حضرت شعیب علیہ السلامکی قوم کی نافرمانیاں

*حضرت شعیب علیہ السلامکا تعارف:

آپ علیہ السلامکا نام، "شعیب" ہے- اور حسن بیان کی وجہ سے آپ کو، "خطیب الانبیاء" کہا جاتا ہے –

شعیب علیہ السلامکی بعثت

اللہ پاک نے آپ علیہ السلامکو دوقوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا –

١)اہل مدین

٢)اصحاب الایکہ

١)قوم مدین کا تعارف اور نافرمانیاں :-

یہاں مدین سے مراد وہ شہر ہے جس میں رہنے والوں کی طرف حضرت شعیب علیہ السلامکو رسول بنا کر بھیجا گیا – تاکہ آپ علیہ السلامانہیں توحید ورسا لت پر ایمان لانے، ناپ تول میں کمی نہ کرنے اور دیگر گناہوں سےبچنے کی دعوت دے کر راہِ راست پر لائیں – پر قوم مدین مسلسل نافرمانیاں کرتی رہی گناہوں سے باز نہ آئی حضرت شعیب علیہ السلاماپنی قوم کوعذاب الٰہى سے ڈراتے اور اللہ پاک کی نافرمانیوں سے روکتے – اور اپنی قوم کوبتا تےکہ پچھلے قوموں کی نافرمانیاں کرنے کی وجہ سے اللہ پاک نے ان پر کیسے عذاب نازل فرمائے، اور کہتے کہ بیشک میرا رب اپنے ان بندوں پر بڑا مہربان ہے جو توبہ و استغفار کرتے ہیں – اور اہل ایمان سے محبت فرماتے ہیں –

پر وہ سرکش قوم نافرمانیاں کرنے سے باز نہیں آرہی تھی – تب اللہ پاک نے اس قوم کی ہولناک چیخ اور زلزلے کے عذاب سے گرفت فرمائی اور یہ قوم ہلاک ہو گئ۔

قوم مدین کے گناہ اور نا فرمانیاں :

اہل مدین کے گناہوں اور جرائم کی ایک طویل فہرست ہے – ان میں سے چند گناہ یہ ہیں

١)اللہ کی وحدانیت کا انکار کر نا –٢)بتو ں کی پوجا کرنا –٣)نعمتوں کی ناشکری کرنا ٤)ناپ تول میں کمی کرنا-٥)لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا-٦)قتل وغارت گری اور دیگر گناہوں کے ذریعے زمین میں فساد کرنا-٧)ڈاکے ڈال کر لوگوں کامال لوٹ لینا-٨)غریبوں پر ظلم کرنا –

٩)مسلمانوں کا مذاق اڑانا-١٠)نماز پڑھنے والوں اور اہل علم پر طنز کرنا-١١)لوگوں کو شعیب علیہ السلامسے دور کرنا –اور پھر اللہ پاک نے آپ علیہ السلامکو دوسری قوم کی طرف بھیجا "اصحاب الایکہ "

اصحاب الایکہ قوم کا تعارف اور نافرمانیاں :

جنگل اور جھاڑ کو ایکہ کہتے ہیں ان لوگوں کا شہر چونکہ سرسبز جنگلوں اور مرغزاروں کے درمیان تھا اس لئے انہیں قرآن پاک میں "اصحاب الایکہ " یعنی جھاڑی والے فرمایا گیا – اہل مدین اور اصحاب الایکہ دونوں قومیں چونکہ بین الاقوامی شاہراہ کے قرب و جوارمیں آباد تجارت پیشہ تھیں اور اس لیے دونوں قومیں ایک ہی طرح کے گناہوں میں مبتلاتھی –

جیسے:-

کفر و شرک کے علاوہ ناپ تول میں کمی کرناتھا-

یہ قوم بھی اہل مدین کی طرح اللہ پاک کی نافرمانیاں اور دیگر گناہوں سے باز نہیں آئی آپ علیہ السلامنے اس قوم کو بھی ایمان کی دعوت دی پر یہ قوم آپ علیہ السلامکو جھوٹا کہتی اور اس قوم کے لوگ آپ علیہ السلامکو کہتے ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادو اگر تم سچے ہو – جب اصحاب الایکہ کسی طرح بھی ایمان نہیں لائے اور اپنی بداعما لیوں کو ترجیح دی تو اللہ پاک نے اس قوم پر عذاب نازل فرما دیا یعنی بادل کا ایک ٹکڑا بھیجا جو شامیانے کی طرح پوری بستی پر چھا گیا اور اس کے اندر ٹھنڈک اور فرحت بخش ہواتھی – یہ دیکھ کر سب گھروں سے نکل کر اس بادل کے شامیانے میں آگئے جب تمام لوگ اس کے نیچے آگئے تو اچانک زلزلہ آیا اور اس بادل سے آگ برسنے لگی جس میں سب کے سب ٹڈیوں کی طرح تڑپ تڑپ کر جل گئے،ان لوگوں نے چونکہ کہا تھا کے اے شعیب ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دواس لئےوہی عذاب اس صورت میں اس سرکش قوم پر آگیا اور سب جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے-

اہم باتیں ملا حظہ ہو:-اہلِ مدین اور اصحاب الایکہ کفر و شرک کے علاوہ جس بنیادی گناہ کے سبب مبتلا ئے عذاب اور رسوائے زمانہ ہوئے وہ ناپ تول میں کمی کرنا تھا –انتہائی افسوس کہ یہی گناہ فی زمانہ ہمارے معاشرے کا بھی ایک ناسور بن چکا ہے - جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے ۔

{سیرت الانبیاء کتاب}(صفحہ نمبر :504 )