معاشرے کے لوگوں کی اصلاح کرنے اور انہیں احکامِ
شریعہ سے آگاہ کرنے کے لئے 11 اپریل 2026ء بمطابق 23 شوال المکرم 1447ھ کو دعوتِ
اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا
اہتمام کیا گیا۔
ابتداءً تلاوتِ قرآن کی گئی اور نعت خواں اسلامی
بھائیوں نے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ
میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت،
بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےحاضرین و مدنی
چینل کے ناظرین کو مدنی پھولوں سے نوازا
اور اُن کے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔
بعض سوال و جواب
سوال: بچوں کودِین سکھانے کا ماں باپ کوکیادنیاوی فائدہ ہوگا ؟
جواب:ماں باپ اپنے بچوں کو دِین سکھائیں گے تودِینی تعلیم انہیں
ماں باپ کی قدر سکھائے گی،اِنہیں صِلۂ رحمی(یعنی رشتے داروں
کےساتھ حُسنِ سلوک)سےآگاہ کرے گی ۔ والدین کو چاہیئے کہ بچوں کودِین سکھانے میں
دنیاوی تعلیم پر فوقیت دیں ۔
سوال:کیا دِینی منصب کی پذیرائی ہے ؟
جواب: جی ہاں ،دِینی منصب کی پذیرائی ہے ،اگرکسی نے دِین کا کام کیا ہو،کوئی منصب پایا
ہوجیسے امام مسجدکی قدرلوگوں کے دل میں ہوتی ہے ،لوگ ہاتھ چُومتے ہیں ۔
سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا:” لوگ 4 دن سگریٹ پی کر کہتے
ہیں عادت ہو گئی ہے، موبائل استعمال کر کے کہتے ہیں عادت ہو گئی ہے،کاش ! رمضان کا
پورا مہینا نمازپڑھ کر بھی کوئی کہے کہ
مجھے نماز کی عادت ہو گئی ہے“اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:سگریٹ وغیرہ بُری عادات میں نفس کی مددکرتاہے،بندہ اس میں مبتلارہتاہے، نمازپڑھنےمیں نفس وشیطان
مددنہیں کرتے ۔البتہ کئی لوگ ماہِ رمضان کی برکت سے سارارمضان نمازپڑھتے ہیں، ماہِ
رمضان بغیروعظ کے ایسانورپھیلاتا ہے
کہ لوگ نیکیوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔رمضان شریف میں لوگوں
پربھرپورانفرادی کوشش کی جائے(یعنی ایک ایک کونیکی کی دعوت دی
جائے) تو کئی نمازی رمضان کے بعد بھی نماز پر استقامت پائیں گے۔اس لئے ماہِ رمضان میں نئے نمازیوں پرانفرادی کوشش کرنی چاہیئے ۔
سوال:کیا تحریم نام رکھ سکتے ہیں ؟
جواب:جی!تحریم کے کئی معنیٰ ہیں ،عزت کرنا ،حُرمت کرناوغیرہ۔
سوال : ظاہری اصلاح
اورباطنی اصلاح میں سے کس کوفوقیت دینی چاہیئے ؟
جواب: ظاہری اورباطنی
اصلاح دونوں ضروری ہیں ۔دونوں کی اصلاح
ساتھ ساتھ کرنی چاہیئے ۔
سوال : نیکی کی
دعوت کب دینی چاہیئے ؟
جواب: نیکی کی دعوت دینازندگی
کے ساتھ متصل (یعنی ہماری زندگی میں شامل)
ہے۔جب جیسے ہی موقع ملے فوراً نیکی کی
دعوت دینی چاہیئے ۔
سوال : ملازمین کے
ساتھ کیساسلوک کیاجائے ؟
جواب: ملازمین
اورماتحتوں کو عزت دی جائے ،ان کے ساتھ
اچھاسلوک کیا جائے ،ان کا احساس کیا جائے تو ان کا دل خوش ہوگا،آپس میں محبت بڑھے گی ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ محتاط گفتگو کیجئے ‘‘ پڑھنے
یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ” محتاط گفتگو کیجئے
“پڑھ یا سن لے،اُسے ہمیشہ محتاط گفتگو اوراعمال میں احتیاطیں کرنا نصیب
فرمااور جنت الفردوس میں ماں باپ سمیت بے حساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں امیرِ اہلِ سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ عاشقان ِ
رسول کے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں۔
اسی سلسلے میں 4 اپریل 2026ء بمطابق 16 شوال
المکرم 1447ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام
کیا گیا جس کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے کیا گیا۔
تلاوت و نعت کے بعد براہِ راست اور بذریعہ مدنی
چینل سوالات کا سلسلہ ہوا جس میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ
اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے جوابات دیئے۔
بعض سوال و جواب:
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”دوست ایسا ہونا چاہیئے جو آپ
کے سامنے اللہ پاک کا ذکر کرے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں آپ کا ذکر کرے“ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:بہت پیاری بات ہے ،ایسے کی صحبت اختیار کی جائے جو نیک ہو، جسے دیکھ کر خدا یاد آئے اور وہ آپ کے لئے اللہ
پاک سے دعا کرے ۔
سوال: جب بندہ گفتگو
کرتا ہے تو اس کا نیک ہونا ظاہر ہو جاتا ہے ،کیا یہ درست ہے ؟
جواب:یہ درست بھی ہے اور نہیں بھی ۔بعض لوگ نیک ہوتے ہیں اور ان کی گفتگو سے ان کا نیک ہونا ظاہر ہوتا ہے اور بعض گفتار کے غازی ہوتے ہیں(یعنی باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن
عمل کچھ بھی نہیں ہوتا) ،کوئی تصوف
کی کتاب پڑھ لیتے ہیں اور نیکوں والی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ،مگر وہ نیک ہوتے نہیں ،ایسوں کی تو گلی میں بھی نہیں
جانا چاہیئے (یعنی ایسوں
کی صحبت سے بچنا چاہئے)۔
سوال:بچے کو بچپن میں کیا سکھایا جائے ؟
جواب:فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم :اِفْتَحُوْا عَلٰی صِبْیَانِکُمْ اَوَّلَ کَلِمَةٍ بِـلَآ
اِلٰہَ اِلَّااللہُ یعنی اپنے بچوں
کو پہلی بات لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ سکھاؤ ۔ (شعب الایمان:8649) آپ کا بچہ جب بولنے لگے تو سب سے پہلے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ بولے ۔اس کے لئے اس کے سامنے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ پڑھتے رہیں ،پہلے مائیں لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کی لوری دیتی تھیں
،اَب پنگھوڑے(جُھولے) میں میوزک لگا دیتے ہیں ،ایسا نہ کیا جائے بلکہ
بچے کے سامنے کلمہ شریف(لآ اِلٰہَ اِلاَّاللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ) پڑھتے رہیں۔ اس کے علاوہ
آپ سب بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتے رہیں۔میں بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتا رہتا ہوں تاکہ مرتے وقت بھی میرا آخری کلام کلمہ شریف ہو۔
سوال:پہلے دعا میں دل لگتا تھا،خشوع و خضوع نصیب ہوتا تھا ،اب ایسا نہیں،کیا
کروں ؟
جواب:ایسے شخص کو چاہیئے کہ وہ گناہوں سے سچی توبہ کرے اوردُعا میں رونے کی کوشش کرے کہ
نیک لوگوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔یادرکھئے!جو گناہوں میں مصروف رہتا ہے اسے
عبادت میں لذت نصیب نہیں ہوتی ۔
سوال:شوال شریف کی کیا
خصوصیات ہیں ؟
جواب:اس مہینے کا
پہلا دن عیدالفطر ہے جو بہت بابرکت ہے ،اس
میں عید کی نماز پڑھی جاتی ہے اور مسلمانوں کی عام مغفرت ہوتی ہے۔حدیثِ پاک کی
مشہور کتاب صحیح بخاری کے مصنف امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا
یوم عرس بھی اسی دن(یعنی پہلی شوال کو ) ہے ۔
٭شوال میں 6 روزے(شش عید) رکھے
جاتے ہیں ،حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے راوی ، کہ رسول اﷲ صلی
اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے
رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد6 دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا،
جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے“۔( المعجم الاوسط، ج6، ص234، باب المیم، الحدیث: 8622)
٭ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عیدالفطر کے بعد6روزے رکھ
لئے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے 10ملیں گی تو
ماہِ رمضان کا روزہ 10مہینے کے برابر ہے اور ان 6دنوں کے بدلے میں 2 مہینے تو پورے
سال کے روزے ہوگئے“۔ (السنن
الکبری للنسائی، کتاب الصیام، باب صیام ستۃ ایام من شوال، ج2، ص162۔163، الحدیث:
2860 ۔ 2861)
٭شوال میں اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی یعنی یہ رسولِ
کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر آئیں۔15 شوال کو سَیِّدُالشَّہَدَاء(شہیدوں کے سردار) حضرت امیر
حمزہ رضی اللہ عنہ
اوردیگرشہدائے اُحد کا یوم عرس ہے ۔
سوال:علمِ نافع سے کیا مراد ہے؟اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
جواب:علم نافع کا مطلب ہے: نفع دینے والا علم ۔بعض دنیاوی علم بھی نفع دیتے ہیں مگر تمام
دینی علوم نفع دینے والے ہوتے ہیں، اس کی ایک تعریف یہ ہے کہ علمِ نافع وہ ہوتا ہے جو دل میں اثر کرے اور دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت پیدا کرے، جب دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت ٹھہر جائے تو بندہ نیک اعمال کی طرف رغبت کر لیتا ہے ۔
سوال:عالمِ دین کی کیا شان ہے؟
جواب:عالمِ دین کی بڑی شان ہے،اس کے لئے سمندر میں مچھلیاں
اورزمین میں چیونٹیاں دُعا کرتی ہیں ،جب وہ علمِ دین حاصل کرنے کے لئے چلتا
ہے تو فرشتے اس کے لئے پر بچھاتے ہیں ،عالمِ دِین کو دیکھنا عبادت ہے ۔ہر گھر میں
کم از کم ایک عالم اور ایک عالمہ ہونے چاہئیں ،یہ والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوں گے
اور آخرت میں جنت میں داخلے کا سبب بنیں
گے ،ان شآء اللہ الکریم۔دیگر اسلامی بھائی بھی عالم بنیں ،نہیں بن سکتے تو جتنوں کو ہو سکے جامعۃ المدینہ
میں داخلہ دلوائیں ،اگر ہو سکے تو مجلس جامعۃ المدینہ سے مشورہ کر کے کسی طالب علم کا خرچہ اٹھا لیں ۔ہراسلامی بھائی کم از کم ایک
اسلامی بھائی کو جامعۃ المدینہ میں ضرور
داخل کروائیں اور فالواپ کریں ۔پوچھتے رہیں ،توجہ رکھیں تاکہ وہ چھٹیاں نہ کرے ۔آج
دورہ حدیث والے بھی جمع ہیں ،آپ سب بھی کوشش کریں ۔ اسلامی بہنیں اپنے محارم اور دیگر اسلامی بہنوں
کوتیار کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل
کروائیں ۔علمِ دین عام ہو گیا تو معاشرے کی اصلاح ہو گی اور نیکیوں کا دور دورہ ہو
جائے گا ۔
حدیثِ
پاک میں ہے:اِنَّ
الدَّالَ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ
یعنی بے شک نیکی کی راہ دکھانے والا، نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔( ترمذی ،4 /308، حدیث:2679)مشہور مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: یعنی نیکی کرنے والا، کرانے والا، بتانے والا اور مشورہ دینے والا، سب
ثواب کے حقدار ہیں۔(مرآۃالمناجیح،۱ /۱۹۴بتغیر قلیل)سب مل کر زور لگائیں
اور اس سال دُنیا بھرکے جامعۃ المدینہ(بوائز،گرلز) میں 21ہزارطلبہ و طالبات کو داخل
کروائیں ۔ مدرسۃ المدینہ میں اس مرتبہ جتنے حافظ بنے ہیں ان سب پرقاری صاحبان اور
اسلامی بھائی انفرادی کوشش کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔قاری صاحبان خود
بھی عالم بنیں اور حفاظ کو بھی اس کے لیے تیار کریں ۔ حافظِ قرآن اچھا عالمِ دِین بنتا ہے ۔
سوال:معاشرے میں دوسروں کا احساس کم ہے، لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:جہاں قانون پر عمل ہوتا ہے وہاں لوگ ایسے کام نہیں کرتے
جس سے دوسروں کوتکلیف ہو، البتہ قانون خاموش بھی ہو تو دینی تعلیمات موجود ہیں
کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے کہ کسی کو تکلیف ہو ۔حدیث پاک میں ہے: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو
گے۔( بخاری، 2 / 150، حدیث: 2518)ایک اور حدیث پاک میں ہے :مسلمان وہ ہے جس کی
زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ( مسند امام احمد ، 2 / 654، حدیث: 6942 )کسی کو شر نہ پہچانا جنت میں لے جانے والا عمل
ہے ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” نیک اعمال پراستقامت پانے کے طریقے“
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
جواب:یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال
پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لے، اُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں
باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
28 مارچ 2026ء بمطابق 9 شوال 1447ھ کی شب
معمول کے مطابق دعوتِ اسلامی کے عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں کراچی
کے مقامی عاشقانِ رسول نے براہِ راست جبکہ بیرونِ شہر اور
بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔
تلاوتِ قرآن اور نعت شریف سے مدنی مذاکرے کا آغاز کرنے کے بعد عاشقانِ رسول کی جانب سے
سوالات کئے گئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی
حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔
بعض سوال و جواب
سوال: بچوں کو گلی محلے میں کھیلنے کے لئے بھیجنے کے
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:گلی محلے کا ماحول عموماً ٹھیک نہیں ہوتا، اس میں
تربیت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ گھر میں کھیلنے کا سامان ہونا چاہیئے تاکہ اسے حسرت نہ
ہو۔ بچوں کو کھیلنے سے منع نہ کیا جائے کہ طبی طور پر اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ اسی صور ت میں ہو سکے گا کہ شروع سے ہی اسے
گھر میں رکھا جائے اور گھر کا ماحول بھی اچھا ہو۔ بچپن سے ایسی عادت ڈالیں گے تو ویسا ہی ہو گا۔ گھر میں بھی حتی الامکان موبائل سے دُوررکھیں
۔مگر شاید ہی کوئی گھر اس سے بچا ہو۔ موبائل نے بچوں بلکہ بڑوں کو بھی تباہی کے
دھانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔”بہر
حال بُری صحبت بُرا پھل لاتی ہے، اس سے بچانا ضروری ہے“ ۔
سوال:بچوں کو سمجھانے کا انداز کیسا ہونا چاہیئے؟
جواب:بچوں کوان کے انداز میں سمجھائیں گے تو یہ سمجھیں
گے، مشکل الفاظ استعمال کریں گے تو انہیں سمجھ نہیں آئے گی۔
سوال:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا
یومِ ولادت کون سا ہے؟
جواب:میرے آقااعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا
یومِ ولادت 10شوال ہے۔اس سال پیر(Monday) کو 10 شوال (30-03-2026) ہے ،اس دن
روزہ رکھ کر یومِ ولادت منایا جائے اور اس روزے کا ثواب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو
ایصال کیا جائے ۔
سوال:مسلمانوں کے دُوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سے عمرے کی اجازت مانگی تو آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے کیا فرمایا؟
جواب:نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے اجازت دیتے ہوئےفرمایا:أَشْرِكْنَايَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ لاَ تَنْسَنَااے میرے بھائی !اپنی دُعا میں ہمیں بھی شامل
رکھنا، بھُولنا نہیں ۔(سنن ترمذی
،5/559)حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس
بات کو یاد کر کے لطف اٹھاتے تھے۔
سوال:بچوں کو کھلانے پلانے میں کیا احتیاط کریں؟
جواب:بچوں کو بسکٹ ،ٹافیوں اور دیگر بازاری چیزوں سے
بچائیں،ورنہ یہ بیمار اور کمزور ہو جائیں گے۔گھر میں بھی کھانے پینے میں احتیاط
کرنی چاہیئے ،بلغمی مزاج ہو تو چاول بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں اور نزلہ زکام
ہوجائے گا۔جو کہتے ہیں کہ مجھے دائمی نزلہ ہے وہ بھی چاول کھانا چھوڑ دیں تو نتیجہ خود دیکھ لیں گے ۔
سوال:دعوتِ اسلامی ’’ماہِ اپریل2026ءماہِ اجتماع
‘‘کے طور پر منا رہی ہے، اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:دعوت اسلامی کا ہفتہ واراجتماع بڑی کوششوں سے
شروع ہوا، آپ ہر جمعرات کو ہونے والے ہفتہ واراجتماع میں ضرور شرکت کیا کریں ۔کوشش
کریں کہ کبھی ناغہ نہ ہو، ایک ایک پر انفرادی کوشش کر کے(یعنی
نیکی کی دعوت دےکر،پیارمحبت سے سمجھاکر، ترغیب دلاکر) ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کروائیں ۔اسلامی بہنیں بھی اس میں کوشش کریں کہ خود
بھی اسلامی بہنوں کے اجتماع میں شرکت کریں
اوراپنے محارم(شوہر،والد،بھائی،بیٹےوغیرہ) کو اسلامی بھائیوں کے ہفتہ واراجتماع میں بھیجیں۔
سوال:مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ’’مکتوباتِ
امیر اہل سُنّت‘‘ کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا؟
جواب:مکتوبات والی کتاب کئی اسلامی بھائیوں نے پڑھ لی
ہے، جس نے نہیں پڑھی وہ بھی پڑھ لیں۔(مکتوب کا معنیٰ ہے خط/Letter)
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” لمبی عمر پانے کا نسخہ “
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں معتکفین کو امیرِ اہلِ
سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے مدنی پھول
7
مارچ 2026ء بمطابق 18 رمضانُ المبارک 1447ھ کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف
شہروں سے آئے ہوئے معتکفین سمیت دیگر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ
تراویح ہوا جس میں تلاوتِ قرآنِ پاک کی
گئی اور نعت شریف پڑھی گئی جبکہ وقتِ
مناسب پر شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی آمد بھی ہوئی۔
امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے
مدنی مذاکرے میں شریک تمام لوگوں کی دینی و اخلاقی تربیت کرتے ہوئے انہیں مختلف
مدنی پھولوں سے نوازا اور اُن کی جانب سے
ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” ہمارے معاشرے میں صلح کی بیٹھک کا مقصد کمزور کو اپنا حق چھوڑنے پر
مجبور یا راضی کرنا ہوتا ہے“، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:یہ
صلح نہیں ہے ،یہ تو ظلم ہے ،صلح کروانے کی قرآنِ پاک میں پذیرائی ہے ،اس کو خیرکہاگیا
ہے ۔صلح کروانا سُنّتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی ہے۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل عمل نہ
بتاؤں؟ صحابہ ٔکرام علیہم الرضوان نے عرض کی: یا
رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ضرور بتایئے۔
ارشاد فرمایا: وہ عمل آپس میں رُوٹھنے
والوں میں صلح کرادینا ہے کیونکہ رُوٹھنے والوں میں ہونے والا فساد بھلائی کو ختم
کردیتا ہے۔ (سنن ابو داؤد، 4 / 365،حدیث: 4919)
فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:سب سے افضل صدقہ رُوٹھے ہوئے لوگوں میں صلح کرادینا
ہے۔(الترغیب و الترہیب، 3/321) صلح کروانے کی بہت
اہمیت ہے ،صلح کروانے کےہرجملے پر ایک غلام آزادکرنے کا ثواب اورمغفرت کی خوشخبری
ہے۔جوصلح کرواسکتاہو تو اُسے ضرور صلح کروانی چاہیئے ۔
سوال:صلح
کروانے والا کیسا ہونا چاہیئے؟
جواب:صلح
کروانے والے کو صلح کروانا آنا چاہیئے،خود ہی غصہ میں آجاتا ہو تو صلح کیسے کروائے
گا؟ کسی کی رُو رَعایت نہ کرے ،کسی جانب جھکاؤ نہ ہو۔ہمیشہ حق کی حمایت کرے ۔
سوال:باون(52) کا عدد کس کی یاددلاتاہے ؟
جواب:
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی
اللہ عنہ کی یاددلاتاہے ۔بوقت ِشہادت آپ کی عمرمبارک 52سال تھی ۔
سوال:
ادب کی کیااہمیت ہے؟
جواب:
ادب کابول بالاہے، بے ادبی کا منہ کالاہے ۔قول ہے: وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا أَدَبَ
لَهُ یعنی جو باادب نہیں اس کا کوئی
دِین نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، 28/ 158)ہم ادب کرنے والوں (اولیائے
کرام وعلمائے کرام) کے پیچھے پیچھے
ہیں اوریہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے پیچھے ہیں،اسی طرح جنت میں داخل ہوں گے۔ان شآء اللہ الکریم
سوال : کون سے نبی علیہ السلام
مچھلی کے پیٹ میں 40 دن رہے؟
جواب: حضرت یونس
علیہ السلام ۔
سوال:
اِس ہفتے کارِسالہ’’ سکون بخش آیتیں‘‘ پڑھنے یا سُننے
والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
28 فروری کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا سلسلہ،
امیر اہلسنت نے مدنی پھول ارشاد فرمائے
عاشقانِ
رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے
کے لئے 28 فروری 2026ء بمطابق 10 رمضانُ المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس
کے بعد نعت خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
کی بارگاہ میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت
و نعت کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے
علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد فرمائے۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” زیادہ جینا
ہے تو کم کھائیں“، اس بارے میں آپ کیا فرماتے
ہیں ؟
جواب:یہ بات طبّی
طورپر دُرست ہے ،زیادہ کھانے سے جان بنتی نہیں بلکہ بگڑتی ہے ، زیادہ کھانے والے کوطرح طرح
کی بیماریاں لگ جاتی ہیں ،حدیث پاک کے مطابق پیٹ کے 3 حصے کرنے چاہئیں ، ایک حصہ
کھانے،ایک حصہ پانی اورایک حصہ سانس کے لیے مختص کیاجائے ۔فرمانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ
والہ وسلم):آدمی اپنے پیٹ
سے زیادہ بُرابرتن نہیں بھرتا،انسان کے لیے چندلقمے کافی ہیں ،جو اس کی پیٹھ
کوسیدھا رکھیں ،اگرایسانہ کرسکے تو تِہائی (3/1)کھانے کے
لیے ،تہائی پانی کے لیے اورایک تِہائی سانس کے لیے ہو۔(ابن ماجہ ،4/48،رقم، 3349 ) جوباوجودِخواہش اللہ پاک کی رضاکے لیے ایک نوالہ کم کردے تو اس
کا ایک درجہ بلند ہوجاتاہے ۔
سوال:تکبُّراورخود
پسندی میں کیا فرق ہے؟
جواب:اپنے سے دُوسرے کوگھٹیا جانناتکبرہے، خود پسندی یہ ہے کہ کسی کو کوئی نعمت
