پیارے اسلامی بھائیو ! اسلام مکمل نظام حیات ہے اور اسلام کا دارو مدار اور ساری رونق علما سے ہی ہے کیونکہ علما ہی وہ شخصیت ہے ،جو اسلام کے تعلیم کو لوگوں تک پہونچا نے میں کوشاں ہیں  یہ وہ شخصیت جنکی فضیلت خود اللہ پاک اوراس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بیان فرمائی۔ اللہ پاک نے فرمایا:قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- ترجمۂ کنز العرفان: تم فرماؤ: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں ؟ ۔(پ 23 ،زمر : 09)اس آیت میں اللہ پاک نے علم والوں کو بے علموں پر ممتاز کیا۔اور ارشاد فرمایا :اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(پ 22،فاطر:28)

اللہ پاک نے فرمایا:یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ ترجمۂ کنزالایمان: اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔(پ 28، مجادلہ : 11)

ایک مرتبہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے دو آ دمیوں کا ذکر ہوا ایک عالم اور دوسرا عابد آ پ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادنکم (عالم کی فضیلت عابد ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں ادنی پر) (فیضان علم وعلما ص 13)اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت : عالم ینتفع بہ خیر من الف عابد (عالم جس سے فائدہ اٹھا یا جائے ہزارعابد سے بہتر ہے ) (علم و علما ص 90 )

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : عالموں کی عزت کرو اسلئے کہ وہ انبیاء کے وارث ہیں تو جس نے ان کی عزت کی تحقیق کے اس نے اللہ و رسول کی عزت کی۔ (فیضان علم و علما ص 73 )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیشک فتنہ اٹھے گا تو عبادت کے محل کو پوری طرح ڈھادے گا اور عالم اپنے علم کے سبب اس فتنہ سے نجات پالے گا ۔( فیضان علم و علما ص 73)

ترمذی کی حدیث میں ہے : تحقیق اللہ اور اس کے فرشتے اور سب زمین والے اور آسمان والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنی سوراخ میں یہاں تک کہ مچھلی یہ سب درود بھیجتے ہیں علم سکھانے والے پرجو لوگوں کو بھلائی سکھاتاہے ۔(فیضان علم و علما ص 19)

پیارے اسلامی بھائیو ! آ پ نے پڑھا کہ اللہ پاک نے علما کو خوف خدا ولاً اور مؤمن میں بلند درجے والا فرمایا اور علم والوں کو بے علم پر فضیلت دی اسی طرح ہمارے آ قا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے علما کو انبیاء کرام کا وارث اور عالم جس سے فائدہ اٹھا یا جائے اسے ہزار عابد سے افضل فرمایا اور ہمیں چاہیے کہ علم سیکھے اور دوسروں کو سکھائیں اس پر فتن دور میں جوعالم ہے وہی اپنے علم پر عمل کر کے گناہوں سے بچا ہوا ہے ورنہ تو لوگ لاعلمی کی وجہ سے طرح طرح کے گناہ، غیبت، چغلی خوری ،زناکاری، قصداً نماز چھوڑنا اور دیگر ترکِ فرائض واجبات جیسی خدا کی نافرمانیوں میں مبتلا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو فرض علوم سیکھنے کی توفیق عطافرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم