صفت کا لغوی معنی عادت، خوبی اور خاصیت ہے۔(فیروز اللغات، ص914) اور صفت کا لفظ انسان کی ہر عادت پر بولا جاتا ہے خواہ وہ اچھی ہو یا بُری مگر پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ گرامی ایسی ہے کہ آپ کی ہر ادا لاجواب ہے، قراٰن ِ پاک میں اللہ پاک نے سرکار علیہ السّلام کے اوصافِ حمیدہ کا کثیر مقامات پر ذکر فرمایا ہے ان میں سے 10 صفات ملاحظہ فرمائیں:

(1)خَاتَمُ النَّبِیّٖن اللہ پاک نے آپ علیہ السّلام کے وصفِ ختم ِ نبوت کو ذکر فرمایا جو کہ ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰) ترجَمۂ کنزُ الایمان: محمّد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ (پ22،الاحزاب:40)

(2)رَحْمَةٌ لِّلْعٰلَمِیْن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک وصفِ عظیم یہ ہے کہ آپ تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں اور تمام جہانوں میں انبیا و رُسل، فرشتے اور انسان، دنیا اور آخرت سب شامل ہیں۔﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔ (پ17،الانبیآء:107)

(3، 4)رَءُوْف اور رَحِیْم آپ کے دو عظیم وصف رَءُوْف اور رَحِیْم بھی قراٰنِ پاک میں بیان ہوئے ہیں:﴿لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔(پ11،التوبۃ:128)

(5)نبی اُمّی سیدُالمرسلین کی ایک صفت نبی اُمّی بھی ہے کہ آپ مخلوق میں، کسی کے شاگرد نہیں، ان کے رب نے ہی انہیں سب کچھ سکھایا ہے: ﴿اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘-ترجَمۂ کنزُ العرفان: وہ جو اس رسول کی اتباع کریں جو غیب کی خبریں دینے والے ہیں،جو کسی سے پڑھے ہوئے نہیں ہیں، جسے یہ (اہلِ کتاب) اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ (پ9،الاعراف:157)

(6)نرم دل حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نرم دلی تو ایسی کہ اللہ پاک فرماتا ہے: ﴿فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-ترجَمۂ کنزُالایمان: تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے۔(پ4،اٰل عمرٰن:159)

(7)حیا یہ بہت ہی عمدہ وصف ہے، اسے ایمان کا حصہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ کریم آقا علیہ السّلام کے اس وصف کو قراٰن یوں بیان فرماتا ہے: ﴿اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘- ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے۔ (پ22،الاحزاب:53) اس میں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صفتِ حیا کو بیان فرمایا ہے اور آپ سب سے زیادہ حیا فرمانے والے ہیں۔

(8، 9، 10)شاہد،مبشر، نذیر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم شاہد ہیں یعنی گواہ ہیں اور یہی معنی حاضر و ناظر کے ہیں اور آپ مبشر ہیں کہ ایمان والوں کو جنت کی خوشخبری دینے والے اور نذیر بھی ہیں کہ کافروں کو جہنم کے عذاب سے ڈر سنانے والے ہیں:﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۴۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔ (پ22، الاحزاب: 45)

ذات ہوئی اِنتِخاب وَصف ہوئے لاجواب

نام ہوا مُصطَفےٰ تم پہ کروڑوں درود

(حدائقِ بخشش،ص264)