبُودُور کر کے مسلمانوں کو غیبت سے بچاؤں گا ، نَماز کے لئے زینت حاصِل کروں گا ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” رشتے داری کاٹنا حرام ہے“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربِّ کریم ! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ’’ رشتے داری کاٹنا حرام ہے‘‘ پڑھ یا سُن لے اس کو ہمیشہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سُلوک کرتے ہوئے اُنہی کے ساتھ جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


لوگوں کو سنت رسول کا پابند بنانے اور شریعت مطہرہ کی روشنی میں اُن کی رہنمائی کرنے والہ عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 24 جنوری 2026ء بمطابق 5 شعبانُ المعظم 1447ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔

مدنی مذاکرے میں کراچی مختلف علاقوں سے جبکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے بذریعہ مدنی چینل کثیر عاشقانِ رسول شریک ہوئے اور دینی، اخلاقی، معاشرتی و شرعی مسائل کے حوالے سے سوالات کئے۔

اس دوران شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال: اس طرح کا خوف کہ میری نیکیاں ناقص ہیں، اس لئے کرنے کا کیا فائدہ، اس کا کیا حل ہے ؟

جواب: بندہ شیطان کے وسوسوں پر توجہ نہ دے اور نیکیاں نہ چھوڑے ، وہ تو یہی چاہتا کہ نیکیاں نہ کی جائیں ۔اپنی عبادت کو ناقص ہی سمجھنا چاہیئے اور امید رکھنی چاہئے کہ اللہ پاک ان ناقص نیکیوں کو اپنے فضل سے قبول فرمائے گا ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی عبادت کی اصلاح نہ کی جائے بلکہ ان کی اصلاح جاری رکھی جائے ۔

سوال: ظلم کی کتنی قسمیں ہیں ؟

جواب: ظلم کی بہت قِسمیں ہیں ،کسی کو زخمی کردینا ہی ظلم نہیں ،مُکّا مار دیا وغیرہ بلکہ کسی کو اس طرح گھُور کر دیکھنا کہ اس کے دل میں خوف پیدا ہو ،یہ بھی ظلم ہے ۔جس پر ظلم کیا ہے اس سے معافی تلافی کر لی جائے ،وہ نہیں ملتا تو اللہ پاک سے توبہ کی جائے اور توبہ کے تقاضے پور ے کئے جائیں ۔

سوال:ہمارے معاشرے میں والدین کے ساتھ بدسلوکی اور اپنے سے جدا کرنے کی صورتیں بھی پائی جاتی ہیں،اولڈ ہاؤس (Old House) اور ریٹائرڈ ہاؤس (Retired House)قائم کئے جا رہے ہیں ،والدین کی اہمیت و خدمت کے بارے میں آپ بھی نصیحت فرما دیں ؟

جواب: والدین کو رلانا اور ستانا خطرناک عمل ہے ،نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کچھ لوگ آگ کی شاخوں سے لٹکے ہوئے دیکھائے گئے اور بتایا گیا یہ اپنے والدین کے نافرمان تھے۔ والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ بھی کہنے کی اجازت نہیں ، ماں باپ کو کبھی بھی ناحق نہ ستائیں ورنہ آخرت میں پھنس جائیں گے ۔والدین کے ساتھ نیکی جہاد سے افضل ہے ۔ والدین کی خدمت کرنا اور تکلیف نہ دینا دونوں ضروری ہیں ۔اپنے والدین کو اولڈ ہاؤس اور ریٹائرڈ ہاؤس میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں رکھ کر خدمت کریں۔رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے والدین کا فرمانبردار ہے اس کے لئے صبح ہی کو جنت کے 2 دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں سے ایک ہی ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ والدین کے متعلق اللہ پاک کی نافرمانی کرتا ہے اس کے لئے صبح ہی کو جہنم کے 2 دروازے کھل جاتے ہیں اور ایک ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے۔ ایک شخص نے کہا: اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ فر مایا: اگرچہ ظلم کریں، اگرچہ ظلم کریں، اگرچہ ظلم کریں۔(شعب الایمان،10/ 307،حدیث 7538)

سوال:ماہ ِشعبان کو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مہینا اور ماہِ درود و سلام کیوں کہتے ہیں ؟

جواب: ماہ ِشعبان کے بارے میں آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : شَعْبَانُ شَہْرِیْ وَرَمَضَانُ شَہْرُ اللّٰہِ یعنی شعبان میرا مہینا ہے اور رَمَضان اللہ پاک کا مہینا ہے۔(جامع صغیر، ص 301،حدیث: 4889) یعنی شعبان میرا مہینا ہے اور آیت ِ درود (سورہ ٔاحزب،آیت : 59)اسی مہینے میں نازل ہوئی ،اس لئے اس ماہ میں درود و سلام کی کثرت کرنی چاہیئے ۔

سوال: کیا جہنم میں سردی کا عذاب ہوگا؟

جواب: جی ہاں جہنم میں سردی کا عذاب ہوگا، جہنم میں ایک طبقہ زمہریر ہے جس میں بہت ٹھنڈک ہے ، فرمانِ مصطَفےٰصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : جب سخت سردی ہوتی ہے تو بندہ کہتا ہے۔لَاۤاِلٰہَ اِلَّااللہُ آج کتنی سخت سردی ہے! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنْ زَمْھَرِیْرِ جَھَنَّم یعنی اے اللہ پاک! مجھے جہنّم کی زمہریر سے بچا۔اللہ پاک جہنّم سے فرماتا ہے : میرا بندہ تیری زمہریر سے ميری پناہ میں آنا چاہتا ہے اور میں نے تیری زمہریر سے اسے پناہ دی۔ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : جہنّم کی زمہریر کیا ہے؟ ارشاد فرمایا : وہ ایک گڑھا ہے جس میں کافر کو پھینکا جائے گا تو سخت سردی سے اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔( معجمِ کبیر ، 18 / 366 ، حدیث : 935)

