سجدہ سہو واجب ہونے کی تعریف:

واجب ترک ہوگا تو سجدہ سہو واجب ہو جائے گا۔

(1) واجباتِ نماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے، تو سجدہ سہو واجب ہے۔

( در مختار، ج 2، ص600، اسلامی بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 129)

(2) جان بوجھ کر واجب ترک کیا تو سجدہ سہو کافی نہیں، بلکہ نماز دوبارہ لوٹانا واجب ہے۔

(ايضاً ، اسلامی بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 129)

(3) تعدیلِ ارکان بھول گیا، سجدہ سہو واجب ہے۔

( عالمگیری،بہار شریعت جلد اول حصہ4، صفحہ نمبر67)

(4)تعدیلِ ارکان مثلاً ( رکوع کے بعد کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا ہونا یا دو سجدوں کے درمیان ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔( عالمگیری، ج 1، ص128،اسلامی بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 130)

(5)قُنوت یا تکبیرِ قُنوت( یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراءَت کے بعد قُنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے ) وہ اگر بھول گئی، سجدہ سہو واجب ہے ۔

(ايضاً ص128، اسلامی بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 130)

(6)قراءَت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کا وقفہ گزر گیا، سجدہ سہو واجب ہو گیا۔ ( دار مختاری 2، ص688، اسلامی بہنوں کی نمازحنفی، صفحہ 131)

(7) فرض اور نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدہ سہو واجب ہے ۔( عالمگیری، بہار شریعت ، جلد اول، حصہ4 ، صفحہ نمبر66)

(8) عیدین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا یا زائد کہیں یا غیر ِمحل میں کہیں، ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔( عالمگیری،بہار شریعت ، جلد اول، حصہ4 ، صفحہ نمبر70)

(9) رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع یا کسی اپسے رُکن کو دوبارہ کیا، جو نماز میں مُکررمشروع نہ تھا یا کسی رُکن کو مُقدّم کیا یا مؤخر کیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

( عالمگیری، بہار شریعت ، جلد اول، حصہ4 ، صفحہ نمبر70)

(10) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل وتر کی کسی رکعت میں سورۃ الحمد ایک بھی آیت رہ گئی یا سورت سے پیشتر دو بار الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورہ فاتحہ پر مقدّم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا، پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیتیں پڑھ کر رکوع کیا، تو ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔

(در مختار، عالمگیری، بہار شریعت ، جلد اول، حصہ4 ، صفحہ نمبر66)