انبیاء کرام علیہم السلام کائنات کی وہ عظیم ترین اورجگمگاتی شخصیات ہیں جنہیں اللہ پاک نے وحی کے نور سے منور فرمایا انہیں اپنا سب سے مقرب و برگزیدہ بندہ بنایا ان میں سے کچھ کو کتابیں اور صحیفے بھی عطا فرمائے اس کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کو بے شمار اوصاف و کمالات سے ممتاز فرمایا اور ان میں سے بعض کا تذکرہ قرآن پاک میں بھی فرمایا انہی میں سے ایک حضرت اسحاق علیہ السلام بھی ہیں۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آپ کا ذکر خیر فرمایا چنانچہ آپ بھی پڑھیے اور علم و عمل میں اضافہ کیجئے۔

آپ علیہ السلام کانام اسحاق، والد کا نام ابراہیم ہے (روح البیان) اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بڑھاپے میں ان کی دعا سے عطا فر مایا اور ولادت کے ساتھ ہی نبوت کی خوشخبری سنائی جیسا کہ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں ۔(پ 23 الصافات 112) بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے تمام انبیاء کرام علیہم السلام آپ کی ہی نسل سے پیدا ہوئے۔

اوصاف: حضرت اسحاق علیہ السلام کثیرعمدہ صفات اور اعلیٰ اوصاف کے حامل تھے ۔

(1) چنے ہوئے بندے: آپ علیہ السلام الله پاک کے خاص چنے ہوئے مقرب اور برگزیده بندے تھے اللہ پاک نے آپ کے اس وصف کو یوں بیان فرمایا: وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک وه (اسحاق) ہمارے نزدیک چنے ہوئے پسندیدہ ہیں۔ (پ 23 ص47)

(2) کثرت سے ذکر آخرت کرنا: آپ علیہ السلا م لوگوں کو آخرت سے ڈراتے، کثرث سے ذکر آخرت کرتے اور لوگوں میں خوفِ خدا پیدا کرتے تھے اللہ پاک آپ علیہ السلام کے اس وصف کو یوں بیان فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46) ترجمہ کنزالایمان: بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔ (پ 23 ص 46)

(3) سچی بلند شہرت:اللہ پاک نے آپ علیہ السلام سچی بلند شہرت و ناموری عطا فرمائی اور بعد والی امتوں میں آپ کا ذکر خیر باقی رکھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠(50)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔(پ 16 مریم 50)

اللہ پاک ہمیں انبیاء کرام علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور ان کے اوصاف کو اپنا نے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