سوال: مطلقا ًکے کیا معنی ہیں ؟

جواب: مطلقاً کا معنی ہے، ہر طرح سے جیسے سانس لینے کی مطلقاً یعنی ہر جگہ اور ہر طرح سے سانس لینے کی اجازت ہے ۔

سوال: تقویٰ کا کیا معنی ہے اور اس کے کتنے درجات ہیں ؟

جواب:تقویٰ کا لغوی معنی کسی چیز سے رکاوٹ ہے ،جیسے تقویٰ بندے کے لئے جہنم کی رکاوٹ بن جائے گا، اس کے مختلف درجے ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : تقویٰ 7 قسم کا ہے۔ کُفر سے بچنا یہ بفضلہٖ تعالیٰ ہر مسلمان کو حاصل ہے، بد مذہبی سے بچنا یہ ہر سُنّی کو نصیب ہے، ہر کبیرہ سے بچنا، صغائر سے بھی بچنا، شبہات سے احتراز (بچنا) ، شہوات سے بچنا، غیر کی طرف التفات سے بچنا ، یہ اَخَصُّ الْخَواص کا منصب ہے اور قراٰنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی(رہنما)ہے۔(خزائن العرفان مع کنزالایمان ، ص4 ملخصاً)

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” جو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسند وہ اپنی پسند “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ” جو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسند وہ اپنی پسند “ پڑھے یا سُن لے، اُسے صحابہ و اہلِ بیت کے عشقِ رسول سے حصہ عطا کر اور اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب جنت الفردوس میں داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

3 جنوری 2026ء بمطابق 14 رجب المرجب 1447ھ کی شب معمول کے مطابق  دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول شریک ہوئے۔

تلاوت و نعت سے آغاز ہونے والے اس مدنی مذاکرے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات دیئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال: عورت کو گھرکے کاموں کی وجہ سے زیادہ تھکن لگے ،چڑچڑا پن ہو تو کیا کرے ؟

جواب: صبر کرے ،قول یا فعل سے بے صبری کا اظہار نہ کرے ،صبر کے فضائل و فوائد پر غور کرے ،انبیائے کرام علیہم السلام،صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے کرام رحمہم اللہ المبین کے واقعات و انداز کو یاد کرے ، صبر بہت بڑا خزانہ ہے، اس سے کئی مسائل حل ہو تے ہیں ۔سونے سے پہلے 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللهِ ، 33 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور34مرتبہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھ لے۔(بخاری، 4/194، حدیث:6318) اس وظیفے کوتسبیحِ فاطمہ(رضی اللہ عنہا) کہتے ہیں۔ روزانہ سونے سے پہلےتسبیحِ فاطمہ پڑھنے کی عادت بنا نے سےاِن شآءَ اللہ الکریم کام کاج کی تھکاوٹ دُور ہو گی ۔بے صبری کرنے سے بسا اوقات گھر بھی ٹُوٹ جاتا ہے، بے صبری کے نقصانات پیشِ نظر رکھیں۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ جب تک شعور نہ آ جائے تب تک منہ کھانے پینے کے لئے استعمال نہ کریں، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: منہ کا استعمال کھانے اور بولنے دونوں کے لئے ہوتا ہے ،اس پوسٹ میں سمجھایا گیا ہے کہ جب تک کھانے پینے کا شعور اور سمجھ بُوجھ نہ آ جائے ۔اس وقت تک نہ کھائے پیے،اسی طرح بولنے میں بھی ہے۔اصل سبق یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور زبان دونوں کو شعور کے ساتھ استعمال کرے۔(یعنی جو کھائیں اور جو بولیں، سوچ سمجھ کر کریں،بےسمجھے کھانا بھی نقصان دہ ہے اور بےسوچے بولنا بھی نقصان دہ)۔

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ کھانے کے دوران زبان کچل جائے توکسی نے گالی دی ہے،اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب: ایسا کہنا فضول اور غلط بات ہے ،زبان کے کچل جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ دانتوں کی نوک یا کونہ نکل آتا ہے جس کی وجہ سے زبان کچل جاتی ہے ،بعض مرتبہ اس وجہ سے زبان زخمی بھی ہو جاتی ہے یا زبان پر چھالا ہو جاتا ہے ۔اس کا حل یہ ہے کہ دانتوں کے ڈاکٹر سے اس نوک یا کونے کی گھسائی کروا لی جائے ۔

سوال: اسلامی مسائل پوچھنے کے بارے میں آ پ اپنا انداز بتا دیجئے ؟

جواب: مجھے مسائل پوچھنے کا جنون تھا ،اس کے لئے مطالعہ کرتا تھا ،عوامی سواری میں گھنٹوں سفر کر کے مفتی صاحب(مفتیِ اعظم پاکستان، مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس جا جا کر مسائل پوچھتا تھا ۔اب بھی پوچھتا رہتا ہوں۔

سوال: صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے، اس کا کیا معنی ہے ؟

جواب: یہ محاورہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ صبر کرنے کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے ۔

سوال: گناہِ کبیرہ اور گناہِ صغیرہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب: کبیرہ گنا ہ بڑے گناہ کواور صغیرہ گنا ہ چھوٹے گنا ہ کو کہتے ہیں ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم ! جو کوئی 25 صفحات کا رسالہ ”حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہپڑھ یا سُن لے اُسے اپنے سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام صحابہ و اہلِ بیت علیہم الرضوان کا احترام کرنے والا بنا اور اُسے ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

3 جنوری 2026ء بمطابق 14 رجب المرجب 1447ھ کی شب معمول کے مطابق  دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول شریک ہوئے۔

تلاوت و نعت سے آغاز ہونے والے اس مدنی مذاکرے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات دیئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال: عورت کو گھرکے کاموں کی وجہ سے زیادہ تھکن لگے ،چڑچڑا پن ہو تو کیا کرے ؟

جواب: صبر کرے ،قول یا فعل سے بے صبری کا اظہار نہ کرے ،صبر کے فضائل و فوائد پر غور کرے ،انبیائے کرام علیہم السلام،صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے کرام رحمہم اللہ المبین کے واقعات و انداز کو یاد کرے ، صبر بہت بڑا خزانہ ہے، اس سے کئی مسائل حل ہو تے ہیں ۔سونے سے پہلے 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللهِ ، 33 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور34مرتبہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھ لے۔(بخاری، 4/194، حدیث:6318) اس وظیفے کوتسبیحِ فاطمہ(رضی اللہ عنہا) کہتے ہیں۔ روزانہ سونے سے پہلےتسبیحِ فاطمہ پڑھنے کی عادت بنا نے سےاِن شآءَ اللہ الکریم کام کاج کی تھکاوٹ دُور ہو گی ۔بے صبری کرنے سے بسا اوقات گھر بھی ٹُوٹ جاتا ہے، بے صبری کے نقصانات پیشِ نظر رکھیں۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ جب تک شعور نہ آ جائے تب تک منہ کھانے پینے کے لئے استعمال نہ کریں، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: منہ کا استعمال کھانے اور بولنے دونوں کے لئے ہوتا ہے ،اس پوسٹ میں سمجھایا گیا ہے کہ جب تک کھانے پینے کا شعور اور سمجھ بُوجھ نہ آ جائے ۔اس وقت تک نہ کھائے پیے،اسی طرح بولنے میں بھی ہے۔اصل سبق یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور زبان دونوں کو شعور کے ساتھ استعمال کرے۔(یعنی جو کھائیں اور جو بولیں، سوچ سمجھ کر کریں،بےسمجھے کھانا بھی نقصان دہ ہے اور بےسوچے بولنا بھی نقصان دہ)۔

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ کھانے کے دوران زبان کچل جائے توکسی نے گالی دی ہے،اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب: ایسا کہنا فضول اور غلط بات ہے ،زبان کے کچل جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ دانتوں کی نوک یا کونہ نکل آتا ہے جس کی وجہ سے زبان کچل جاتی ہے ،بعض مرتبہ اس وجہ سے زبان زخمی بھی ہو جاتی ہے یا زبان پر چھالا ہو جاتا ہے ۔اس کا حل یہ ہے کہ دانتوں کے ڈاکٹر سے اس نوک یا کونے کی گھسائی کروا لی جائے ۔

سوال: اسلامی مسائل پوچھنے کے بارے میں آ پ اپنا انداز بتا دیجئے ؟

جواب: مجھے مسائل پوچھنے کا جنون تھا ،اس کے لئے مطالعہ کرتا تھا ،عوامی سواری میں گھنٹوں سفر کر کے مفتی صاحب(مفتیِ اعظم پاکستان، مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس جا جا کر مسائل پوچھتا تھا ۔اب بھی پوچھتا رہتا ہوں۔

سوال: صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے، اس کا کیا معنی ہے ؟

جواب: یہ محاورہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ صبر کرنے کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے ۔

سوال: گناہِ کبیرہ اور گناہِ صغیرہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب: کبیرہ گنا ہ بڑے گناہ کواور صغیرہ گنا ہ چھوٹے گنا ہ کو کہتے ہیں ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم ! جو کوئی 25 صفحات کا رسالہ ”حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہپڑھ یا سُن لے اُسے اپنے سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام صحابہ و اہلِ بیت علیہم الرضوان کا احترام کرنے والا بنا اور اُسے ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

29 نومبر 2025ء بمطابق 8 جمادی الاخریٰ 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام ہوا جس میں بیرونِ ممالک سے آئے ہوئے معزز علمائے کرام،  عاشقانِ رسول، ذمہ داران اور کراچی شہر کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

اس مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ عشا تلاوتِ قراٰن و نعتِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا جس کے بعد عاشقانِ رسول کے مختلف سوالات ہوئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعض سوال و جواب

سوال:معاشرے میں ذہن بنا ہوا ہے کہ ساس بہو میں نہیں بنتی ،آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب:یہ ذہن نہیں بنانا چاہیئے، سا س اوربہو دونوں کو ایک دوسرے کےساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیئے۔ غصے والے کو اگر کہاجائے کہ یہ بڑا غصے والاہے تو اس کا غصہ بڑھ جاتاہے۔

سوال:والدین اورٹیچرز کوبچوں کوسمجھاتے ہوئے کیا الفاظ نہیں کہنے چاہئیں ؟

جواب:والدین اورٹیچرز کو بچوں کو یہ نہیں کہنا چاہیئے کہ تم کسی کام کے نہیں ہو، اس طرح کہنے سے اس میں احساسِ کمتری پیداہوسکتی ہے جس سے وہ اپنی عمرمیں کچھ بڑا کرنےکی ہمت نہیں کرپاتا۔

سوال:جب گرمی جارہی ہواورسردی آرہی ہوتومسجدمیں پنکھا چلانے اورنہ چلانے میں اختلاف ہوجاتاہے آپ کیا فرماتے کہ کیا کرنا چاہیئے ؟

جواب:میرا مشورہ ہے کہ جسے گرمی لگ ہورہی تو وہ صبرکرلے تاکہ پنکھا چلانے سے جن کو تکلیف ہوتی ہے وہ اس تکلیف سے بچ جائیں ۔کوشش ہونی چاہیئے کہ ہم کسی کو فائدہ نہیں دے سکتے تو تکلیف بھی نہ دیں ۔

سوال:ہمارے معاشرے میں لوگ دوسروں کانام بگاڑتے ہیں ،آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:قرآن پاک میں اللہ پاک نے کسی کا نام بگاڑنے سے منع فرمایاہے ۔(پارہ،26،سورۂ حجرات:11)کسی کو کچھ بولنے سے پہلے سوچیں کہ میرے اس طرح کہنے سےوہ خوش ہوگا یا ناراض ،وہ بات ہرگزنہ کہے جس سے اس کی دل آزاری ہو۔ حدیث پاک میں ہے :مَنْ دَعَا رَجُلًا بِغَيْرِ اسْمِهِ لَعَنَتْهُ الْمَلَائِكَةُ یعنی جس نے کسی کو اس کے نام کے علاوہ پُکارا یعنی نام بگاڑاتو فِرِشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۔(عمل الیوم واللیلۃ، ص175، حدیث: 395)

سوال:یہ درست ہے کہ حسن ِظن میں کوئی نقصان نہیں اور بدگُمانی میں کوئی فائدہ نہیں؟

جواب:جی ہاں! ‏ کسی مسلمان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا ’’حسن ظن ‘‘کہلاتا ہے٭حسن ظن ایک جائزوحلال، باعث اجر وثواب وجنت میں لے جانے والا کام ہے ٭حسنِ ظن سے بدگمانی دور ہوجاتی ہے ٭حسنِ ظن سے دل میں مسلمانوں کی محبت پیدا ہوتی ہے٭حسنِ ظن سے بدلہ لینے کی چاہت ختم ہوتی ہے ٭حسنِ ظن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں کوئی نقصان نہیں۔

سوال:حج میں مشقت ہوتی ہے اس لئے بعض لوگ حج کرنے سے ہچکچاتے ہیں ،آپ انہیں کیا کہیں گے ؟

جواب:حج فرض ہوگیا تو اب حج کرنا ضروری ہے ورنہ گنہگارہوں گے ۔ حج میں جو رِقَّت و ذَوق ہوتا ہے وہ سفرِ عمرہ میں نہیں ہوتا۔سفرِ حج اورسفرِعمرہ دونوں کرنے چاہئیں ۔سفرِحج وعمرہ میں گناہوں کے کاموں مثلاً جھوٹ، غلط سرٹیفکیٹ وغیرہ سے بچنا بھی ضروری ہے ۔

سوال:بڑھاپے میں کئی طرح کی کمزوریاں آجاتی ہیں ،بوڑھے کیا کریں ؟

جواب:کالے بالوں کے بعد سفیدبال آنے میں عبرت ہے ،یہ موت کی یاد دِلاتے ہیں ،آنکھ کمزور،مزاج میں کمزوری ،چڑچڑا پَن بڑھ جاتاہے ،حافظہ کمزور،سننے میں کمزوری آجاتی ہے۔یہ ساری چیزیں موت کی یاد دِلاتی ہیں ۔ بوڑھوں کو بھی موت کی تیاری میں مصروف رہنا چاہیئے، بوڑھوں کےپاس موت سے بچنے کا کوئی آپشن نہیں، اس عمرمیں سنبھل کر رہنا ہے، اب غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” مذاق میں جھوٹ بولنا کیسا؟“ پڑھنے یاسُننے والوں کوامیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یاربِّ کریم! جو کوئی 14 صفحات کا رسالہ ”مذاق میں جھوٹ بولنا کیسا؟“ پڑھ یا سُن لے اُسے ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق دے اور اس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے، علمِ دین حاصل کرنے اور فرض علوم سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعات و مدنی مذاکروں میں شرکت کرنا ہے۔

اسی سلسلے میں 22 نومبر 2025ء بمطابق 1جمادی الاخری 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں”ہفتہ وار مدنی مذاکرے“ کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر اسلامی بھائیوں نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

معلومات کے مطابق بعد نمازِ عشا شروع ہونے والے اس مدنی مذاکرے میں عاشقانِ رسول کی جانب سے مختلف سوالات کئے گئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعض سوال و جواب

سوال:لوگوں کی موجودگی میں کیا احتیاط کی جائے ؟

جواب:لوگوں کے سامنے ہر اُس بات سے بچنا چاہیئے جس سے کراہیت آئے، بغیر مجبوری تُھوکنا، بدن کھجانا ،بدن سے میل جدا کرنا، دانتوں سے ناخن کاٹنا، زورسے چھینکنا اور بلند آواز سے کھانسنا، عموماً لوگ ان کاموں کو پسند نہیں کرتے،اس وجہ سے آپ کی نیکی کی دعوت خوش دِلی سے نہیں سنیں گے ۔اس طرح کے آداب سوچنے اورتجربے سے حاصل ہوں گے ۔

سوال:کمانے کھانے میں کیا بات پیشِ نظر رکھی جائے؟

جواب:بندہ تھوڑا کمائے مگر حلال کمائے اور کسی کو ہرگز تکلیف نہ دے۔مال کمانے سے منع نہیں ہے مگر بندہ حرص نہ کرے، مال کے حقوق ادا کرے یعنی زکوٰۃ کی ادائیگی بروقت کرے۔

سوال:عبادت اچھے انداز سے ہونے پر خوشی اوردُشواری ہونے پر غم ہونا کیسا؟

جواب:یہ کیفیت فطری ہے اور اللہ و رسول عزوجل و صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت کی علامت ہے ۔

سوال:کئی ایک نوجوان فضول کاموں میں لگےرہتے ہیں مگر فرض علم سے دُور ہوتے ہیں ،آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:علمِ دین حاصل کرنا افضل عبادت ہے ،ضرورت کے احکام و مسائل جاننا فرض ہیں ،یہ سب کے لئے فرض ہے اس کے لئے دِینی ماحول کی ضرورت ہے ،دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں رہیں گے تو فرض علوم سیکھنے کی سعادت ملے گی ،نیک اعمال پر عمل اور قافلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سفر کرنے سے علمِ دین حاصل کرنے کا جذبہ ملے گا، گناہوں سے بچنے کا ذہن بنے گا۔ اس طرح آپ معاشرے کے اچھے انسان بن کر اُبھریں گے ۔