حاصل ہو تو اسے اپناکمال جانے اوراس کے زوال سے توجہ ہٹ جائے ۔دونوں بڑی آفتیں ہیں ،جس کے دل
میں ذرّہ برابرتکبُّرہوگا اسے جہنم میں
داخل کردیا جائے گا ۔یہ بہت بڑی بلاہے ، بندہ اس سے اللہ پاک کی پناہ مانگے۔ تکبرکے
بارے میں معلومات ہونا فرض علم سے ہے ،اس کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’تکبُّر‘‘کا مطالعہ کریں ۔
سوال:دوسرے کے بارےمیں رائے
قائم کرلینا کہ فلاں متکبِرہے،اس کے بارے آپ کیافرماتےہیں ؟
جواب: بغیر قرینے اوردلیل کےکسی کے متکبِرہونے کی رائے قائم کرلینا بدگمانی
ہے، اس سے بچناضروری ہے ،تکبردل کی کیفیت ہے،یہ باطنی
بیماری ہے،اسے معلوم کرنےکے لیے کوئی مشین نہیں ہے ۔اس طرح رائے قائم کرنے والا
تہمت وغیبت میں مبتلا ہوجاتاہے۔گھروں میں
بھی تہمتوں کا سلسلہ ہے ۔اسکی معافی تلافی مشکل کام ہے۔ پیارے آقا صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے زبان سےلٹکے لوگ
دیکھے ،بتایاگیا یہ گناہ کاالزام لگانے والوں کی سزاہے۔بظاہر نیک نظرآنے
والابھی اس میں مبتلاہوجاتاہے ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ لوگ فرض علوم سے ناواقف ہیں ۔
سوال:جھوٹ اورغیبت کی تعریف کیا ہے؟
جواب: سچ کا اُلٹ جھوٹ ہے اوربطورِبُرائی
کسی کا عیب اُس کی غیر موجودگی میں بیان کرنا غیبت ہے۔
سوال
: دُعاکے
وقت کیسااندازہوناچاہئے؟
جواب: دُعاکے
وقت رونا آئے تو سعادت کی بات
ہے،ورنہ رونے کی سی صورت بنائی جائے کہ اچھوں کی نقل بھی ا چھی ہوتی ہے ،دعا کے
وقت آنکھوں میں آنسوآجانااسے قبولیت کے قریب کردیتاہے ۔یہ کہاگیا ہے کہ غموں سے بھرے دل کی دعا قبول
ہوتی ہے
سوال: بزرگ یعنی بڑی عمروالے دُوسروں کو
نمازکی دعوت کیسے دیں ؟
جواب:بزرگ بھی لوگوں کو
پہلےسلام کریں ،پھر
مختصرانداز میں نمازکی دعوت دیں ، بزرگوں
اورامام صاحبان کا اپنا اثرہوتاہے۔ہم سب
نمازکی دعوت دینے والے بن جائیں تو مساجدآبادہوجائیں ۔مساجدکی ویرانی کی ایک
وجہ نمازیوں کانمازکی دعوت نہ دینا بھی ہے۔ ہرمسلمان مبلغ ہے جس کو جتنا آتاہے ،دُوسروں
کو نیکی کی دعوت دے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یااللہ پاک! جو کوئی 24 صفحات کا رسالہ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھ یا سُن لے، اُسے ماہِ رمضان کی محبت سے مشرف فرماکر خوب نیکیاں کرنے کی
توفیق عطا فرما اور اس کو والدین سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ دے کر سب سے
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کا پڑوس نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ
خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
عاشقانِ رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب
کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے 21 فروری 2026ء بمطابق 4 رمضانُ
المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی
مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس کے بعد نعت
خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ
میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت و نعت کے بعد شیخِ طریقت،
امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و
ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد
فرمائے۔
بعض سوال و جواب:
سوال: بچی کا نام فاطمۃُ الزَہرا رکھا جائے یا مجرد فاطمہ ؟
جواب: یہ نام
اچھا ہے۔ زَہراکا معنی ہے” کلی“(Bud) ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی کلی ہیں مگرحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کانام اکیلا فاطمہ ہے اورزہرااُن کالقب ہے ۔
سوال: نام کیسارکھا
جائے ؟
جواب: بچے کا نام محمد رکھا جائے،پکارنے کے لئے اہلِ بیت
،صحابۂ کرام اوربزرگوں کے نام سے کوئی بھی نام رکھا جائے ۔نام اچھا رکھنا چاہیئے جیسےمحمد ابراہیم، محمد بلال وغیرہ۔یونیک نام رکھتے ہوئے ایسا نام
نہ رکھا جائے جس کا معنیٰ ہی درست نہ ہو۔
سوال: مسجدکے
امام اورمؤذن صاحب کو سحری/افطاری دینے کے
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: مسجدکے امام اورمؤذن کو بھی سحری/افطاری بھیجنی چاہیئے
۔عام طورپر ان کی تنخواہ اورآمدن کم ہوتی ہے ،رقم بھی پیش کریں۔جمعہ کو ہرنمازی
کچھ نہ کچھ خدمت کرے تو ان کا راشن آجائے۔اسی طرح عیدین،دیگراسلامی ایونٹس(Islamic Events/جیسےشبِ
معراج، شبِ براءت،شبِ قدر وغیرہ)کے
موقع پر ان کی خدمت کریں۔یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ میرا راستہ بن جائے، ایساہرگزنہیں
، مَیں نے کئی سال امامت کی ہے مگرمسجدکا کبھی کھانا نہیں کھایا،اپنے گھر کا
کھاناکھاتاتھا۔
سوال: امام صاحب کا کسی نمازی سے کوئی سوال یا قرض مانگنے کے
بارےمیں کیا مشورہ دیں گے ؟
جواب: امام صاحب کو چاہیئے کہ لوگوں سے سوال نہ کریں ،قرض بھی
نہ لیں ،اس سے وقاراورعزت کم ہوتی ہے۔ان کا پیشہ عزت وعظمت والاہے ۔دینےوالا آہ کرکے دیتاہے اورلینے والاواہ کرکے
لیتاہے ۔
سوال: مکتبۃ المدینہ
کی شائع کردہ کتاب ’’عمامہ کے فضائل‘‘کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟
جواب: عمامہ شریف
کےفضائل پرمشتمل المدینۃ
العلمیہ کی کتاب ’’عمامہ کے
فضائل‘‘مکتبۃ المدینہ نے شائع کی ہے۔شاید اردو میں اس موضوع پر اتنی بڑی اورکتاب نہیں ہے ،اسے لیں،پڑھیں اورلائبریری کا حصہ بنائیں ۔اس سے عمامہ شریف
سے محبت میں اضافہ ہوگا۔عمامہ باندھاکریں ،اس سے جھجک ختم ہو جائے گی ، کسی نے کوئی
بات کردی تو اسے برداشت کرلیں کسی سے کوئی جھگڑانہ کریں۔
سوال: آپس کے تعلقات
کے کیا فائدے ہیں ؟
جواب: کھوٹاسِکّہ بھی
وقت پر کام آجاتاہے ،نافرمان بیٹابھی مددکردیتاہے ۔جان پہچان اورتعلقات کاکبھی نہ
کبھی فائدہ ہوتاہے۔جو ملنساراورتعلقات رکھنے والے ہوتے ہیں ،بعض اوقات جاننے والے
اس طرح کام آجاتے ہیں کہ گھر کاکوئی فرد اس طرح کام نہیں آتا۔خاندان والوں اوردیگرلوگوں
کے ساتھ تعلقات رکھنےچاہئیں ۔دس دوست ہوں تو ضروری نہیں سارے کے سارے بے وفاہوں
،ضرورت کے وقت کوئی تو مددکرے گا۔ شادی بھی کرنی چاہیئے، بال بچے ہوں گے تو گھرکی
رونق ہوگی، بیمار ہوں گے تو خدمت کریں گے۔ ہم خودملنسارہوں گےاور لوگوں کے دُکھ
دردمیں شریک ہوں گے تو لوگ بھی ہمارے دُکھ درد میں شریک ہوں گے ۔البتہ تعلقات اللہ پاک کی رضا کے لئے ہونے چاہئیں ۔اچھے لوگوں سے
تعلق بنایاجائے ،جیسے دعوت اسلامی کادِینی ماحول ہے ۔ دعوت اسلامی کا مفادہے کہ ایمان کی
حفاظت ہو،سب نمازی بن جائیں ،جنت کا حصول ہو،اس سے وابستہ ہوجائیں ۔
سوال: گھرآباد ہوں
،جھگڑے نہ ہوں ،گھر نہ ٹوٹیں کیا کریں ؟
جواب: ہمارے معاشرے میں جھگڑے اورگھرٹُوٹنے کا سلسلہ بڑھ گیاہے
۔زیادہ خرابی اس لئے ہوتی ہے کہ دونوں طرف
ضدپیداہوجاتی ہے ۔دونوں کوضدچھوڑنی چاہیئے، جس سے زیادتی ہوئی ہو اسے چاہیئے کہ دوسرے سےمعافی مانگ لے، معافی مانگنے سے لوگوں کے دلوں میں محبت پیداہوتی
ہے ۔ایک کو غصہ آجائے تو دوسرے کو صبرکرنا چاہیئے اورکوئی ایسی ترکیب کرنی چاہیئے
کہ جس سے اس کا غصہ کم ہو ۔بچوں کے سامنے جھگڑا کرنے سے ان کی تربیت میں بُرا
اثرپڑے گا۔جو گھرٹُوٹتاہے اس میں بچوں کا نقصان زیادہ ہوتاہے۔
سوال: گنے کے رس
کے کیافوائدہیں ،کون سارس پیاجائے ؟
جواب: گنے کے رس کے
کئی فوائدہیں ،گنے کا رس ہڈیا ں مضبوط کرتاہے ،خون کی کمی والوں کو مفیدہے
،جگراورگُردوں کی کارکردگی بڑھاتاہے ،دانتوں کے پیلے پن ،چہرے کے کِیل مہاسے
اورجُھریا ں دورکرتاہے ،بغیر برف کے گنے کا رس خریدیں ،گنے کارس وہاں سے لیں جس میں مشین اوربرتنوں کی صفائی کا خیال رکھا جاتاہو ،سکرین والے رس
نہ لیں ،اس کے کافی نقصانات ہیں۔گنا چباکر اس کا رس حاصل کرنا زیادہ فائدے مندہے
۔
سوال: کھا نا کیسے
کھانا چاہیئے ؟
جواب: کھانا
چباکرکھانا چاہیئے ورنہ معدہ خراب ہوجائے گا،دونوں طرف کے دانتوں سے چباکرکھائیں
،اس سے کانوں کی سنوائی میں بھی فائدہ ہوگا۔زیادہ بیماریاں منہ سےجاتی ہیں ،وہ چیزنہ
کھائیں،پئیں جو موافق نہ ہو۔ہم نقصان دہ چیزوں سے بچ نہیں پاتے پھر بیمارہوجاتے ہیں ۔کھانے کی حرص کم کریں صحت مندرہیں گے ،دینی
کام کرسکیں گے۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم کی سجاوٹ“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
14 فروری 2026ء مطابق 26 شعبانُ المعظم 1447ھ
کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران عاشقانِ رسول نے دینی،
اخلاقی اور شرعی امور کے حوالے سے مختلف سوالات کئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ
سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری
رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے علم و حکمت بھرے جوابات عطا کئے۔
بعض سوال و جواب
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا ہواتھا :کہ آدمی کو مرتے دم تک زندہ رہنا چاہیئے اوراس کے
کردارکو مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہیئے،اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ؟
جواب: اس کا یہ معنی ہوسکتاہے کہ بندےکو مرتے دم تک زندہ دل
رہنا چاہیئے ، کردارایساصاف سُتھرا ہو اور زندگی اچھائی میں گزارے کہ مرنے کے بعد اسے بھلائی اورنیک نامی
کے ساتھ یاد کیاجائے ۔
سوال:اگر کسی حافظِ قراٰن کونظرکی کمزوری کی وجہ سے عینک لگی ہواورلوگ اُسے کہتے ہوں کہ حفظِ قراٰن کی وجہ سے نظرکمزورہوئی ہے ،اس بارے
میں آپ کیافرماتے ہیں ؟
جواب: یہ غلط فہمی ہے ،ایسا نہیں کہنا چاہیئے کہ اس سے حافظ
صاحب کو بُرالگے گا،اس طرح کہنے سے توبہ
کرنی چاہیئے ۔حفظِ قرآن کی وجہ سے نظر کمزورنہیں ہوتی ،بزرگوں کا قول ہے کہ قراٰنِ
کریم کا دِیدارکرنے سے نظرتیزہوتی ہے ۔ کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر اگرقراٰنِ
کریم پڑھیں گے تواس سے نظر کمزور ہوسکتی ہے بالخصوص جب اس کی لائٹ تیز ہو یا کمرے میں
اندھیراہوتو اب بھی اسکرین کی لائٹ آنکھوں کے لئے خطرناک ہے ۔ہرچیز کی ایک حدہوتی
ہے ،جب اسے حدسے زیادہ استعمال کریں گے تونقصان ہوگا۔
سوال: کیا موقع
ملنے کے باوجود بھی نمازِتہجدنہ پڑھنامحرومی ہے ؟
جواب:لوگوں میں عبادت کا جذبہ کم ہے ،کئی لوگوں کو موقع
بھی ملتاہے مگروہ نمازِتہجدنہیں پڑھتے ،یہ
محرومی ہے ۔نیت سچی تھی مگرجاگ نہ سکا
اورتہجدکی نمازنہ پڑھ سکاتوتہجدکی سچی نیت
کی وجہ سے تہجدکا ثواب پائے گا۔ان شاء اللہ الکریم
سوال: ہرکمال
را زوال کا کیا معنی ہے ؟
جواب: ہرکمال را زوال (را۔زوال) کا معنی ہے کہ ہرکمال کو زوال ہے مگرجسے اللہ پاک عزت دے تو اس کی عزت کو زوال نہیں جیسے
حضورغوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ
اللہ علیہ کی عزت اب بھی ہمارے دلوں میں
ہے ۔
سوال: دعوتِ اسلامی
کے بارے میں آپ کے کیاجذبات ہیں ؟
جواب:دعوتِ اسلامی بہت بڑی نعمت ہے ،دعوتِ اسلامی دعوت اسلامی
ہے ،اے دعوت اسلامی تیری دُھوم مچی ہے ۔
سوال:کیا سرسوں کا تیل(Mustard Oil) کھانے میں استعمال کرسکتے ہیں ؟
جواب: جی کرسکتے ہیں
اوراستعمال کرنابھی چاہیئے ،اس کے کئی فوائدہیں ،آنکھوں اور چہرے کے علاوہ سارے
جسم پر سرسوں کا تیل مَل لیاجائے تو خارش کے لئے مفیدہے ۔مگریادرکھیں! کوئی بھی
علاج کرنا ہوتو اپنے حکیم/ڈاکٹر سے مشورہ ضرورکریں۔
سوال: ماہنامہ خواتین(دعوتِ اسلامی) کااسپیشل(Special) شمارہ ’’خواتین کے لئے اُسوۂ رسول ‘‘کے بارے میں
امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟
جواب:یہ اسلامی بھائیوں ،اسلامی بہنوں ،بچوں اور بوڑھوں سبھی
کے لئے مفیدہے،یہ ضرورلیں،پڑھیں اورگھر میں
رکھیں۔25فروری 2026 تک مکتبۃ المدینہ سے 20 فیصد رعایت پر لے سکتے ہیں ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ’’ ماہِ رمضان ماہِ نیک اعمال ‘‘پڑھنے
یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جو دنیا سے محبت کرتا ہے تو دنیا اس سے دور
بھاگتی ہے، مولانا الیاس عطار قادری
7 فروری 2026ء بمطابق 19 شعبانُ المعظم 1447ھ
کی شب دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام معمول
کے مطابق ہفتہ وار مدنی مذاکرہ شروع ہوا جس میں کراچی سٹی کے اسلامی بھائیوں نے
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں آکر براہِ راست جبکہ دیگر شہروں و دیگر ممالک کے اسلامی بھائیوں نے بذریعہ مدنی
چینل شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران مختلف سوالات کا سلسلہ ہوا
جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت،
بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نےعلم و حکمت سے بھرپور
جوابات دیئے۔
بعض سوال و جواب:
سوال:جودُنیادُنیا
کرتاہے تو اس کے ساتھ کیا ہوتاہے ؟
جواب: جودُنیا سے محبت کرتاہے ،صرف دُنیا کوہی حاصل
کرنے میں لگا رہتاہے تو دُنیا اس سے دُوربھاگتی ہے اور جو دُنیا سے کنارا کرتاہے،
دُنیا اس کی طرف بھاگ بھاگ کرآتی ہے ۔ بزرگانِ دین کے مزارات بنے ہوئے ہیں ،لوگ ان
کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں جبکہ کئی بادشاہوں کے نام لوگ بھول گئے۔اگریاد ہیں بھی
توان کی بُری شہرت ہے جیسےیزیدکی بُری شہرت ہے ،اسے کوئی ایصالِ ثواب نہیں
کرتاجبکہ نواسۂ رسول،امامِ حسین رضی
اللہ عنہ کی ہمارے دلوں پر حکمرانی ہے
،جنت میں بھی یہ جوانوں کے سردارہوں گے ۔
سوال: پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک
سُن کر انگوٹھے چُومنےکا کیا فائدہ ہے ؟
جواب:پیارے
آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام
مبارک سُن کر انگوٹھے چُومنا تعظیم کے لئے ہوتاہے ۔ مستحب یہ ہے کہ اذان و اِقامت
میں جب پہلی شہادت سُنیں تو کہیں:صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اور جب دُوسری
بار سُنیں تو دونوں انگوٹھے اپنی دونوں آنکھوں پر لگانے کے بعدکہیں:قَرَّتْ عَیْنِیْ بِکَ
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ پھر یہ کہیں اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ
بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ تو حضور نبیِ
کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنّت کی
طرف اس کے قائد ہوں گے۔حدیث شریف میں ہے:جس نے اذان میں اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِ سُننے کے بعد اپنے دونوں انگوٹھوں کو بوسہ دیا
تو جنّت کی صفوں میں، میں اس کا قائد اور داخل کرنے والا ہوں گا۔( ردالمحتار،2 / 84)
مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ عَنْہُ
سے مَروی ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہ عَنْہُ نے مؤذّن کو اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْ لُ اللّٰہ کہتے سُنا تو یہ دُعا پڑھی اور دونوں کلمے کی اُنگلیوں
کے پورے جانبِ زیریں سے چُوم کر آنکھوں سے لگائے،اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا،اُس کے
لئے میری شفاعت حلال ہوجائے۔( فتاویٰ رضویہ،5/ 432)
سوال: نیکی کرنے پر کوئی تعریف کرے اوردل میں خوشی محسوس ہوتو کیا یہ بھی رِیا کاری ہے ؟
جواب:یہ
ریا کاری نہیں ،البتہ آزمائش ضرورہے کہ کہیں وہ بندہ اپنے آپ کو نیک نہ سمجھنا
شروع کردے ۔ریا کاری یہ ہے کہ بندہ نیکی
اس لئے کرے کہ لوگوں سے عزت یا مال حاصل
ہو ۔
سوال:تُرک
مسلمان کیسے ہیں ؟
جواب:
تُرک مسلمان بڑے عاشقِ رسول ہیں ۔ان کے عشقِ رسول کے واقعات پڑھ کربندہ حیران رہ جاتاہے ،مدینہ شریف میں جب ان
کی خدمت تھی تو یہ مسجدِنبوی شریف کی تعمیرات میں بھی آوازبلندنہیں ہونے دیتے تھے ،پتھرکی کٹائی بھی مدینۂ منورہ سے باہر
کرکے لاتےتھے وغیرہ ۔
سوال: امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے انگوٹھے چُومنے کی اپنی کیابرکت بتائی ؟
جواب: مَیں بچپن سے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک
سُن کرانگوٹھے چُو متاہوں میری عمر تقریباً 77 سال ہے ،میں بغیر عینک کے گزاراکرلیتاہوں
،مَیں اسے اس کی (یعنی نامِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سُن کر
انگوٹھے چُومنے کی)برکت سمجھتاہوں
۔مَیں تعظیم کے لئے عام طورپرسیدصاحب کے ہاتھ بھی چُوم لیتاہوں ۔
سوال:رمضان شریف کی سجاوٹ کس طرح کریں ؟
جواب: آپ رمضان شریف کی سجاوٹ مدنی چینل پر دیکھ رہے ہوں گے ،آپ بھی تعظیمِ رمضان کی نیت سے اپنے گھروں میں
سجاوٹ شروع کردیں ۔مکتبۃ المدینہ سے رمضان مبارک کی جھنڈیاں اورپینافلیکس خرید لیں،
گھروں کے باہراوراندرلگائیں ۔
سوال: کیا فرض اورنوافل کے بارے میں کسی کوسمجھانے کا
انداز مختلف ہونا چاہیئے ؟
جواب: گھروالوں پرفرض پرعمل کروانے میں سختی کرنے کی صورتیں بھی ہیں مگر نوافل میں سختی کرنے کی اجازت نہیں ،نوافل خود پر نافذ کریں لیکن
گھروالوں پر اس کے لئے سختی نہ کریں ،نرمی کے ساتھ دعوت دے سکتے ہیں ۔
سوال: فالتوباتیں نہ کرنے کا کیا فائدہ ہوتاہے ؟
جواب:فالتو
باتیں ہمارے معاشرے سے ختم ہوجائیں توہمارے ہاں ہونے والے تمام جھگڑے ختم ہوجائیں ۔
سوال: پاکستان میں رمضان شریف میں عموماًچیزوں کی قیمت بڑھ جاتی ہے،اس
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: کاش ہمارے ملک پاکستان میں تعظیمِ رمضان کی نیت
سے ماہِ رمضان میں چیزیں سستی ہوجائیں۔تاجرحضرات
جو نفع لیتے ہیں اس میں لفظ ’’اللہ‘‘
کے حرفِ ابجد 66 کی نسبت سے 66% رعایت کردیں ۔
سوال: ماہِ رمضان میں افطاری کا سامان غریب علاقوں میں
بانٹنے کے بارے میں امیراہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نےکیا ترغیب دلائی؟
جواب:ماہِ
رمضان شریف میں رشتہ داروں کو پہلے دیکھیں
،پھر پڑوس کودیکھیں پھر غریب علاقوں میں
افطاری کاسامان غریبوں کے گھروں میں بھجوائیں ۔یہ زکوٰۃ کی رقم سے نہیں بلکہ صاف(Fresh) رقم سے کریں اورغریبوں کی دعائیں لیں ۔ ساداتِ کرام،امام مساجد اورعلمائے
کرام کو ترجیح دیں ۔
سوال:نیکیوں
میں دل نہ لگنے جبکہ گناہوں میں دل لگنے کی
کیا وجہ ہے؟
جواب:نیکیاں
کرنے میں شیطان رکاوٹ ڈالتاہے جبکہ گناہوں اورفضول کاموں میں وہ مددکرتاہے ۔ایک
بزرگ کا فرمان ہے کہ 20 سال تک تلاوتِ قراٰن میں میرا دل نہیں لگا، مگرمیں تلاوت
کرتارہا پھر 20 سال میں نے اس سے نفع اٹھایا یعنی 20 سال کے بعد تلاوت میں دل لگ گیا
۔اولڈ کراچی کی قاضیاں والی مسجدکے( مرحوم) امام صاحب نے مجھے بتایا تھاکہ میں”روزانہ ایک
قراٰن پاک ختم کرلیتاہوں “۔وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے ۔بندہ جس کام میں مشغول ہوجاتاہے تو اس میں دل لگ ہی جاتاہے۔
سوال:
اِس ہفتے کارِسالہ ’’راہِ خدا میں پیاری چیز دینا“پڑھنے یا سُننے والوں
کوامیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
31 جنوری 2026ء بمطابق 12 شعبانُ المعظم
1447ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی
مذاکرہ منعقد ہوا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد
نے شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران عاشقانِ رسول کی جانب سے
مختلف سوالات ہوئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت
علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم
و حکمت بھرے جوابات دیئے۔
سوال و جواب کی
تفصیلات:
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ”بہترین آنکھ وہ ہے جس سے
انسان اپنے اندر جھانک سکے“، آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: بات بالکل درست ہے ،واقعی اپنے اندر جھانکنا یعنی اپنا
محاسبہ کرنا اصلاح کا باعث ہوتا ہے ۔
سوال: ہمیں دینی
مسائل کس سے پوچھنے چاہئیں؟
جواب: دارُالافتاء میں فتاویٰ نویسی کرنے والے مفتیانِ کرام
سے شرعی مسائل پوچھنے میں ہی عافیت
ہے۔دعوتِ اسلامی کے دار الافتاء اہلسنت کے مفتیانِ کرام سے شرعی مسئلہ پوچھا کریں ۔
سوال: ایک حافظِ قراٰن ،اپنا حفظ کیسے پکاّ رکھے؟
جواب: کہا جاتا ہے کہ قراٰن پاک حفظ کرنا آسان ہے مگر اسے حفظ
رکھنا مشکل ہے ، روزانہ ایک منزل دوہرائی
ہو جائے تو 7 دن میں قراٰنِ کریم مکمل ہو
جائے گا،ایک مہینے میں 2 قراٰنِ کریم ختم کر لیں ورنہ حافظ اور غیر حافظ سب کو پورے مہینے میں ایک قراٰن
پاک ختم کرنا چاہیئے ۔
سوال:امام محمد رحمۃ اللہ علیہ
کون ہیں ؟
جواب: ؟امام محمد رحمۃ اللہ علیہ
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردتھے ،امام اعظم نے انہیں قراٰنِ پاک حفظ کرنے کا فرمایا تو انہوں
نے ایک ہفتے میں پوراقراٰنِ پاک حفظ کرلیا ۔
سوال: کہاجاتاہےکہ ”پہنچی
وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“ ،کیا جس مٹی سے بندے کا وجود
بناہوتاہے وہ اسی جگہ دفن کیا جاتاہے؟
جواب: جی ہاں !حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما
نے فرمایا: ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا ہے۔( المصنف عبد الرزاق، 3 /515 ، رقم : 6531
: المکتب
الاسلامی، بيروت )
سوال: خوشبو کس نیت
سے لگانی چاہیئے ؟
جواب: خوشبو لگانے سے پہلےاپنے آپ کو ریاکاری سے بچانے اور
اخلاص پانے کے لئے حسبِ حال اچھی اچھی نیتیں
