ربِّ کریم کا اپنےبندوں پر یہ فضل و اِحسان ہے کہ مسلمان جس دن یا جس رات کو بھی ذکرِ الہٰی اور عبادت و طاعت کی بجاآوری میں  بسر کریں، وہ بارگاہِ صمدیت میں محمودقرارپاتی ہے۔ لیکن بعض ایام اور راتیں ایسی ہیں جن میں خصوصیت کے ساتھ نیک اَعمال کرنے کی ترغیب شریعتِ مطہرہ میں موجودہے اور اِس پر خاص اِنعاماتِ رَبانی اور بارگاہِ الہٰی سے اپنےبندوں کے لئے بخشش ومعافی کی بِشارتیں خودسراجِ مُنیر،رسولِ بشرﷺنے سُنائی ہیں۔اُنہیں عظمت والی راتوں میں سےایک رات شعبان المعظَّم کی نصف رات ہےجسے’’شبِ براءَت‘‘ کہاجاتا ہے۔سرکارِ اقدسﷺ نےاپنی اُمّت کو15 شعبان کی رات عبادت میں گزارنےاوراس کےدن میں روزہ رکھنے کی ترغیب ارشادفرمائی ہے۔نیز اس رات میں رزّاق و رحمٰن عزوجل کی خاص تجلیوں، بخششوں اور عنایتوں کا بیان فرمایاہے۔

تجلّیات والی رات: چنانچہ’’سنن ابنِ ماجہ‘‘ میں حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسولِ عظیمﷺ نےارشادفرمایا: اِذَا کَانَ لَیْلَۃُ النَّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَیْلَھَا وَ صُوْمُوْا نَھَارَھَا، فَاِنَّ اللہَ یَنْزِلُ فِیْھَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ:اَلَامِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِیْ فَاَغْفِرَ لَہُ، اَلَا مُسْتَرْزِق فَاَرْزُقَہُ، اَلَا مُبْتَلی فَاُعَافِیَہُ، اَلَا کَذَا، اَلَا کَذَا حَتّٰی یَطْلُعَ الْفَجْرُ۔ جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اُس رات قیام کرو اور دن میں روزہ رکھوکہ رب تبارک وتعالیٰ غُروبِ آفتاب سے آسمانِ دُنیا پر خاص تجلّی فرماتاہے اور فرماتاہے: کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ اُسے بخشش دوں ، ہے کوئی روزی طلب کرنےوالا کہ اُسے روزی دوں، ہے کوئی مبتلا (یعنی مصیبت زدہ) کہ اُسےعافیت دوں، ہے کوئی ایسا، ہے کوئی ایسا اور یہ اس وقت تک فرماتاہے کہ فجر طلوع ہوجائے۔ (سنن ابن ماجہ،2/160، حدیث:1388)

پچھلی راتِیں رَحمت ربّ دِی کرے بلند آوازاں

بخشش مَنگن والِیاں کارَن کُھلا ہے دروازہ

عظمت والی راتیں: علمائے اسلام نےبھی عظمت والی راتوں میں ’’شبِ براءت‘‘ کاشُمارفرمایاہےاوران راتوں میں خاص طورپر عبادت کرنےکو مستحب قرار دیاہے۔ چنانچہنورُالاِیضاح میں ہے: نُدِبَ اِحْیَاءُ لَیَالِی العَشْرِ الْاَخِیْرِ مِنْ رَمَضَانَ وَ اِحْیَاءُ لَیْلَتَیِ الْعِیْدَیْنِ وَ لَیَالِی عَشْرِ ذِی الْحِجَّۃِ وَ لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ۔ رَمضان المبارَک کی آخری دس راتوں،عیدَین (عیدالفِطر اور عیدالاَضحیٰ) کی راتوں، ذوالحجہ الحرام کی (پہلی) دس راتوں اور نصف شعبان کی رات(شبِ براءت) کوزندہ کرنا (یعنی اِن راتوں کو عبادات میں گُزارنا)مستحب ہے۔ (نورالایضاح،ص205-206 ، مكتبة المدينه)

شبِ براءت سےمتعلق ’’دُرِّ مختار‘‘میں ہےکہ: شبِ براءَت میں شب بیداری(کرکےعبادت)کرنامستحب ہے۔ (درمختار، ج2، ص568)

لہٰذا اِس رات میں فضولیات اور گناہوں سے بچ کر فرائض و وَاجبات اور سننِ مؤکَّدہ و غیر مؤکَّدہ کی بجاآوری کےساتھ ساتھ نفلی نمازوں،تلاوتِ قرآن پاک، ذکر و دُرود،نفلی صدقات و خیرات اور فوت شُدہ عزیز و اَقارب اور دیگر مسلمانوں کے لئے فاتحہ و اِیصالِ ثواب کاخاص اہتمام کرنا چاہئے۔