سوال:بعض نادان کاروبار میں دھوکہ دیتے ہیں ،کسی طرح بھی اپنی چیزیں بیچنے کی کوشش کرتے ہیں، آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:مَنْ غَشَّنَافَلَیْسَ مِنَّا یعنی جس نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں۔(مسلم، ص45، حدیث: 101) علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کسی چیز کی ( اصلی ) حالت کو پو شیده رکھنا دھوکہ ہے۔(فيض القدير، ج 4، ص 240، تحت الحديث: 8879) ہر دھو کہ دینے والے کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔(بخاری شریف، حدیث:6966)دھو کہ دینے والوں کو اللہ پاک سے ڈرنا چاہیئے ،سچی توبہ کر کے معافی تلافی کرنی چاہیئے ۔

سوال:مسجد الحرام میں جس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مبارک قدموں کے نشان ہیں، اس مقام کا کیا نام ہے؟

جواب:مقامِ ابراہیم (علیہ السلام)۔

سوال:صفا اور مروہ کے درمیان جہاں کچھ دوڑا جاتا ہے، اس جگہ کو کیا کہتے ہیں ؟

جواب: مِیْلَیْن اَخْضَرَیْن۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” کتاب راہِ علم سے 72 مدنی پھول “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یا ربِّ مصطفٰے! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”کتاب راہِ علم سے 72 مدنی پھول“ پڑھ یا سُن لے اُسے علمِ دین حاصل کرنے کا شوق عطا فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


علم کے بغیر نہ عبادت کی حقیقت سمجھ آتی ہے، نہ زندگی کا مقصد معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی انسانیت کا سلیقہ،  علم انسان کو عاجزی، اخلاق، برداشت اور عمل سکھاتا ہے۔ یہ غرور نہیں پیدا کرتا بلکہ اپنی حقیقت کا شعور دیتا ہے۔

عاشقان رسول کو علم دین سے فیض یاب کرنے اور ان کی اخلاقی و معاشرتی تربیت کرنے کے لئے15 نومبر 2025ء کی شب دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقادکیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے میں شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول

سوال: سوشل میڈیاپر ایک پوسٹ تھی کہ :’’ الفاظ‘‘ کیاکرسکتے ہیں ؟جواب آیا:مائل،قائل اور گھائل،آپ کیافرماتے ہیں ؟

جواب: لفظ بہت کچھ کر سکتے ہیں ،کسی کو دعائیں دوتو مائل ہو گا، بُرا بھلا بولا تو گھائل ہو گا اور کسی سوال و اعتراض کا جواب نرمی و حکمتِ عملی کے ساتھ دیا تو قائل ہو گا۔ کفر سے توبہ کرتے ہوئے کلمے کے الفاظ دل کی تصدیق کے ساتھ پڑھے تو مسلمان ہوا۔ 3 طلاق کے الفاظ کہے توطلاق واقع ہو جائے گی ،الفاظ کا بہت حساب کتاب ہے ۔میٹھا بولنے والے کا زہر بھی بِک جاتا ہے جبکہ کڑوا بولنے کا شہد بھی نہیں بِکتا۔ جس طرح پھل خریدتے ہوئے میٹھے پھل کا انتخاب کرتے ہیں ،اسی طرح بولتے ہوئے میٹھے بول کا انتخاب کرنا چاہئے ۔جس طرح چھوٹے سوراخ بند کمرے میں سورج نکلنے کا پتا دیتے ہیں، اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتیں انسان کا کردار نمایاں کر دیتی ہیں ۔بے شک الفاظ کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے بعض اوقات لہجے کا اثر بھی بہت ہوتا ہے ۔کہا جاتا ہے میٹھا بولو تاکہ واپس لینا پڑے تو کڑوا نہ لگے۔ قرآن پاک میں لوگوں سے اچھی باتیں کرنے کا حکم دیاگیا ہے ۔

سوال: مکتبہ المدینہ کی کتاب ’’ گفتگو کے آداب‘‘ کا گھر درس شروع کر دیا جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: کتاب ’’گفتگو کے آداب ،فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت‘‘ کا گھر درس شروع کر دیا جائے تو گھرکا ماحول اچھا ہو جائے گا، گھرا من کا گہوارہ بن جائے گا، جھگڑے دم توڑ جائیں گے مگر شیطان کرنے نہیں دے گا۔ آپ شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے لاحول شریف(لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ) پڑھتے ہوئے اس کا درس شروع کر دیں، اس کے مثبت(Positive) نتائج خود دیکھیں گے ۔ان شآء اللہ الکریم

سوال : سبق یاد کرنے کا کون سا وقت سب سے بہتر ہے ؟

جواب : رات کے ابتدائی حصے اور آخری حصے(وقتِ سحر) میں سبق یاد کرنا مفید ہے ۔یہ وقت نہایت بابرکت ہوتا ہے ۔بعض علمائے کرام نے فرمایا کہ جو طالب علم مغرب اور عشا کے درمیان اور فجر کے وقت مطالعہ و تکرار میں محنت کرے پھر بھی عالم نہ بنے تو تعجب ہے۔ جو اِن اوقات میں محنت نہ کرے پھر بھی عالم بن جائے تو یہ بھی باعثِ حیرت ہے ۔یہی وہ وقت ہے جس میں دل سکون پاتا ہے، خیالات ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، ذہن علم کے نور کو قبول کرتا ہے ۔جو طالب علم ان اوقات کی قدر کرے وہ اپنے علم کی بنیاد مضبوط کرتا ہے ۔

سوال: حُبِّ جاہ کیا ہے اور اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں ؟

جواب: حُب کا معنی محبت اور جاہ کا معنی عزت ،شہرت ،تعریف ہے یعنی لوگ میری عزت کریں ،لوگوں میں شہرت حاصل کروں، میری تعریف ہو، اسے حُبِّ جاہ کہتے ہیں، یہ خطرناک ہے۔ یہ دین میں تباہی مچانے والاکام ہے ،اس سے وہی بچے گا جسے اللہ پاک بچائے ۔ بہت بڑی تعداد اس میں مبتلا ہوتی ہے مگر انہیں پتا ہی نہیں ہوتا۔

سوال: مدینہ شریف جاتے اورآتے ہوئے رونا کیساجبکہ پیارے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم سراپا رحمت ہیں ؟

جواب: یہ رونا گریۂ رحمت اور گریۂ محبت ہیں ۔محبت جب بہت بڑھ جائے تو عشق میں ڈھل جاتی ہے ،اس میں آنسو آتے ہیں ۔محبت جب بڑھتی ہے تو اس میں درد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دِین ایمان بہت کچھ وابستہ ہے ،انہی کی شفاعت قبول ہونی ہے ،ہم ان کی شفاعت ،اللہ پاک کے کرم و رحمت سے بخشے جائیں گے ،ان کی نگاہِ رحمت نہ ملی تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے ۔ان کے شہر اور دربار میں جائیں تو رونا نہ آئے تو اس بات پر روئیں کہ رونا کیوں نہیں آیا۔ یہ قلبی کیفیات ہیں جو آنکھوں سے ظاہر ہوتی ہیں ۔اگر آنکھوں سے ظاہر نہ ہوں تو دل روتا ہے ،یہ رونا سعادت مندی ہے ۔

سوال: کسی کے دل میں خوشی داخل کرنا کیسا ہے ؟

جواب: میں عام طور پر کہتا ہوں کہ اگر کسی کو راحت نہیں پہنچا سکتے تو تکلیف بھی نہ دو۔ مؤمن کے دل میں خوشی داخل کرنی چاہئے، حدیث پاک میں ہے کہ فرائض کے بعد افضل عمل کسی کے دل میں خوشی داخل کرنا ہے۔ مسلمان کا دل خوش کرنا بلکہ جانور کے دل میں خوشی داخل کرنا بھی ثواب کا کام ہے مثلاً کبوتروں کو دانے ڈالیں گے تو وہ دعا دیں گے ،جانور دعائیں بھی دیتے ہیں اور بددعائیں بھی دیتے ہیں۔ مظلوم کافر اور مظلوم جانور کی بھی بددعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ظلم کسی پر بھی کرنے کی اجازت نہیں،یہ قیامت کا اندھیرا ہے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” جنت کی بہاریں“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت مولانا الیاس قادِری دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 21 صفحات کا رسالہ جنت کی بہاریں“ پڑھ یا سُن لے، اُس کو اپنی رحمت سے ماں باپ اور خاندان سمیت جنتُ الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اپنی اصلاح کرنے اور شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ علمِ دین کی مجلس میں بیٹھنا ہے جہاں لوگوں کی دینی و اخلاقی تربیت کی جاتی ہے۔

اسی سلسلے میں 08 نومبر 2025ء بمطابق 17 جمادی الاولیٰ 1447ھ کو بعد نمازِ عشا دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تلاوت و نعت سے شروع ہونے والے اس ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول

سوال: ایک پوسٹ پر لکھا تھا کہ مخلص انسان کی کڑواہٹ برداشت کرلیا کرو ورنہ منافق انسان کی مٹھاس آپ کی زندگی تباہ کردے گی۔ اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ؟

جواب: بات درست ہے ، مخلص انسان کی بات کڑوی لگے بھی تو اسے مان لیا کرو کہ اس میں فائدہ ہو گا۔ کوئی منافق آدمی کبھی بڑا میٹھا بنتا ہے اور میٹھا بن کر دھوکا دے دیتا ہے ،نقصان پہنچا دیتا ہے ،ایسوں سے بچنا چاہئے ۔

سوال : امتحان وغیرہ میں گھبراہٹ سے کیسے بچاجائے ؟

جواب: یہ اپنی قوتِ برداشت پر ہوتا ہے بعض لوگ امتحان کی تیاری کرتے بھی ہیں مگر نفسیاتی طور پر ان پر دباؤ ہوتا کہ میری تیاری نہیں۔ انہیں ٹینشن ہو جاتی ہے نیند نہیں آتی ۔ایسوں کو چاہئے کہ وہ نیند پوری کریں اور اپنے آپ کو سمجھائیں کہ کوئی مسئلہ نہیں ، کمرہ ٔ امتحان میں با اعتماد ہو کر جائیں اور جوابات لکھیں ،اس طرح اپنے طور پر اس کا علاج کریں تو فائدہ ہو گا۔

سوال : دنیا کے امتحان کی گھبراہٹ میں کیا آخرت کے امتحان کی یاد بھی ہے ؟

جواب : جی ہاں!!! اس میں آخرت کے امتحان کی یاد ہے کہ قبر اور قیامت کے امتحان میں میرے ساتھ کیا ہو گا ، اگریہ سوچ بن جائے تو نہ جانے ہم کہاں سے کہاں نکل جائیں، مگر افسوس !آخر ت کے امتحان کی تیاری کی سوچ نہیں بنتی ۔کاش !آخرت کے امتحان کی فکر نصیب ہو جائے ۔

سوال: کیا سوشل میڈیا سے دیکھ کر اوراد و وظائف کئے جا سکتے ہیں ؟

جواب: کسی صاحبِ اجازت سے اجازت لے کر اوراد و وظائف کئے جائیں ،بعض اوقات اس میں نقصان کا بھی اندیشہ ہوتا ہے ،جیسے عام طور پر حصار نہیں کرتے ،وظائف میں زکوۃ کی اصطلاح ہے اسے بھی ادا کرنا ہوتا ہے ،عمل کرنے والے اس کی احتیاطیں نہیں کرتے ،پاکی نا پاکی کے مسائل ،مخارج درست ہونا ضروری ہیں ورنہ فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے ۔

سوال: اگر کسی کو نظرلگی تو کیا اُس کو دَم کرسکتے ہیں ؟

جواب: نہیں ،صاحبِ اجازت ہی دم کرے ، حاسد کی نظر سب سے سخت سمجھی جاتی ہے ،اگر اسے دم کیا جائے تو وہ نظر پلٹتی ہے ،کبھی دم کرنے والے کو اور کبھی دم کے لیے لانے والے پر نظر لگ سکتی ہے ۔اس لیے جب تک آپ دم کر نے کے اہل نہ ہو جائیں اس وقت تک دم نہ کریں۔ اگرچہ مذہبی حُلیے والے کا اس سے بچنا مشکل ہے ۔عامل نہ بنیں بلکہ مبلغ بنیں اس میں اُمّت کا زیادہ فائدہ ہے ۔نیک بنیں ،نیکی کی دعوت دیں ،بُرائی سے بچیں اور بچائیں ۔

