حضرت لوط علی نبینا و علیہ الصلوة والسلام حضرت ابراہیم على نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام كےبھتیجے ہیں۔آپ على نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام سروم کے نبی تھے۔ آ پ على نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام حضرت ابراہیم خليلُ الله على نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہجرت کر کے ملکِ شام میں آئےتھے اور حضرت ابراہیم على نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے نبی بنائے گئے۔ ( نور العرفان ص255)

دنیا میں سب سے پہلے بد فعلی شیطان نے کروائی۔وہ حضرت لوط على نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی قوم میں امردِ حسین یعنی خوبصورت لڑکے کی شکل میں آیا اور ان کو ایساچسکا لگا کہ اس بُرےکام کے عادی ہوگئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرنے لگے۔ (مکاشفۃالقوب،ص76 ماخوذ اً)

حضرت لوط على نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے ان لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے جو بیان فرمایا اس کو پارہ 8سورةالاعراف آيت نمبر 80اور81میں ذکر کیا گیا ہے: ترجمۂ كنزالايمان: کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہاں میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کربلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔

قومِ لوط کی بستیاں نہایت سرسبز وشاداب تھیں، وہاں غلے اور پھل بکثرت پیدا ہوتے تھے۔ زمین کا دوسرا حصہ اس کے مثل نہ تھا۔ جابجا لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے، ایسے وقت میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا:اگر تم مہمانوں کی کثرت چاہتے ہو تو لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بد فعلی کرو! اس طرح یہ فعل ِبد انہوں نے شیطان سے سیکھا۔

جب قومِ لوط کی سرکشی اور خصلتِ بد فعلی قابلِ ہدایت نہ رہی تو الله پاک کاعذاب آگیا، چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ الصلوة والسلام چند فرشتوں کے ہمراہ امردِ حسین یعنی خوبصورت لڑکوں کی صورت میں مہمان بن کر حضرت لوط علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس پہنچےان مہمانوں کے حسن وجمال اور قوم کی بد کاری کی خصلت کے خیال سے حضرت لوط علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نہایت فکر مند ہوئے۔تھوڑی دیر بعد قوم کے بد فعلوں نے حضرت لوط علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کے مکانِ عالیشان کا محاصرہ کر لیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بد فعلی کے بُرے ارادے سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرت لوط علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے نہایت دل سوزی کے ساتھ ان کو سمجھا یا مگر وہ اپنے بد ادارے سے باز نہ آئے۔ آپ علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کو متفکر ورنجیدہ دیکھ کر حضرت جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا: یا نبى الله! آپ غمگین نہ ہوں، ہم فرشتے ہیں اور ان بد کاروں پر الله پاک کا عذاب لے کر اُترے ہیں! آپ مومنین اور اہلِ وعیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے پہلے پہلے اس بستی سے دور نکل جایئے اور خبردار! کوئی پیچھے مڑ کر بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔چنانچہ حضرت لوط علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام اپنے گھر والوں اور مومنوں کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر تشریف لے گئے۔ پھر حضرت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جاکر ان بستیوں کو زمیں پر الٹ دیا،پھر ان پر اس روز سے پتھروں کا مینہ برسا کہ قومِ لوط کی لاشوں کے بھی پرخشے اڑ گئے۔ عین اس وقت جب یہ شہر الٹ پلٹ ہورہا تھا حضرت لوط علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کی ایک بیوی جس کا نام واعلہ تھا جو در حقیقت منافقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا اور اس کے منہ سے نکلا: ہائےرے میری قوم! یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی۔ پھر عذابِ الٰہى کا ایک پتھر اس کے اوپر گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی۔بدکار قوم پر برسائےجانے والے ہر پتھر پراس شخص کا نام لکھا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا۔(ماخوذازعجائب القرآن،ص110تا112-تفسیرصاوی، 2 /691)الله پاک ہم سب اُمتِ محمدیہ کو اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صدقے نافرمانیوں سے محفوظ رکھےاور اپنے احکامات کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم