(1) حدیث پاک میں آتا ہے: عالم بنو یا طالب علم بنو یا علما کو سننے والے بنو، یا ان سے محبت کرنے والے بنو پانچویں نہ بننا ہلاک ہو جاؤ گے۔

(2) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :فرشتے طلب علم سے خوش ہو کر اپنے پروں کو ان کے لئے بچھاتے ہیں اور زمین و آسمان میں جتنی چیزیں ہیں اس کے لئے استغفار کرتی ہیں حتی کہ پانی میں مچھلی بھی۔

(3) علما، انبیاء کرام کے وارث ہیں۔ انبیاء کرام نے وراثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے اپنی میراثِ علم چھوڑی۔ پس جس نے اس (میراثِ علم) کو حاصل کیا اس نے بہت بڑا حصہ پالیا۔

(4) عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تمھارے ادنیٰ پر ۔

(5)رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:دو حریص آسودہ نہیں ہوتے ایک علم کا حریص کہ علم سے کبھی اس کا پیٹ نہیں بھرے گا اور ایک دنیا کا لالچی کہ یہ کبھی آسودہ نہیں ہوگا۔