جب ایک عاشقِ رسول کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مسکراہٹ و تبسم کی بات کی جاتی ہے، تو اس کے سینے میں موجود دل جھومنے لگتا ہے، آئیے! پہلے تبسم کی تعریف ملاحظہ کیجئے، پھر آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تبسم مبارک کا ذکر کیا جائے گا۔

تبسم کی تعریف

تبسم سے مراد وہ ہنسی جس میں صرف دانت ظاہر ہوتے ہیں، آواز پیدا نہیں ہوتی۔(مراۃالمناجیح)

1۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہ دیکھا، گویا آفتاب آپ کے چہرے میں رواں تھا، جب ہنستے تھے، دیواریں روشن ہو جاتیں۔( جامع الحدیث، جلد 5، حدیث نمبر 3244)

بہارِ خلد صدقے ہو رہی ہیں روئے عاشق پر کھلی جاتی ہیں کلیاں دل کی تیرے مسکرانے سے (ذوقِ نعت )

2۔حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زیادہ تبسم فرمانے والا کسی کو نہ دیکھا۔( مراۃ المناجیح، جلد 6، باب فی ضحک)

رحمتِ عالم سرہانے مسکراتے آئیے جاں بلب ہوں آگیا اب وقتِ رحلت یا رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم( وسائل بخشش )

3۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو منہ کھول کر اس طرح ہنستے نہ دیکھا کہ آپ کے منہ کا اندرونی حصّہ( کوا) نظر آئے، آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے ۔ (ریاض الصالحین، باب الوقار دارالسکینہ، حدیث نمبر 702)

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑے اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش)

4۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مسکراتے تو درودیوار روشن ہو جایا کرتے تھے۔(مصنف عبد الرزاق، 242/10، حدیث 20657)

اک بار مسکرا کر مجھے دیکھ لیجئے دم توڑ دوں گا قدموں میں وارفتگی کے ساتھ( وسائل بخشش )

5۔حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہفرماتےہیں:حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہنسی مبارک صرف تبسم ہوا کرتی تھی۔ (شمائل ترمذی، باب ما جاء فی ضحک رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)یعنی تبسم فرمایا کرتے، کبھی قہقہہ نہ لگاتے ۔

یا الٰہی جب بہیں آنکھیں حسابِ جرم میں ان تبسم ریز ہونٹوں کی دعا کا ساتھ ہو( حدائقِ بخشش)