سوال: کیا کوئی وظیفہ بھی نہیں کر سکتے ؟

جواب: جو اوراد و وظائف احادیثِ مبارکہ میں آئے ہیں ،اگرمخارج درست ہیں تو پڑھ سکتے ہیں، اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، اس کی کسی سے اجازت بھی لینے کی حاجت نہیں ۔

سوال : نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجدِ قبا(مدینہ شریف) کس دن تشریف لے جاتے تھے؟ ۔

جواب : ہفتہ کے دن تشریف لے جاتے ،کبھی پیدل اور کبھی سواری پر ۔(بخاری شریف ،حدیث:1193)

سوال: کون سی میقات مکہ مکرمہ سے سب سےزیادہ دُور ہے ؟

جواب: ذُوالحلیفہ ،اس کا دوسرا نام ابیارِ علی ہے ۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” تفسیر نورُ العرفان سے 85 مدنی پھول(قسط 08) پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ تفسیر نورُ العرفان سے 85 مدنی پھول(قسط 08) پڑھ یا سُن لے، اُس کا دل نورِ قرآن سے روشن فرما اور اس کو ماں باپ سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم


یکم نومبر 2025ء بمطابق09 جماد الاولیٰ 1447ھ کو بعد نمازِ عشا دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کرچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تلاوت و نعت سے شروع ہونے والے اس مدنی مذاکرے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے میں ہونے والے بعض سوال و جواب

سوال:سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ "پیٹ میں گیا زہر ایک جان لیتا ہے، مگر کان میں گیا زہر کئی رشتوں کی جان لیتا ہے۔"آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب: اگر کسی نے کسی کو زہر کھلا دیا، یا پیٹ میں کوئی زہر چلا گیا تو ایک جان جا سکتی ہے بشرط یہ کہ وہ زہر اصلی ہو اور اس کا اثر ہو۔ لیکن کان کا زہر یعنی چغلی، غیبت، یا کسی کے خلاف کان بھرنا کئی رشتوں کی جان لے لیتا ہے۔ اس سے لوگوں میں فساد پیدا ہوتا ہے، دلوں میں نفرت آتی ہے، رشتے ٹُوٹ جاتے ہیں اور گناہوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ ظاہری زہر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

سوال:کسی کی بُرائی سننا کیسا ؟

جواب:اگر کوئی کسی کے سامنے کسی کی بُرائی بیان کرنے لگے تو سننے والے کو فوراً روک دینا چاہئے۔کسی کی بُرائی سننی ہی نہیں چاہئے۔ اگر کسی طرح کان میں وہ بات پڑ ہی جائے تو جب تک شرعی ثبوت نہ ہو، اس پر اعتبار نہ کیا جائے۔بعض لوگ صرف سُنی سنائی باتوں پر ہنگامہ برپا کر دیتے ہیں۔اول تو ایسی گفتگو کرنی ہی نہیں چاہئے اور اگر کسی کی بُرائی کان میں چلی گئی ہو تو اسے آگے نہیں بڑھانا چاہئے، نہ دل میں اتارنا چاہئے۔اگر ہم حُسنِ ظن (اچھا گمان) کا جام پئیں اور مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی سے بچیں، تو ان شآء اللہ الکریم اس میں بڑا فائدہ ہے۔کسی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا اور اچھی سوچ اپنانا بھی ایک عبادت ہے۔ہمارے معاشرے سے اگر غیبت اور چغلی ختم ہو جائیں تو یہ معاشرہ بہترین اسلامی معاشرہ بن جائے۔غیبت ہی سے گھر تباہ ہوتے ہیں، کاروبار برباد ہوتے ہیں اور ہمسایوں میں جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔

سوال:آپ کے گھر کا نام کیا ہے؟

جواب:میرے گھر کا نام بیتِ رمضان ہے۔

سوال:آلو کی چپس کھانے کے کیا فوائد اور کیا نقصانات ہیں؟

جواب:چپس تیل میں تل کر بنائے جاتے ہیں۔ جب تیل کو بہت زیادہ گرم (کڑکڑایا) دیا جاتا ہے تو اس میں فری ریڈیکل بنتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور بالآخر کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔چپس میں نمک ڈالا جاتا ہے۔ نمک انسانی صحت کے لیے ضروری ہے مگر اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہے، کیونکہ گُردوں کو زائد نمک خارج کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، جس سے گُردے متأثر ہوتے ہیں۔آلو بذاتِ خود ایک سبزی ہے اس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔آلو وزن بڑھاتا ہے اور شُوگر کے مریضوں کے لیے مناسب نہیں۔جو سبزیاں زمین کے اندر اُگتی ہیں وہ اکثر بادی ہوتی ہیں، اس لیے بعض لوگوں کو منع کی جاتی ہیں۔چپس میں مسالوں کا زیادہ استعمال معدے کو خراب کرتا ہے۔بعض لوگ تیکھا کھانا پسند کرتے ہیں اور زیادہ مرچ کھانے کو بہادری سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ معدے کے السر (زخم) کا سبب بنتا ہے۔السر کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ناسور (کینسر) بن سکتا ہے۔بازاری چیزوں میں صفائی کا خیال کم رکھا جاتا ہے اور سستا و ناقص میٹریل استعمال ہوتا ہے، اس لیے ان چیزوں کے استعمال سے حتی الامکان بچنا ہی چاہئے۔

سوال:مدنی چینل پر مکے مدینے کی محبت میں رونا، جدائی پر غم کرنا اور تڑپنا نظر آتا ہے۔ یہ غم کیوں پیدا ہوتا ہے؟

جواب:جس سے جتنی محبت زیادہ ہو، جُدا ہوتے وقت اتنا ہی رونا آتا ہے۔جیسے کوئی شخص روزگار کے لیے دو سال بیرونِ ملک جا رہا ہو تو اس کے اہلِ خانہ روتے ہوئے رخصت کرتے ہیں۔ یہ جُدائی کا رونا ہے۔اور جب وہ واپس آتا ہے تو ملاقات کے وقت خوشی کے آنسو بہتے ہیں، یہ وصال کا رونا ہے۔اسی طرح مکہ مکرمہ سے جُدائی پر رونا اس لیے ہے کہ مسلمان مکہ پاک سے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہاں بیتُ اللہ (کعبہ شریف) ہے، جہاں اللہ پاک کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔یہ وہ مقدس شہر ہے جہاں ہمارے آقا محمدِ عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت ہوئی اور آپ نے ظاہری زندگی کے 53 سال وہیں گزارے۔یہاں غارِ حرا ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم عبادت کیا کرتے تھے اور پہلی وحی نازل ہوئی۔یہاں غارِ ثور ہے جہاں ہجرت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قیام فرمایا۔ اسی طرح مدینہ منورہ وہ شہر ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سکونت اختیار فرمائی اور جہاں آپ کا جسمِ اطہر آرام فرما ہے۔یہ جگہ کعبہ، عرش، کُرسی، جنت اور بیتُ الْمَعْمُور سے بھی افضل ہے۔یوں مکہ و مدینہ دونوں شہر اپنی جگہ رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور ہیں۔ان کی حاضری ہر کسی کے بس میں نہیں۔ بُلانا بھی اللہ کا کام ہے اور اخراجات کا انتظام بھی۔ہر باذوق مسلمان کی تمنا ہوتی ہے کہ کم از کم زندگی میں ایک بار وہاں حاضری نصیب ہو۔مدینہ نہ دیکھا تو کچھ نہ دیکھا۔جب زیارت کے بعد واپس آنا پڑتا ہے تو دل میں غم ہوتا ہے اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔اگر کسی کو مدینے کی جدائی کا غم نہیں تو اسے اس پر غم کرنا چاہئے کہ اسے یہ غم کیوں نہیں۔بزرگانِ دین کی صحبت اور نیک ماحول سے یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ذکرِ مدینہ کے ساتھ سوز و گداز بھی ہونا چاہئے۔دنیا کے غم دور ہونے کی دعا کی جاتی ہے، مگر مدینے کے غم کے لیے بندہ دعا کرتا ہے کہ یہ غم بڑھتا رہے۔یہ وہ غم ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کے غم مٹا دیتا ہے۔یہی غم جنت میں لے جانے والا ہے۔اللہ پاک ہم سب کو مکہ و مدینہ کا غم اور غمِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم عطا فرمائے۔

سوال:کمر نہ جھکے، اس کے لیے کیا تدبیر ہے؟

جواب:بعض اوقات بیماری، کمزوری یا عمر کے بڑھنے سے کمر جھک جاتی ہے۔بہرحال، چاہے بوڑھا ہو یا جوان، کوشش کرے کہ جھک کر نہ چلے۔میں جوانوں کو بھی سمجھاتا ہوں کہ قدرے جھک کر نہ چلیں، کیونکہ ایک بار جسم جھک گیا تو سیدھا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ایک پاؤں پر وزن دے کر نہ چلیں، سیڑھی پر دونوں پاؤں سے چڑھیں۔اگر تکلیف بھی ہو تو دونوں پاؤں پر وزن برابر رکھ کر چلیں۔تکریم والے کام سیدھے ہاتھ سے کرنے چاہئیں مگر الٹے ہاتھ کو بھی کچھ نہ کچھ کام میں لاتے رہیں تاکہ وہ فعال (ایکٹو) رہے۔الٹے ہاتھ کی حرکت دل کی شریانوں کو ورزش دیتی ہے جس سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔اسی طرح دونوں ہاتھوں کو حرکت میں رکھیں۔عمر رسیدہ افراد ہلکی پھلکی ورزش کرتے رہیں، کچھ نہ کچھ اُٹھاتے رہیں، پیدل چلنے کی عادت رکھیں۔روزانہ کم از کم پون گھنٹہ(45منٹ) یا ایک گھنٹہ صبح و شام پیدل چلیں، ورنہ آدھا گھنٹہ(30منٹ) ہی سہی۔کمر پر ہاتھ رکھ کر چلنے سے بھی فائدہ ہوتا ہے مگر ہاتھ ہلاتے رہیں تاکہ پورا جسم متحرک رہے۔ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا نقصان دہ ہے۔اگرچہ جی چاہتا ہے کہ آرام سے لیٹے رہیں مگر اس کی عادت نہ ڈالیں، ورنہ وقت اور صحت دونوں ضائع ہوں گے۔لمبے عرصے تک بستر پر رہنے سے بدن پر زخم بن جاتے ہیں جو تکلیف دہ ہوتے ہیں اور دماغ پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ہم لوگ لمبی عمر تو مانگتے ہیں مگر عافیت نہیں مانگتے۔بڑھاپا بھی ایک آزمائش ہے۔ اگر اس عمر میں زبان غلط استعمال کرنے کی عادت بن جائے تو آزمائش بڑھ جاتی ہے۔بوڑھوں کو خاموشی کی عادت بنانی چاہئے، ضرورت کے وقت بولیں، ورنہ مسکراہتے رہیں۔جوانوں کی خوشیوں میں شامل رہیں، بلاوجہ روک ٹوک نہ کریں تو ان کے دلوں میں محبوب رہیں گے۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” بے حساب مغفرت کے اعمال (قسط :1) پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یااللہ پاک!جوکوئی 17 صفحات کا رسالہ ” بے حساب مغفرت کے اعمال (قسط :1) پڑھ یا سُن لے، اُسے ایسے اعمال کی توفیق دے کہ ایمان پر فوت ہو اور ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت سے نوازا جائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم ۔