حدیث پاک میں ہے مَن تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عِندَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلَہٗ اَجرُ مِئَۃِ شَھِیدٍ....

جس آدمی نے فساد کے دور میں میری سنّت پر عمل کیا اور مضبوطی سے تھاما اس کو اللہ اجر عطا فرمائےگا سو شہیدوں کا اجر....

اب بعض لوگ غلط فہمی کیا رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالی کی راہ میں جا کر جہاد کریں اور ہماری جان اللہ تعالی کی راہ میں چلی جائے تو ہم شہید ہونگے۔مگر ایک ہی ہونگے اور اگر خدا کی راہ میں جہاد اور قتال کر کے شہید نہ ہوں اپنے علاقے میں عمل سے مردہ سنتوں کو زندہ کرتے رہے تو ایک سنت کو زندہ کرنے کا سو شہیدوں کا اجر ملےگا....سبحان اللہ....

(١)حدیث پاک میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا.... جس کسی کو راہ خدا میں زخم لگا وہ روز قیامت ویسا ہی آئے گا جیسا زخم لگنے کے وقت تھا اس کے خون میں خوشبو مشک کی ہوگی اور رنگ خون کا....اس کو بخاری نے روایت کیا ہے

(٢)حدیث پاک میں ہے: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ شہید کو قتل سے تکلیف نہیں ہوتی مگر ایسی جیسے کسی کو کوئی خراش لگے....یہ ترمذی شریف کی روایت ہے۔

(٣)حدیث پاک میں ہے: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : شہید کے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتی ہیں سوائے قرض کے...یہ مسلم شریف کی روایت ہے۔

(٤)حدیث پاک میں ہے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ جنّت میں جانے کے بعد شہید یہ تمنّا کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے اور دس بار اللہ عزوجل کی راہ میں قتل کیا جاؤں۔ یہ مسلم شریف کی روایت ہے