جھوٹ ایسی بری چیز ہے کہ ہر مذہب والے اس کی برائی کرتے ہیں،تمام ادیان میں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ جھوٹوں پر اللہ پاک نے لعنت فرمائی ہے۔ اور اس پر دردناک عذاب ہے۔

آیت مبارکہ کا ترجمہ: ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ تو اللہ نے ان کی بیماری میں اور اضافہ کر دیا اور ان کے لیے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔ (صراط الجنان،پ 1،البقرة،تحت الآیۃ:10،جلد 1)

حضور ﷺ نےکبھی جھوٹ نہیں بولا ہمیشہ سچ بولا۔ دشمن بھی آپ کو صادق کہہ کر پکارتے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

سچی بات سکھاتے یہ ہیں سیدھی راہ دکھاتے یہ ہیں

مسلمانوں کو بھی اپنے پیارے نبی کی ادا کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے،جھوٹ بولنا منافق کی نشانی ہے۔ حدیث پاک میں ہے،بے شک جھوٹ بولنا منافقت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔(مساوی الاخلاق للخرائطی،1/117،حدیث: 157)

گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ہائے ! میں نار جہنم میں جلوں گا یا رب!

جھوٹ کی تعریف:وہ واقعہ یا قول جو حقیقت کے خلاف ہو۔

صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ سے پوچھا گیا،کیا مومن بزدل ہوتا ہے ؟ فرمایا: ہاں پھر کہا گیا،کیا مومن کذاب ہوسکتا ہے ؟ فرمایا نہیں۔ (الموطا،ص 468،حدیث : 1913)

سب سے پہلے جھوٹ:سب سے پہلے جھوٹ شیطان نے بولا۔ (مدنی مذاکره،4 ذوالحجۃ الحرام 1435)

احادیث :

(1)امام احمد و بیہقی نے ابواما مہ سے روایت کی ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : مومن کی طبع میں تمام خصلتیں ہو سکتی ہیں لیکن خیانت اور جھوٹ نہیں۔

شرح:یعنی یہ دونوں چیزیں ایمان کے خلاف ہیں۔مومن کو ان سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔

(2)صحیح بخاری و مسلم میں ام کلثوم سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جولوگوں کے درمیان میں اصلاح کرتا ہے اچھی بات کہتا ہے اور اچھی بات پہنچاتا ہے۔( صحیح مسلم،ص1404،حدیث: 2605)

شرح : ایک کی طرف سے دوسرے کے پاس اچھی بات کہنا جو بات اس نے نہیں کی وہ کہتا ہے۔تمہاری تعریف کرتا تھا۔

(3) امام احمد نے حضرت ابو بکر سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ ایمان سے مخالف ہے۔ (مسند امام احمد،1/22،حدیث:16)

شرح :جھوٹ ایمان دونوں متضاد ہیں۔ اس لیے بچنے کا حکم دیا۔

(4) ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی کہ رسول نے فرمایا:جب بندہ جھوٹ بولتا ہے اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہو جاتا ہے۔(سنن الترمذی،3/400،حدیث:2000)

(5)ترمذی نے حضرت اسماء بنت یزید سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جھوٹ بولنے کی وجہ سے انسان کے منہ سے سخت بو نکلتی ہے فرشتہ ایک میل یعنی زیادہ فاصلے پرچلا جاتا ہے جھوٹ کہیں ٹھیک نہیں مگر تین جگہوں میں:1۔مرد اپنی عورت کو راضی کرنے کے لیے بات کرے اور 2۔لڑائی میں جھوٹ بولنا،3۔ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔(سنن الترمذی،3/377،حدیث 1960)

شرح:ان تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے۔گناہ نہیں۔

جھوٹ کی مثالیں:کسی کے بارے میں کہنا کہ جھوٹ بول رہاہے جبکہ وہ سچا ہو۔ بھوکا ہونے کے باوجود من پسند چیز نہ ملنے پر کہنا کہ بھوک نہیں۔ اگر کسی کے گھر ایک مرتبہ آیا اور کہا ہزار مرتبہ آیا تو جھوٹ ہے۔ شور کرنے کے باوجود کہنا کہ شور نہیں کر رہا تھا۔

معاشرتی نقصانات :جھوٹ بولنے سے دوسروں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہےبندہ ہمیشہ ٹینشن میں رہتا ہے۔ معاشرے کا امن برباد ہو تاہے۔ لوگوں میں جھوٹا مشہور ہو جاتا ہے۔ جھوٹ گناہوں میں ڈال دیتا ہے لہٰذا جھوٹ سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جھوٹ کے خلاف اعلان جنگ ہے۔