جھوٹ   كے معنی ہیں سچ کا الٹ۔

مثالیں: (1) کوئی چیز خریدتے وقت اس طرح کہنا کہ یہ مجھے فلاں سے اس سے کم قیمت میں مل رہی تھی حالانکہ واقع میں ایسا نہیں ہے۔(2)کسی کو یہ کہنا کہ فلاں تمھیں بلا رہا ہے حالانکہ اصل میں ایسا نہیں ہے۔(3)کسی کو کہنا کہ میرے پیپرز میں اتنے نمبر آئے ہیں جبکہ اصل میں بتائے جانے والے نمبرز سے کم آئے ہوں۔

حکم: جھوٹ بولنا گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس لیے ہمیں جھوٹ سے بھی بچنا چاہئے۔

جھوٹ کے متعلق قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے فرمایا ہے: ترجمہ کنزالایمان: اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا۔

یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔صدرالافاضل محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عذاب الیم مرتب ہوتا ہے۔اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھنا گناہ کبیرہ ہے۔

(1)فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی اور پر جھوٹ باندھنے جیسا نہیں لہٰذا جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔( مسلم،ص12،حدیث:4)

(2)حضور ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: جھوٹ سے بچو کہ آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔( مسلم،ص 1008،حدیث: 2607)

(3)آقائے دوجہاںﷺ کا فرمان ہے:جھوٹ نفاق کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے۔(مساوی الاخلاق للخرائطی،ص 68،حدیث:111)

(4)محبوبِ رب غفارﷺ کا ارشاد ہے:جھوٹ رزق کو تنگ کر دیتا ہے۔( مساویٔ الاخلاق للخرائطی،ص70،حدیث:117)

(5)رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسائے اس کے لئے ہلاکت ہے اس کے لئے ہلاکت ہے۔( سنن ابی داود،4/ 387،حدیث:4990)

تين صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی گناہ نہیں: (1)جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکہ دینا جائز ہے۔(2) دو مسلمانوں میں اختلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صلح کرانا چاہتا ہو۔ (3) زوجہ کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خلاف واقع کہہ دے۔

جھوٹ میں مبتلا ہونے کے بعض اسباب:1: مال کی حرص کہ خريدوفروخت ميں رقم بچانے یا زیادہ مال کمانے کے لئے جھوٹ بولنا عام پایا جاتا ہے۔2: مبالغہ آرائی بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی عادت۔3:حب مدح یعنی اپنی تعریف کی خواہش ایسے لوگ اپنی واہ واہ کے لیے جھوٹے واقعات بیان کرتے رہتے ہیں۔ ضرورت کی بات کیجیے اور بے جا بولتے رہنے کی عادت سے چھٹکارہ حاصل کیجیے اور بولنے سے پہلے سوچنے کی عادت بنائیے۔

اللہ کریم ہمیں جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھے۔ہمیں باعمل بنائے اور علم دین سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ جھوٹ جیسے دوسرے باطنی اور ظاہری امراض سے بچنے کی توفیق عطا ہو۔