کسی چیز کے کثیر اسماء اس کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے الله پاک کے اسماء اور مکی مدنی مصطفیٰ صلّی اللہُ علیہ و سلّم کے اسماء،اسی طرح قرآن پاک کے بھی بہت سے اسماء ہیں۔ تفسیر کبیر اور تفسیر عزیزی میں اس کلامِ پاک کے 32 اسماء بیان کیے گئے ہیں،جن کا ذِکر قرآنِ پاک میں بھی موجود ہے۔ ان میں سے 20 اسماء ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں۔

1- قرآن :

لفظ قرآن یا تو قرء سے بنا ہے یا قراءۃ سے یا قرن سے (تفسیر کبیر پارہ 2)

قرء کے معنی ہیں جمع ہونا۔ یہ سارے اولین و آخرین کے علموں کا مجموعہ ہے اس لیے اسے قرآن کہتے ہیں۔ (تفسیر کبیر روح البیان ،پارہ 2)

قراءۃ کے معنی ہیں پڑھی ہوئی چیز۔ قرآنِ پاک کو قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ یہ پڑھا ہوا نازل ہوا۔ الله پاک کی طرف سے جتنی بھی کتابیں یا صحیفے نازل ہوئے سب لکھے ہوئے تھے جبکہ پیارے آقا صلّی اللہُ علیہ و سلّمکی بارگاہ میں حضرت جبرائیل علیہ السّلام حاضر ہوتے اور قرآن پاک پڑھ کر سنا جاتے۔

قرن کے معنی ،ملنا اور ساتھ رہنا ہیں۔ قرآنِ پاک کو قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ حق اور ہدایت اس کے ساتھ ہیں۔ اس میں عقائد و اعمال ایک ساتھ جمع ہیں اور یہ ہر وقت مسلمان کے ساتھ رہتا ہے۔

2- فرقَان :

فرقان فرق سے بنا ہے۔جس کے معنی فرق کرنے والی چیز کے ہیں۔ قرآنِ پاک کو فرقان اس لیے کہتے ہیں کہ یہ حق و باطل ، مومن و کافر، سچ اور جھوٹ میں فرق کو ظاہر فرمانے والا ہے۔ (تفسیرِ نعیمی،ج 1،ص 19,20)

3- کتاب :

کتاب کتب سے بنا ہے اس کے معنی ہیں جمع ہونا، لکھنا، لکھی ہوئی چیز۔ قرآنِ پاک میں سب علوم جمع کیے گئے ہیں۔ تمام آسمانی کتابوں کے مضامین بھی قرآنِ پاک میں جمع ہیں، گویا یہ کتاب کامل ہے۔

یہ کتاب سب سے پہلے لوح محفوظ میں لکھی گئی پھر پہلے آسمان پر، پھر مسلمانوں کے سینوں میں اور ہڈیوں،پتھروں وغیرہ پر اور پھر کاغذ پر لکھی گئی ۔ (تفسیرِ نعیمی ج1, ص ،115)

4- ذِکر و تَذكره:

معنی یاد دِلانا ۔

قرآنِ کریم الله پاک کی عطا کردہ نعمتوں کو اور عہدِ میثاق کو یاد دلاتا ہے۔

5- تنزِیل:

معنی اتاری ہوئی کتاب ۔

قرآنِ کریم الله پاک کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے اس لیے اسے تنزیل بھی کہتے ہیں۔

6- حدیث:

معنی نئی چیز یا کلام اور بات۔

قرآنِ پاک توریت و انجیل کے بعد نازل ہوا،اس لیے یہ نیا ہے۔ قرآنِ پاک پڑھا ہوا نازل ہوا اس لیے یہ بات ہے۔

7- مو عظتہ:

معنی ہیں نصیحت۔

قرآنِ پاک سب کو نصیحت کرنے والی کتاب ہے، اس لیے اس کا نام موعظتہ ہے۔

8- بیان، تبیان، مبین:

معنی ظاہر کرنے والا۔ یہ کتاب احکام شرعی اور علمِ غیب کو مدنی آقا کریم صلّی اللہُ علیہ و سلّمپر ظاہر فرمانے والی ہے۔

9- بصائر:

معنی بصائر جمع ہے بصیرت کی یعنی دل کی روشنی۔

قرآنِ پاک سے دلوں میں نور پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس کا نام بصائر ہے۔

10- فصل:

ایک معنی ہیں فیصلہ کرنے والی۔

یہ کتاب لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے والی ہے۔

11- نجوم:

نجم سے بنا ہے اس کے معنی تارے ،حصہ۔

تاروں کی طرح قرآنِ پاک کی آیات لوگوں کی رہنمائی کرتی ہیں، اور الگ الگ نازل ہوئیں۔

12- مثانی:

معنی مثنٰی کی جمع ،بار بار ۔

اس میں احکام اور قصے بار بار آئے نیز یہ کتاب بار بار نازل ہوئی۔

13- برہان :

معنی دلیل ۔

یہ الله پاک کی، نبی آخر الزماں صلّی اللہُ علیہ و سلّماور سابقہ انبیائے کرام کے صدق کی، دلیل ہے۔

14- بشیر و نذیر:

معنی خوش خبری دینے والی، ڈرانے والی۔

یہ کتاب خوش خبریاں دینے والی اور ڈرانے والی بھی ہے۔

15- قیم:

معنی قائم رہنے والی یا رکھنے والی۔

یہ کتاب قیامت تک قائم رہنے والی ہے اور اس کے ذریعے قیامت تک دین بھی قائم رہے گا۔

16- حق:

معنی سچی بات۔

یہ کتاب سچی بات بتاتی ہے۔ سچے رب کی طرف سے نازل ہوئی ،سچا ہی اس کو لایا اور سچے نبی آخر الزماں صلّی اللہُ علیہ و سلّمپر نازل ہوئی۔

17- عزیز :

معنی غالب ، بے مثل۔

یہ بے مثل کتاب ہے، سب پر غالب رہی، اب بھی غالب ہے اور ان شاء الله قیامت تک غالب رہے گی۔

18- کریم :

معنی سخی ۔

قرآنِ کریم سے علم، الله پاک کی رحمت، ایمان اور بے شمار ثواب حاصل ہوتا ہے،اس لیے اسے کریم بھی کہتے ہیں۔

19- عظیم :

معنی بڑا ۔

سب سے بڑی کتاب ہونے کی وجہ سے اسے عظیم بھی کہتے ہیں ۔

20- مبارک :

معنی برکت والا۔

اس کے پڑھنے اور عمل کرنے سے ایمان اور چہرے کے نور میں برکت ہوتی ہے، اس لیے یہ مبارک ہے۔

(تفسیرِ نعیمی ج 1, ص 116,117,118)

دعا ہے کہ الله پاک ہمیں فیضانِ قرآن سے مالا مال فرمائے آمین بجاہِ خاتم النبیین۔