اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ(۱۸) ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہو کر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا ۔(پ3،اٰل عمران: 18)

اس آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے اس بات کی گواہی دینے کے بعد کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اپنے اس گواہی کے ساتھ ساتھ فرشتوں اور اہل علم کی گواہی کو ملایا ہے۔ یقیناً اس میں اہل علم کے خصوصیتِ عظیمہ کا بیان ۔ اس کے علاوہ بھی قرآن پاک میں کئی مقامات پر علما کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بکثرت احادیث مبارکہ میں بھی علم کے فضائل اور علما کی شان بیان کی گئی ہے۔ آئیے اس ضمن میں پانچ فرامین مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سنئے اور جھومئے۔

(1) جو شخص علم کی طلب میں کسی راستے پر چلے ،اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دے گا۔( مسلم ،ص 1447، حدیث:2699)

(2) جو شخص طلبِ علم کے لئے گھر سے نکلا تو جب تک واپس نہ ہو اللہ پاک کی راہ میں رہتا ہے۔( ترمذی،4/294، حدیث:2656)

(3) اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔(بخاری، 1/42،حدیث:71)

(4) علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔(ابن ماجہ ،1/46،حدیث:224)

(5)سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ایک فقیہ( یعنی عالم دین) شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔( ترمذی)