22 ربیع الاوّل, 1441 ہجری

: : :
(PST)

چکن دنیا میں سب سے زیادہ کھائے جانے والا گوشت ہے مگر یہ کینسر کا شکار بھی بناسکتا ہے۔ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا کہ  بہت زیادہ چکن کھانے کی عادت خون کے کینسر اور مثانے کے کینسر کا شکار بناسکتی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے دوران 4 لاکھ سے زائدسے درمیانی عمر کے افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 2006ءسے2014ء تک لیا گیاتحقیق کے دوران، ان افراد کی غذاؤں کے ساتھ ان امراض کا تجزیہ بھی کیا گیا جن کے وہ شکار ہیں اور ان میں سے 23 ہزار میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دیر تک چکن پکانے سے یا فاسفورڈ آئیٹم کا بہت زیادہ استعمال سے بھی کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سرخ یا سفید کسی بھی قسم کے گوشت کا اعتدال میں رہ کر استعمال کرنا نقصان دہ کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے ۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ تحقیق کا مقصد وجوہات کی بجائے صرف یہ معلوم کرنا تھا کہ چکن کے استعمال کا مختلف اقسام کے کینسر کے ساتھ کیا تعلق ہے ایسے کئی پہلو تلاش کئے گئے ہیں جو اس تعلق کی وجہ بنتے ہیں

ماہرین کے مطابق ابھی مزید بھی تحقیق کی جارہی ہے کہ چکن کے استعمال سے اور کیا وجہ ہوسکتی ہیں جو کینسر کا سبب بنتی ہیں۔


گجرات سے تقریباً 20 کلومیٹرسرگودھا روڈ پہ منگووال غربی کاقصبہ موجود ہے کیرانوالہ شریف ۔ یہاں سے ڈنگہ ( دین گاہ ) روڈ پہ چند کلومیٹرکے فاصلے پرواقع مسجد پاک وگھہ شریف واقع ہے۔ اپنے منفرداورجدید طرزِ تعمیر،مستند تاریخی و مذہبی اہمیت اورمحبت،لگن اورعشق ومحبت کی ایک ایسی شاندارمنہ بولتی تصویرہے کہ جس میں عقید ت وولولہ اورجوش وجنون کے گہرے رنگ بھرے ہیں۔

2001 سے اس شاہکارکا تعمیراتی کام جاری وساری ہے۔ منڈی بہاؤالدین کے گاؤں کدھرشریف کے ممتازاوردنیا بھرمیں معروف ماہرِ امراض ِ چشم اور سرجن صاحبزادہ ڈاکٹر،حافظ محمد فرخ حفیظ رحمۃ اللہ علیہ نےجس شوق اور محبت سے اس کا سنگ ِ بنیاد2001 میں خودرکھاتھا آج بھی اسی ذوق اورلگن سے مسجد کی تعمیرکا کام جاری ہے جوکہ اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔

22 فٹ چوڑی بنیادوں سے لیکر6 فٹ چوڑی دیواروں تک کی تعمیرمیں چونے،روڑاوراینٹوں کاپاؤڈر ( کیری ) کوانتہائی ٹیکنیکل بنیادوں پہ مکس کرکے بطورِ گارا استعمال کیاگیاہے۔ اس کی بنیادوں میں لگی 45لاکھ اینٹوں کومحرابی حالت میں اس مہارت سے جوڑاگیاہے کہ زیرِ زمین ہونے والی تبدیلیوں مثلاً زلزلہ وغیرہ اورگیسوں کے اخراج سے پڑنے والی دراڑوں سے انتہائی سائنسی طورپربچاؤکیاگیاہے۔

اپنے انوکھے ڈیزائن، منفردفنِ خطاطی اورخوبصورت ترین سنگ ِ سفیدکی وجہ سے بھی اس مسجد کوایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ شب وروزدور و نزدیک سےآنے والے زائرین کاایک جمِ غفیر ہمہ وقت یہاں موجودہوتاہے۔لاکھوں لوگ یہاں باربارجانے کے متمنی ومنتظرہوتے ہیں۔الغرض یہ اس علاقہ ہی کی نہیں بلکہ پورےپنجاب کی پہچان اورفخرہے۔