روزے کی قبولیت کے ذرائع 

Thu, 8 Apr , 2021
203 days ago

ٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ۔(پ2،البقرۃ:183)

توحید و رسالت کا اقرار کرنے اور تمام ضروریاتِ دین پر ایمان لانے کے بعد جس طرح ہر مسلمان پر نماز فرض ہے، اسی طرح رمضان شریف کے روزے بھی ہر مسلمان عاقل و بالغ پر فرض ہیں، دُرِّمختار میں ہے" کہ روزے 10 شعبان، 2 ہجری کو فرض ہوئے۔"

سُرخ یاقوت کا مکان :

امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عظیم ہے:"جس نے ماہِ رمضان کا ایک روزہ بھی خاموشی اور سکون سے رکھا، اس کے لئے جنت میں ایک گھر سُرخ یاقوت یا سبز زبرجد کا بنایا جائے گا۔( مجمع الزوائد، ج3، صفحہ 346)

جسم کی زکوٰۃ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور پر نور، شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پُرسُرور ہے:" ہر شے کے لئے زکوۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے اور روزہ آدھا صبر ہے۔"( سنن ابن ماجہ، ج2 ، صفحہ 347)

سونا بھی عبادت ہے:

حضرت سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مدینے کےتاجور، محبوبِ ربِّ اکبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ منور ہے:"روزہ دار کا سونا بھی عبادت اور اس کی خاموشی تسبیح کرنا اور اس کی دعا قبول اور اس کا عمل مقبول ہوتا ہے۔"( شعب ایمان، ج3، ص 415 )

روزہ کی اگرچہ ظاہری شرط یہی ہے کہ روزہ دار قصداً کھانے پینے اور جماع سے باز رہے، ایک مقام پر فرمایا:" صرف کھانے اور پینے سے باز رہنے کا نام روزہ نہیں، بلکہ روزہ تو یہ ہے کہ لغو اور بے ہودہ باتوں سے بچا جائے" مطلب یہ ہے کہ روزہ دار کو چاہئے کہ وہ روزے میں جہاں کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، وہاں جھوٹ، غیبت، چغلی، بدگمانی، الزام تراشی اور بدزبانی وغیرہ گناہ بھی چھوڑ دے کہ ان کے چھوڑنے پر ہی روزہ قبول ہوگا۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے روزوں کوقبول فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم