حضرت شعیب علیہ السلام کے قبیلے کا نام مدین ہے۔(پارہ 7،  آیت نمبر 58)

حضرت شعیب علیہ السلام کے قوم کے متکبر سردار اُن کی نصیحتیں سن کر کہنے لگے:اے شعیب!ہم قسم کھاتے ہیں کہ ہم ضرور تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے، اِن کی قوم کے سرداروں کی بے ادبی اِن کی ہلاکت کا سبب بنی، کافر سرداروں نے حضرت شعیب علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا:"کہ تم ہمارے دین میں لوٹ آؤ۔"

کافروں نے عوام کو شک و شبہ میں ڈالنے کے لئے اِس طرح کلام کیا، تا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ آپ علیہ السلام پہلے ان کے دین و مذہب پر ہی تھے۔(پارہ 7، آیت نمبر 88)

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کا جواب سُن کر اِن سے فرمایا تھا کہ :"کیا ہم تمہارے دین میں آئیں، اگرچہ ہم سے بیزار ہوں؟اس پر انہوں نے کہا:ہاں، اس پر آپ علیہ السلام نے کہا:اللہ پاک نے تمہارے باطل دین سے ہمیں بچا ہوا ہے اور تمہارے باطل دین کے فساد کا علم دے کر مجھے شروع سے ہی کُفر سے دور رکھا۔" جب حضرت شعیب علیہ السلام کو اپنی قوم کے ایمان لانے کی اُمید نہ رہی تو آپ علیہ السلام نے یوں دعا فرمائی:اے ہمارے ربّ! ہم میں اور ہماری قوم میں حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔"(پارہ 7، آیت 89)

جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی گمراہی اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور ہر طرح سے سمجھانے کے باوجود بھی یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو ان پر اللہ پا ک کا عذاب نازل ہوا۔(پارہ 7، آیت 91)

حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تو آپ علیہ السلام نے ان سے منہ پھیر لیا اور قوم کی ہلاکت کے بعد جب آپ ان کی بے جان نعشوں پر گزرے تو ان سے فرمایا:"اے میری قوم!بے شک میں نے تمہیں اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیئے تھے۔"