کر لینی چاہئیں، بالخصوص اللہ پاک کی رضا اور اِتّباعِ سنَّت کی نیت ضرور ہونی چاہیئے۔ اس کے علاوہ یہ
نیتیں بھی کی جا سکتی ہیں مثلاًبِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر لگاؤں گا،مُسلمانوں اور فرشتوں کو
خُوشبو سے فَرحَت (یعنی خوشی و سُرور) پہنچاؤں گا ، خود سے بدبُودُور کر کے مسلمانوں کو غیبت
سے بچاؤں گا ، نَماز کے لئے زینت حاصِل
کروں گا ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” رشتے داری کاٹنا حرام ہے“
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
جواب: یا ربِّ کریم ! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ’’ رشتے
داری کاٹنا حرام ہے‘‘ پڑھ یا سُن لے اس کو ہمیشہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا
سُلوک کرتے ہوئے اُنہی کے ساتھ جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
5 شعبان 1447ھ کی رات امیرِ اہلِ سنت نے عاشقانِ رسول کو مدنی
پھولوں سے نوازا
لوگوں کو سنت رسول کا پابند بنانے اور شریعت
مطہرہ کی روشنی میں اُن کی رہنمائی کرنے والہ عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام 24 جنوری 2026ء بمطابق 5 شعبانُ المعظم 1447ھ کو عالمی مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔
مدنی مذاکرے میں کراچی مختلف علاقوں سے جبکہ
دنیا بھر کے مختلف ممالک سے بذریعہ مدنی چینل کثیر عاشقانِ رسول شریک ہوئے اور دینی، اخلاقی، معاشرتی و شرعی مسائل کے
حوالے سے سوالات کئے۔
اس دوران شیخِ طریقت،
امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے جن میں سے بعض
درج ذیل ہیں:
سوال: اس طرح کا خوف کہ میری نیکیاں ناقص ہیں، اس لئے کرنے کا
کیا فائدہ، اس کا کیا حل ہے ؟
جواب: بندہ شیطان کے وسوسوں پر توجہ نہ دے اور نیکیاں نہ
چھوڑے ، وہ تو یہی چاہتا کہ نیکیاں نہ کی جائیں ۔اپنی عبادت کو ناقص ہی سمجھنا چاہیئے
اور امید رکھنی چاہئے کہ اللہ پاک ان ناقص نیکیوں کو اپنے فضل سے قبول فرمائے
گا ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی عبادت کی اصلاح نہ کی جائے بلکہ ان کی اصلاح جاری
رکھی جائے ۔
سوال: ظلم کی کتنی
قسمیں ہیں ؟
جواب: ظلم کی بہت قِسمیں ہیں ،کسی کو زخمی کردینا ہی ظلم نہیں
،مُکّا مار دیا وغیرہ بلکہ کسی کو اس طرح
گھُور کر دیکھنا کہ اس کے دل میں خوف پیدا ہو ،یہ بھی ظلم ہے ۔جس پر ظلم کیا ہے اس سے معافی تلافی کر لی
جائے ،وہ نہیں ملتا تو اللہ
پاک سے توبہ کی جائے اور توبہ کے تقاضے
پور ے کئے جائیں ۔
سوال:ہمارے معاشرے میں والدین کے ساتھ بدسلوکی اور اپنے سے جدا کرنے کی صورتیں بھی پائی جاتی ہیں،اولڈ ہاؤس (Old House) اور ریٹائرڈ ہاؤس (Retired House)قائم کئے جا رہے ہیں ،والدین کی اہمیت و خدمت کے بارے میں آپ بھی نصیحت فرما دیں ؟
جواب: والدین کو رلانا اور ستانا خطرناک عمل ہے ،نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کچھ لوگ آگ
کی شاخوں سے لٹکے ہوئے دیکھائے گئے اور بتایا گیا یہ اپنے والدین کے نافرمان تھے۔ والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو
انہیں ’’اُف‘‘ بھی کہنے کی اجازت نہیں ، ماں باپ کو کبھی بھی ناحق نہ ستائیں ورنہ آخرت میں پھنس جائیں گے ۔والدین
کے ساتھ نیکی جہاد سے افضل ہے ۔ والدین کی
خدمت کرنا اور تکلیف نہ دینا دونوں ضروری ہیں ۔اپنے والدین کو اولڈ ہاؤس اور ریٹائرڈ ہاؤس میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں رکھ کر خدمت کریں۔رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے والدین کا
فرمانبردار ہے اس کے لئے صبح ہی کو جنت کے 2 دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں
سے ایک ہی ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ والدین کے
متعلق اللہ پاک کی
نافرمانی کرتا ہے اس کے لئے صبح ہی کو جہنم کے 2 دروازے کھل جاتے ہیں اور ایک ہو
تو ایک دروازہ کھلتا ہے۔ ایک شخص نے کہا: اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ فر مایا:
اگرچہ ظلم کریں، اگرچہ ظلم کریں، اگرچہ ظلم کریں۔(شعب الایمان،10/
307،حدیث 7538)
سوال:ماہ ِشعبان کو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کا مہینا اور ماہِ درود و سلام کیوں کہتے ہیں ؟
جواب: ماہ ِشعبان کے بارے میں آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : شَعْبَانُ شَہْرِیْ وَرَمَضَانُ
شَہْرُ اللّٰہِ یعنی شعبان میرا مہینا
ہے اور رَمَضان اللہ پاک کا مہینا ہے۔(جامع صغیر،
ص 301،حدیث: 4889) یعنی شعبان میرا مہینا ہے اور آیت ِ درود (سورہ ٔاحزب،آیت : 59)اسی مہینے میں نازل ہوئی ،اس لئے اس ماہ میں درود و سلام
کی کثرت کرنی چاہیئے ۔
سوال: کیا جہنم میں
سردی کا عذاب ہوگا؟
جواب: جی ہاں جہنم میں سردی کا عذاب ہوگا، جہنم میں ایک طبقہ
زمہریر ہے جس میں بہت ٹھنڈک ہے ، فرمانِ
مصطَفےٰصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : جب سخت
سردی ہوتی ہے تو بندہ کہتا ہے۔لَاۤاِلٰہَ اِلَّااللہُ آج کتنی سخت سردی ہے! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنْ
زَمْھَرِیْرِ جَھَنَّم یعنی اے اللہ پاک! مجھے جہنّم کی زمہریر سے بچا۔اللہ پاک جہنّم سے فرماتا ہے : میرا بندہ تیری زمہریر سے ميری پناہ میں آنا چاہتا ہے اور میں نے تیری زمہریر سے
اسے پناہ دی۔ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ
الرِّضْوَان نے عرض کی : جہنّم کی زمہریر
کیا ہے؟ ارشاد فرمایا : وہ ایک گڑھا ہے جس میں کافر کو پھینکا جائے گا تو سخت سردی
سے اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔( معجمِ کبیر
، 18 / 366 ، حدیث : 935)
سوال: مطلقا ًکے کیا
معنی ہیں ؟
جواب: مطلقاً کا معنی ہے، ہر طرح سے جیسے سانس لینے کی مطلقاً یعنی ہر جگہ اور ہر طرح سے
سانس لینے کی اجازت ہے ۔
سوال: تقویٰ کا کیا
معنی ہے اور اس کے کتنے درجات ہیں ؟
جواب:تقویٰ کا لغوی
معنی کسی چیز سے رکاوٹ ہے ،جیسے تقویٰ بندے کے لئے جہنم کی رکاوٹ بن
جائے گا، اس کے مختلف درجے ہیں ۔ اعلیٰ
حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : تقویٰ 7 قسم کا ہے۔ کُفر سے بچنا یہ بفضلہٖ تعالیٰ ہر مسلمان
کو حاصل ہے، بد مذہبی سے بچنا یہ ہر سُنّی کو نصیب ہے، ہر کبیرہ سے بچنا، صغائر سے بھی بچنا، شبہات سے احتراز (بچنا) ، شہوات سے بچنا، غیر کی طرف التفات سے بچنا ، یہ
اَخَصُّ الْخَواص کا منصب ہے اور قراٰنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی(رہنما)ہے۔(خزائن العرفان مع کنزالایمان ، ص4 ملخصاً)
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” جو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسند وہ اپنی پسند “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
صبر بہت بڑا خزانہ ہے ، مولانا الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ
3 جنوری 2026ء بمطابق 14 رجب المرجب 1447ھ کی
شب معمول کے مطابق دعوتِ اسلامی کے تحت
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول
شریک ہوئے۔
تلاوت و نعت سے آغاز ہونے والے اس مدنی مذاکرے
میں شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے
ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات دیئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال: عورت کو گھرکے
کاموں کی وجہ سے زیادہ تھکن لگے ،چڑچڑا پن ہو تو کیا کرے ؟
جواب: صبر کرے ،قول یا فعل سے بے صبری کا اظہار نہ کرے ،صبر
کے فضائل و فوائد پر غور کرے ،انبیائے کرام علیہم
السلام،صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے
کرام رحمہم اللہ المبین کے
واقعات و انداز کو یاد کرے ، صبر بہت بڑا خزانہ ہے، اس سے کئی مسائل حل ہو تے ہیں
۔سونے سے پہلے 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللهِ ، 33 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور34مرتبہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھ
لے۔(بخاری، 4/194، حدیث:6318) اس وظیفے کوتسبیحِ فاطمہ(رضی
اللہ عنہا) کہتے ہیں۔ روزانہ سونے سے پہلےتسبیحِ فاطمہ
پڑھنے کی عادت بنا نے سےاِن شآءَ اللہ الکریم کام کاج کی تھکاوٹ دُور ہو گی ۔بے صبری کرنے سے بسا اوقات گھر بھی ٹُوٹ
جاتا ہے، بے صبری کے نقصانات پیشِ نظر رکھیں۔
سوال: ایک پوسٹ میں
لکھا تھا کہ جب تک شعور نہ آ جائے تب تک
منہ کھانے پینے کے لئے استعمال نہ کریں، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: منہ کا استعمال کھانے اور بولنے دونوں کے لئے ہوتا ہے ،اس پوسٹ میں سمجھایا گیا ہے کہ جب تک کھانے پینے کا شعور اور سمجھ بُوجھ نہ آ جائے ۔اس وقت تک
نہ کھائے پیے،اسی طرح بولنے میں بھی ہے۔اصل سبق یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور زبان دونوں کو شعور کے ساتھ
استعمال کرے۔(یعنی جو کھائیں اور جو بولیں، سوچ سمجھ کر کریں،بےسمجھے
کھانا بھی نقصان دہ ہے اور بےسوچے بولنا بھی نقصان دہ)۔
سوال: بعض لوگ کہتے
ہیں کہ کھانے کے دوران زبان کچل جائے توکسی
نے گالی دی ہے،اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب: ایسا کہنا فضول
اور غلط بات ہے ،زبان کے کچل جانے کی ایک
وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ دانتوں کی نوک یا کونہ نکل آتا ہے جس کی وجہ سے
زبان کچل جاتی ہے ،بعض مرتبہ اس وجہ سے زبان زخمی بھی ہو جاتی ہے یا زبان پر چھالا ہو جاتا ہے ۔اس کا
حل یہ ہے کہ دانتوں کے ڈاکٹر سے اس نوک
یا کونے کی گھسائی کروا لی جائے ۔
سوال: اسلامی مسائل
پوچھنے کے بارے میں آ پ اپنا انداز بتا دیجئے ؟
جواب: مجھے مسائل
پوچھنے کا جنون تھا ،اس کے لئے مطالعہ کرتا تھا ،عوامی سواری میں گھنٹوں سفر کر کے مفتی صاحب(مفتیِ اعظم پاکستان، مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس جا جا کر مسائل پوچھتا تھا ۔اب بھی پوچھتا رہتا
ہوں۔
سوال: صبر کا پھل میٹھا
ہوتا ہے، اس کا کیا معنی ہے ؟
جواب: یہ محاورہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ صبر کرنے کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے ۔
سوال: گناہِ کبیرہ
اور گناہِ صغیرہ سے کیا مراد ہے ؟
جواب: کبیرہ گنا ہ
بڑے گناہ کواور صغیرہ گنا ہ چھوٹے گنا ہ کو کہتے ہیں ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ “
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
صبر بہت بڑا خزانہ ہے ، مولانا الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ
3 جنوری 2026ء بمطابق 14 رجب المرجب 1447ھ کی
شب معمول کے مطابق دعوتِ اسلامی کے تحت
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول
شریک ہوئے۔
تلاوت و نعت سے آغاز ہونے والے اس مدنی مذاکرے
میں شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے
ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات دیئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال: عورت کو گھرکے
کاموں کی وجہ سے زیادہ تھکن لگے ،چڑچڑا پن ہو تو کیا کرے ؟
جواب: صبر کرے ،قول یا فعل سے بے صبری کا اظہار نہ کرے ،صبر
کے فضائل و فوائد پر غور کرے ،انبیائے کرام علیہم
السلام،صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے
کرام رحمہم اللہ المبین کے
واقعات و انداز کو یاد کرے ، صبر بہت بڑا خزانہ ہے، اس سے کئی مسائل حل ہو تے ہیں
۔سونے سے پہلے 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللهِ ، 33 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور34مرتبہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھ
لے۔(بخاری، 4/194، حدیث:6318) اس وظیفے کوتسبیحِ فاطمہ(رضی
اللہ عنہا) کہتے ہیں۔ روزانہ سونے سے پہلےتسبیحِ فاطمہ
پڑھنے کی عادت بنا نے سےاِن شآءَ اللہ الکریم کام کاج کی تھکاوٹ دُور ہو گی ۔بے صبری کرنے سے بسا اوقات گھر بھی ٹُوٹ
جاتا ہے، بے صبری کے نقصانات پیشِ نظر رکھیں۔
سوال: ایک پوسٹ میں
لکھا تھا کہ جب تک شعور نہ آ جائے تب تک
منہ کھانے پینے کے لئے استعمال نہ کریں، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: منہ کا استعمال کھانے اور بولنے دونوں کے لئے ہوتا ہے ،اس پوسٹ میں سمجھایا گیا ہے کہ جب تک کھانے پینے کا شعور اور سمجھ بُوجھ نہ آ جائے ۔اس وقت تک
نہ کھائے پیے،اسی طرح بولنے میں بھی ہے۔اصل سبق یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور زبان دونوں کو شعور کے ساتھ
استعمال کرے۔(یعنی جو کھائیں اور جو بولیں، سوچ سمجھ کر کریں،بےسمجھے
کھانا بھی نقصان دہ ہے اور بےسوچے بولنا بھی نقصان دہ)۔
سوال: بعض لوگ کہتے
ہیں کہ کھانے کے دوران زبان کچل جائے توکسی
نے گالی دی ہے،اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب: ایسا کہنا فضول
اور غلط بات ہے ،زبان کے کچل جانے کی ایک
وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ دانتوں کی نوک یا کونہ نکل آتا ہے جس کی وجہ سے
زبان کچل جاتی ہے ،بعض مرتبہ اس وجہ سے زبان زخمی بھی ہو جاتی ہے یا زبان پر چھالا ہو جاتا ہے ۔اس کا
حل یہ ہے کہ دانتوں کے ڈاکٹر سے اس نوک
یا کونے کی گھسائی کروا لی جائے ۔
سوال: اسلامی مسائل
پوچھنے کے بارے میں آ پ اپنا انداز بتا دیجئے ؟
جواب: مجھے مسائل
پوچھنے کا جنون تھا ،اس کے لئے مطالعہ کرتا تھا ،عوامی سواری میں گھنٹوں سفر کر کے مفتی صاحب(مفتیِ اعظم پاکستان، مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس جا جا کر مسائل پوچھتا تھا ۔اب بھی پوچھتا رہتا
ہوں۔
سوال: صبر کا پھل میٹھا
ہوتا ہے، اس کا کیا معنی ہے ؟
جواب: یہ محاورہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ صبر کرنے کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے ۔
سوال: گناہِ کبیرہ
اور گناہِ صغیرہ سے کیا مراد ہے ؟
جواب: کبیرہ گنا ہ
بڑے گناہ کواور صغیرہ گنا ہ چھوٹے گنا ہ کو کہتے ہیں ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ “
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
Dawateislami