ایمان کے بعد ایک مسلمان کے لئے اہم چیز علم ہے کیونکہ علم عبادت کی جڑ ہے اور اسی پر اعمال کا دارومدار ہے، علم کی اہمیت کا اندازہ معلم کائنات صلی اللہ  علیہ وسلم کے اس فرمان عالیشان سے کیا جا سکتا ہے:طلب العلم فريضة على كل مسلم و مسلمہ ترجمہ: علم کا طلب کرنا ہر مسلمان مرد اورعورت پر فرض ہے۔(مشکوٰة شریف ص 34 مجلس برکات)

جناب رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے کیونکہ علم کے بغیر عمل کرنے والے کے اعمال بسا اوقات بجائے درستی اور ثواب کے خراب اور باعث عذاب بن جاتے ہیں صحیح طریقے سے عبادت بجا لانے کے لئے پہلے علم حاصل کرنا لازم و ضروری ہے۔

اللہ اور اسکے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نزدیک علم،اور صاحب علم کابھی مقام و مرتبہ نہایت ہی بلند و بالا ہے۔ علماکے فضائل و مراتب کے حوالے سے جابجا قرآن و احادیث میں نصوص وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- ترجمہ: کنزالعرفان : کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں ؟۔(پ 23 ،زمر : 09)

اسی طرح علم کی اہمیت پر کثیر آیات مبارکہ قرآن مقدس میں موجود ہیں جو کہ علما کے قدر ومنزلت پر دال ہے۔علما ئے دین کے فضائل و مراتب کے حوالے سے پانچ فرامین مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تحریر کیے جاتے ہیں۔

(1)حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: عالم دین کے لئے آسمان اور زمین کی چیزیں اور مچھلیاں پانی میں دعائے مغفرت کرتی ہیں۔(مشکٰوة شریف ص 34 مجلس برکات (

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سارے جہان کا عالم کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا سبب یہ ہے کہ جہان کی درستگی علم دین کی برکت سے ہے اہل جہان کی تمام چیزوں میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کی درستگی اور جس کا وجود و بقا علم کی برکت سے نہ ہو۔(اشعۃ اللمعات، مترجم ص495،فرید بک سٹال لاہور)

(2)حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا۔ایک عبادت گزار کا دوسرے عالم دین کا تو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ آدمی پر ۔ (مشکٰوة شریف ص 34 مجلس برکات (

محل غور ہے کہ اس حدیث شریف میں کس قدر عابد پر عالم کی فضیلت و شان کا اظہار ہے کہ جب حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام انبیا و رسل سے افضل ہیں تو ایک ادنیٰ آدمی پر آپ کی فضیلت کس قدر ہو گی۔

(3) روایت ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ بڑا سخی کون ہے عرض کیا اللہ و رسول جانیں فرمایا اللہ بڑا جوّاد ہے پھر اولاد آدم میں، میں بڑا سخی داتا ہوں اور میرے بعد بڑا سخی وہ شخص ہے جو علم سیکھے پھر اسے پھیلائے وہ قیامت میں اکیلا امیر یا فرمایا ایک جماعت ہو کر آئے گا۔(مشکٰوة شریف ص 36 مجلس برکات(

مفسیر شہیر حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں کہ یہاں رتبہ کے بعدیت مراد ہے نہ کہ زمانہ کی،لہذا اس میں صحابہ کرام اور تاقیامت علماء داخل ہیں،یعنی میری سخاوت کے بعد عالم دین کا درجہ ہے کہ مال کی سخاوت سے علم کی سخاوت افضل ہے اور کیوں نہ ہو کہ حضور ابر رحمت ہیں،علمائے دین اس کا تالاب۔خیال رہے کہ علماء کی سخاوت میں علم کی قید ہے حضور کی سخاوت بے قید،علم پھیلانا خواہ درس تدریس کے ذریعہ ہویا تصنیف کے ذریعہ۔ (مرآةالمناجیح، ص 204 نعیمی کتب خانہ گجرات(

دور حاضر میں وہ امراء جو مسجد میں کچھ روپیے پیسے دان کرتے ہیں اور زکوٰۃ کا تھوڑا سا مال غریبوں کو تقسیم کرتے ہیں تو اپنے آپ کو بہت بڑا سخی سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد سب سے بڑاسخی عالم دین ہے۔

(4)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔ (مشکٰوة شریف ص 34 مجلس برکات)

ایک ایسا عالم دین جو لوگوں کو اپنے علم کے ذریعے نفع پہنچاتا ہے وہ اس عابد سے زیادہ مقام و مرتبہ میں بلند ہے جو رات کی تنہائی میں اللہ اللہ کی ضربیں لگاتا ہے، کیونکہ ایک عابد کا فائدہ اپنی ذات تک ہی محدود و مقید رہتا ہے جبکہ عالم کا دوسروں تک متعدد ہوتا ہے۔

(5) غیب کی خبریں دینے والے نبی جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب قیامت کے دن اللہ پاک عابدوں اور مجاہدوں سے فرمائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ تو علما عرض کریں گے ہمارے علم کے طفیل وہ عابد اور مجاہد بنے (وہ جنت میں گئے اور ہم رہ گئے) اللہ پاک ارشاد فرمائے گا تم میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں کی طرح ہو تم شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہوگی ہے، وہ شفاعت کریں گے پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔(احیاء العلوم مترجم ،1/60 مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی(

سبحان اللہ واقعی اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نزدیک علمائے کرام کا بہت بڑا مقام و مرتبہ ہے۔ جس طرح وہ دنیا میں لوگوں کی دینی اور دنیاوی معاملات میں رہنمائی کرتے ہیں بروز حشر بھی رہنمائی کریں گے۔لیکن مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ہے جو علما کے فضائل سے ناواقف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان میں اکثروبیشتر علما کی صحبت سے محروم رہتے ہیں اور ان سےدور بھاگتے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہیں جوکہ بلاوجہ علماسے بغض و عناد رکھتے ہیں اور اپنی عاقبت برباد کرتے ہیں۔

اللہ کریم ہمیں علما کی قدر و منزلت سے آشنا ہونے اور ان کا ادب و تعظیم بجا لانے اور ان کی شان میں توہین کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم رکھے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم