ہمارے دین کامل اسلام میں جھوٹ بہت بڑا عیب اور بد ترین گناه ہے ۔ جو اللہ اور بندوں کے نزدیک بہت برا فعل ہے ۔جھوٹ خواہ زبان سے بولا جائے یا عمل سے ظاہر کیا جائے ۔ مذاق کے طور پر ہو یا بچوں کو ڈرانے یا بہلانے کے لئے ہر طرح سے گناه ہے ۔جھوٹ کا مطلب ہے : وہ بات جو واقعہ کے خلاف ہو۔ یعنی اصل میں وہ بات اس طرح نہیں ہوتی ۔جس طرح بولنے والا اسے بیان کرتا ہے ۔اس طرح وہ دوسروں کو فریب دیتا ہے ۔

حکیم الاُمَّت حضرت مفتی احمد یارخان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:جھوٹا آدمی آگے چل کر پکا فاسِق و فاجِر (یعنی گناہ گار)بن جاتاہے،جھوٹ ہزارہا (یعنی ہزاروں) گناہوں تک پہنچادیتا ہے۔ تجربہ بھی اسی پر شاہِد (یعنی گواہ)ہے، سب سے پہلا جھوٹ شیطان نے بولا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا:میں تمہارا خیرخواہ (یعنی بھلائی چاہنے والا)ہوں۔مزید فرماتے ہیں: (جھوٹا)شخص ہر قسم کے گناہوں میں پھنس جاتا ہےاور قدرتی طور پر لوگوں کواس کا اعتبار نہیں رہتا، لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ (مرآۃ المناجیح ،6/453)اس ضمن میں پانچ فرامینِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم درج ذیل ہیں:

(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا فسق و فجور (گناه) ہے اور فسق و فجور جہنم میں لے جاتاہے ۔ (صحیح مسلم، الحدیث: 2607)

(2) پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے۔ جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے۔ (صحیح بخاری: الحدیث: 33)

(3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ اللہ پاک کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے اور اللہ پاک کی نافرمانی جہنم کی آگ کی طرف لے جاتی ہے ۔بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک (کذّاب) یعنی بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔ (صحیح بخاری: الحدیث: 6094)

(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام عادتیں مؤمن کی فطرت میں ہوسکتی ہیں سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔ (مسند احمد: الحدیث: 22170)

(5) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو سے فرشتہ ایک یا دو میل دور ہو جاتا ہے ۔ (ترمذی: الحدیث:1972)

اے عاشقانِ رسول! اس میں کوئی شک نہیں کہ جھوٹ ہمارے معاشرے میں ایک وائرس کی طرح پھیلا ہوا ہے ۔ یقیناً جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے ، اگر کوئی جھوٹ سے بچنے کا پختہ ارادہ کر لے تو سچ بولنے کی برکت سے دیگر کئی گناہوں سے بھی بچ سکتا ہے ۔ جھوٹا شخص آخرت میں تو رُسوا ہوگا ہی لیکن اگر جھوٹ سے دنیا میں اس کا پردہ ہٹ جائے تو بھی ایسا شخص ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دیگر گناہوں کے ساتھ ساتھ جھوٹ کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے تمام گناہوں سے بچنے کی کوشش جاری رکھیں ۔ اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم