حضرت شعیب علیہ السلام کا مختصر تعارف:

حضرت شعیب علیہ السلام تیسرے عرب نبی ہیں، جن کا اسم گرامی قرآن پاک میں بیان ہوا ہے، آپ علیہ السلام کا نام قرآن کریم میں 11 بار ذکر ہوا ہے، اللہ پاکنے حضرت شعیب علیہ السلام کو مدین اور ایکہ کے لوگوں کی طرف بھیجا، تا کہ آپ لوگوں کو وحدانیت کی طرف ہدایت کریں اور بت پرستیوں اور دیگر برائیوں سے منع فرما ئیں۔

مدین حضرت شعیب علیہ السلام کے قبیلے کا نام ہے اور ان کی بستی کا نام بھی مدین تھا، اس بستی کا نام مدین اس لئے ہوا کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ایک بیٹے مدین کی اولاد میں سے تھے، مدین اور مصر کے درمیان اَسّی دن کی مقدار کا فاصلہ تھا۔

حضرت شعیب علیہ السلام بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، آپ علیہ السلام کی دادی حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔(سورہ اعراف، آیت:87، تفسیر صراط الجنان)

مدین کے لوگ بت پرستی، بُرائی اور لین دین میں خیانت اور دھوکہ کیا کرتے تھے، ناپ تول میں کمی اور خرید و فروخت میں خیانت کرتے، دنیا کی محبت اور دولت اکٹھا کرنے کی خواہش میں دھوکا اور فریب جیسی برائیوں میں ملوث اور کئی طرح کی معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے۔

اللہ پاک نے قرآن کریم میں سورہ ھود میں حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم کی نافرمانیوں کا ذکر فرمایا :

ترجمہ کنزالعرفان:"اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم!اللہ پاک کی عبادت کرو، اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو، بے شک میں تمہیں خوش حال دیکھ رہا ہوں، بے شک مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔"(ھود:84)

حضرت شعیب علیہ السلام سارا دن وعظ فرماتے اور ساری رات نماز میں گزارتے، آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام سے کہتی کہ اس نماز سے آپ کو کیا فائدہ ہوا؟

آپ علیہ السلام فرماتے، نماز خوبیوں کا حکم دیتی اور برائیوں سے منع کرتی ہے اور اس پر وہ آپ کا مذاق اُڑاتے، جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن مجید کی سورہ ہود، آیت 87 میں نازل فرمایا:

ترجمہ کنزالعرفان:" قوم نے کہا:اے شعیب!کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا ؤں کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں، واہ بھئی! تم تو بڑے عقلمند، نیک چلن ہو۔"(سورہ ھود، آیت87)

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم میں بڑے عقلمند اور نیک چلن آدمی کی حیثیت سے مشہور تھے، لیکن جب حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان میں نسل در نسل چلتے ہوئے بتوں کی پُوجا کے جاہلانہ طریقے کو چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے حیران ہو کر کہا کہ آپ تو بڑے عقلمند اور نیک چلن ہیں، پھر آپ ہمیں کیسے یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہم اپنے نسل در نسل چلتے ہوئے بتوں کے طریقے کو چھوڑ دیں۔"(تفسیر کبیر،سورہ ہود، تحت الآیۃ:87، 6/387، ملخصاً)

اسی طرح سورہ عنکبوت میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

"مدین کی طرف ان کے ہم قوم کو بھیجا تو اس نے فرمایا: اے میری قوم!اللہ کی بندگی کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھر و، تو انہوں نے اسے جھٹلایاتو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔(عنکبوت:36، 37)

نیز سورہ شعراء میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ کنزالعرفان:"ایکہ جنگل والوں نے رسولوں کو جھٹلایا، جب ان سے شعیب علیہ السلام نے فرمایا: کیوں تم ڈرتے نہیں؟ بیشک میں تمہارے لئے امانتدار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں اس (تبلیغ) پر تم سے کچھ اُجرت نہیں مانگتا، میرا اَجر تو اسی پر ہے، جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔"(الشعراء:176، 177، 178، 179، 180)

حضرت شعیب علیہ السلام نے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں سابقہ قوم پر آئے عذابات یاد دلاتے، جس کا ذکر ربّ پاک نے سورہ ہود کی آیت نمبر 89 میں ارشاد فرمایا: ترجمہ کنزالعرفان:"اور اے میری قوم!میری مخالفت تم سے یہ نہ کروا دے کہ تم پر بھی اسی طرح کا عذاب آپہنچے، جو نوح کی قوم، ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر آیا تھا اور لوط کی قوم تو تم سے کوئی دُور بھی نہیں۔"

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم!مجھ سے تمہاری عداوت اور بغض، میرے دین کی مخالفت، تمہارے اللہ پاکسے کفر پر اصرار کرنے اور بتوں کی پوجا پر قائم رہنے، لوگوں سے ناپ تول میں کمی کرنے کو نہ چھوڑنے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں اعراض کرنے کی وجہ سے کہیں تم پر بھی ویسا ہی عذاب نازل نہ ہو جائے، جیسا حضرت نوح، حضرت ہود اور حضرت لوط علیہم السلام کی اقوام پر نازل ہوا، حضرت شعیب علیہ السلام کی ان نصیحتوں کے جواب میں قوم نے سرکشی کرتے ہوئے کہا:اے شعیب علیہ السلام!آپ ہمیں جو بھی نصیحتیں دے رہے ہیں اور ان پر جو دلائل پیش کر رہے ہیں، یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی، نیز بیشک آپ ہمیں ہمارے درمیان کمزور نظر آتے ہیں، اگر ہم آپ کے ساتھ ظلم و زیادتی کریں تو آپ میں دفاع کرنے کی طاقت نہیں۔(تفسیر صراط الجنان، سورہ ھود، آیت:91)

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور بُرے کاموں سے دستبردار ہونے کی نصیحت پر پوری کوشش کی، لیکن ان کا طغیان اور سرکشی بڑھتی ہی گئی، ان لوگوں میں سوائے چند افراد کے کوئی ایمان نہ لایا، بلکہ انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کو طرح طرح کی اذیتیں دیں، دھمکی دی، مذاق اڑایا، کبھی آپ پر الزام لگایا، آپ کو کذّاب(جھوٹا) کہا، جو لوگ آپ علیہ السلام پر ایمان لائے، انہیں بھی ڈراتے اور دھمکیاں دیتے کہ ہم تمہیں شہر سے نکال دیں گے، مگر یہ کہ ہمارے بت پرستی کے دین پر آ جاؤ۔

ان کی یہ سرکشی او فسق قائم رہا، یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام ان کے ایمان لانے سے بالکل نا اُمید ہو گئے اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا، پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ربّ پاک سےیوں دعا فرمائی:

ترجمہ کنزالعرفان:"اے ہمارے ربّ! ہم میں اور ہماری قوم میں حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔"(اعراف:89)

اس دعا کے بعد اللہ پاک نے عذاب یوم الظلہ نازل کیا۔

جبکہ سورہ ہود میں اس طرح ہے:

ترجمہ کنزالعرفان:"اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا۔"

تفسیرابوسعود میں ہے کہ"ممکن ہے کہ زلزلے کی ابتداء اس چیخ سے ہوئی ہو، اسی لئے کسی جگہ سورہ ہود میں ہلاکت کی نسبت سببِ قریب یعنی خوفناک چیخ کی طرف کی گئی اور دوسری جگہ جیسے اس آیت میں سببِ بعیدیعنی زلزلے کی طرف کی گئی۔

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اللہ پاکنے حضرت شعیب علیہ السلام کو اصحابِ ایکہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مدین کی طرف بھی، اصحابِ ایکہ تو اَبر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مدین زلزلے میں گرفتار ہوئےاور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہو گئے۔(خازن العراف تحت الآیۃ:91، 12/12)

جب مدین والوں پر عذاب نازل ہوا تو اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کو محض اپنی رحمت اور فضل کی وجہ سے اس عذاب سے بچا لیا کہ بندے کو جو بھی نعمت ملتی ہے، وہ اللہ پاک کے فضل اور رحمت سے ملتی ہے۔

نتیجہ:اللہ پاک کے انبیاء کرام نے اپنی قوم کو شرک و بت پرستی کے ذِلت خیز اندھیرے سے نکال کر توحید پرستی کی روشنی اور نورِ ایمان سے منور کرنے کی، اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کی تمام تر کوششیں کیں، لیکن کئی قوموں نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور طغیانی اور سرکشی کی حدوں کو عبور کر دیا۔جس کے نتیجے میں ان پر عذابِ الٰہی کا نزول ہوا اور غضبِ پروردگار نے ان کو اپنے عقاب میں جکڑ دیا۔عذاب کی صورتیں اور ان کا سیاہ انجام مستقبل میں آنے والی اقوام کے لئے درس ِعبرت اور نشانِ خوف بن کر رہ گیا۔