مرحومین منتظر رہتےہیں: فوت شُدہ مسلمان عالمِ برزَخ میں زندوں کی طرف سےکئےجانےوالےصدقےاور دُعائےمغفرت کےمنتظر رہتے ہیں۔ چُنانچہ امام جلالُ الدین عبدالرحمن بن ابوبکر سُیوطی شافعی رحمۃُاللہ علیہ(المتوفّی911ھ) اپنی مشہورکتاب’’شرحُ الصدور‘‘میں نقل فرماتے ہیں کہ رسولِ خُدا،حبیبِ کبریاﷺ نے ارشادفرمایا:قبر میں مُردے کا حال ڈوبتےہوئےانسان کی مانند ہے جو شِدّت سےاِنتظار کرتاہےکہ باپ یا ماں یا بھائی یا کسی دوست کی دُعا اس کو پہنچےاور جب کسی کی دُعااسے پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک وہ دنیا و ما فیہا (یعنی دنیا اوراس میں جوکچھ ہے) سب سے بہترہوتی ہے۔ اللہ عزوجل قبروالوں کو ان کےزندہ مُتعلقین کی طرف سے ہَدِیَّہ کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانِند عطا فرماتاہے، زندوں کا تحفہ مُردوں کے لئے’’دعائےمغفرت کرنا‘‘ہے۔ (فردوس الاخبار،2/336،حدیث:6664)، (شعب الایمان،باب فی برالوالدین،6/203،حدیث:7905)، (شرح الصدور ’’متَرْجَم‘‘،ص518،مکتبۃالمدینۃ)

رُوحیں گھروں پر آتی ہیں: عظمت والےدِنوں اور راتوں بشمول ’’شبِ براءَت‘‘میں فوت شُدہ مسلمانوں کی رُوحیں اپنے گھروں پر آکر صدقہ و خیرات کا سوال کرتی ہیں۔اس بارےمیں اعلیٰ حضرت،امامِ اہل سنت رحمۃُاللہ علیہ ایک روایت نقل فرماتے ہیں،اُس کاترجمہ ملاحظہ ہو: ’’غرائباورخزانہ میں منقول ہے کہ مؤمنین کی رُوحیں ہر شبِ جمعہ ،روزِعید،روزِ عاشوراء اور شبِ برات کو اپنے گھر آکر باہر کھڑی رہتی ہیں اور ہر رُوح غمناک بلند آواز سے نداکرتی ہے کہ اے میرے گھر والو! اے میری اَولاد،اےمیرےقرابت دارو! صدقہ کرکےہم پر مہربانی کرو۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ،9/650،رضافاؤنڈیشن لاہور)

نیز’’خزانۃ الروایات‘‘کے حوالے سے ایک روایت نقل فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سےروایت ہے جب عید یا جمعہ یا عاشورےکادن یا شبِ برات ہوتی ہے،اَموات (فوت شُدہ افراد)کی رُوحیں آکر اپنےگھروں کےدروازوں پر کھڑی ہوتی اور کہتی ہیں:ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے،ہے کوئی کہ ہم پر تَرس کھائے،ہےکوئی کہ ہماری غربت کی یاد دلائے۔ (فتاویٰ رضویہ، 9/653،رضافاؤنڈیشن لاہور)

ہمارےقریبی رشتہ دار اوردوست و اَحباب جیسے ہی فوت ہوکر عالَمِ دُنیا سےعالَمِ برزخ کی طرف منتقل ہوتے ہیں تو آنکھوں سےاُن کےغائب اورنہاں ہونےکی وجہ سے رَفتہ رَفتہ ہم اُنہیں بُھول جاتے ہیں،لیکن یاد رکھیں۔۔۔ وہ ہمیں نہیں بھولتےاور ہماری طرف سےدعائے مغفرت اورایصالِ ثواب کے منتظر رہتےہیں۔توجس طرح ہم اپنےوالدین،اَولاد،بہن بھائی،عزیز و اَقارِب اور دوست و اَحباب وغیرہ کی دُنیوی زندگی میں اُن پر اپنا مال خرچ کرتےہیں،اُنہیں اپنا وقت اور توجہ دےکراُن کی دلجوئی کاسامان کرتے ہیں،یوہیں ہمیں چاہئےکہ ان کےدُنیاسےچلےجانےکےبعدبھی اُنہیں اپنی دعاؤں، صدقہ و خیرات اورنیکیوں پر حاصل ہونےوالےاَجر و ثواب میں شریک کرتےرہاکریں۔خصوصاً بڑےدِنوں مثلاً یومِ عرفہ(9ذوالحجہ کےدن)،یومِ عاشورا (10محرم الحرام کےدن)،عیدالفطراورعیدالاَضحیٰ وغیرہ کےدن،نیز بڑی راتوں مثلاً رَمضان شریف کی راتوں،عیدَیْن (عیدالفِطراورعیدالاَضحیٰ)کی راتوں،ذوالحجہ الحرام کی(پہلی) دس راتوں اور نصف شعبان کی رات(یعنی شبِ براءت) وغیرہ میں خوب عبادت، دعائےمغفرت اورصدقہ و خیرات کرکےاپنےمرحومین اورتمام مؤمنین کو ایصالِ ثواب کا اہتمام کرنا چاہئے۔

ہے کون کہ گِریہ کرے یا فاتحہ کو آئے

بیکس کےاُٹھائےتِری رحمت کےبَھرن پھول

(حدائقِ بخشش،ص79)

حَرَّرَہُ : ابوالحقائق راشدعلی رضوی عطاری مدنی

شبِ منگل،13شعبان المعظَّم1441ھ،مطابق6اپریل2020ء