اللہ پاک نے بہت ہی محکم انداز میں اس کائنات کو رچایا اور بسایا ۔اس کائنات میں جن و انس کی خلقت فرمائی اور ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ جاری فرمایا۔ رسولوں کی آمد کا یہ سلسلہ آخری نبی جناب محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بعثت کے ساتھ منقطع ہوگیا، تو اللہ  نے انبیاء کرام کے مشن کو انجام دینے کے لئے علمائے کرام کی جماعت تیار فرمائی ۔ علمائے کرام حقیقی معنوں میں سماج و معاشرے کی اصلاح کے اولین ذمہ دار اور انسانیت کے حقیقی خیر خواہ ہیں۔ غرضیکہ علمائے کرام کی قدر و منزلت رفعت و شانی اور بلند مکانی کے بیان سے کتاب و سنت کے نصوص بھرے پڑے ہیں۔

یہاں چند فضائل کو ذکر کرنے کی سعادت حاصل کروں گا کیونکہ موجودہ دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف لوگ علمائے کرام کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کی تنقیص کر رہے ہیں ۔ بہر حال آگے چلتے ہیں اور فرامینِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سنتے ہیں اور اپنے سینے کو علماء کرام کی اہمیت سے معمور کرتے ہیں۔

(1) إِنَّ الْعلما َ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ. وَرَّثُوا الْعِلْمَ. مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ، وَمَنْ سَلَکَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا، سَهَلَ اﷲُ لَهُ طَرِيقًا إِلَي الْجَنَّةِ ترجمہ:امام بخاری نے کتاب العلم میں ترجمۃ الباب کے تحت بیان کیا ہے: بے شک علما، انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کے وارث ہیں۔ انہوں نے میراثِ علم چھوڑی ہے۔ پس جس نے اس (میراثِ علم) کو حاصل کیا، اس نے بہت بڑا حصہ پا لیا۔ جو آدمی علم کی تلاش میں کسی راہ پر چلتا ہے، اللہ تعاليٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔(البخاری فی الصحيح، کتاب العلم، باب العلم، قبل القبول، 1/ 37)

(2) قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: يُوْزَنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِدَادُ الْعلما وَدَمُ الشُّهَدَاءِ فَيَرْجَحُ مِدَادُ الْعلما عَلَی دَمِ الشُّهَدَاءِ. ترجمہ: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: روز قیامت علما کے قلم کی سیاہی اور شہداء کے خون کو تولا جائے گا تو علما کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے زیادہ وزنی ہو جائے گی۔( الديلمي في مسند الفردوس، 5/ 486، حدیث: 488)

(3) قال النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم من خرج فی طلب العلم کان فی سبیل اللہ حتی یرجع ترجمہ: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حصول علم کے لئے نکلا وہ اس وقت تک اللہ کی راہ میں ہے جب تک کہ وہ واپس نہیں لوٹ آتا۔

(4) من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین ترجمہ : اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری)

(5) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں کے ادنیٰ پر پھر فرمایا اللہ پاک اور اس کے فرشتے آسمان اور زمین والے حتیٰ کہ چیونٹی اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں عالم کے لئے خیر اور بھلائی کی دعا کرتی ہیں۔( ترمذی ،حدیث:2686)

احادیث میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے واضح انداز میں علما کی فضیلت کو بیان کیا ہے اور ان کی ناقدری کرنے والوں، ان کی توہین کرنے والوں اور ان سے بغض رکھنے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں ذکر کی ہیں۔ کاش، کاش، کاش علمائے کرام سے ہمیں سچی محبت نصیب ہو جائے اور ہمارا بیڑا دین و دنیا میں پار ہو جائے۔

ہم کو اے عطار سنی عالموں سے پیار ہے

اِنْ شَآءَ اللہ دو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہے